وزیراعظم بننے کے بعد سیاست دان کس کے قیدی بن جاتے ہیں؟

سینیر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کچھ بھی نیا نہیں، آج اگر کوئی سیاستدان وزیر اعظم بن کر اسٹیبلشمنٹ کا قیدی بن چکا ہے تو ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا بلکہ ہماری تاریخ 70 برس سے خود کو دوہرا رہی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کے اکثر مقبول سیاست دانوں کی ایک ہی کہانی ہے جس میں کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو زیادہ عرصہ جیل میں گزارتے ہیں یا پھر جلا وطن رہتے ہیں۔ لیکن جب یہ سیاستدان کسی مفاہمت یا خاموش معاہدے کے ذریعہ برسر اقتدار آجاتے ہیں تو پھر اپنی مفاہمت کے قیدی بن جاتے ہیں۔ یہی اس سسٹم کا کمال ہے جس میں عوامی طور پر مقبول سیاست دان وزیر اعظم بنکر بھی کسی کا قیدی نظر آتا ہے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ انہیں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے فرحت اللّٰہ بابر کی محترمہ بے نظیر بھٹو پر لکھی گئی نئی کتاب SHE WALKED INTO FIRE پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ یہ صرف ایک سابق وزیر اعظم کی کہانی نہیں بلکہ کئی سابق وزرائے اعظم کی کہانی ہے۔ بابر صاحب نے کچھ عرصہ قبل صدر آصف علی زرداری کے پہلے دور کے متعلق کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے صدر مملکت کے ترجمان کی حیثیت سے اپنے مشاہدات بیان کئے تھے۔ اُنکی دوسری کتاب اُن ایام کے بارے میں ہے جو انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے تقریر نویس اور پھر اُن کے ترجمان کی حیثیت سے گزارے۔ یہ عرصہ 1988 سے 2007 پر محیط ہے جس دوران شہید بی بی زیادہ عرصہ اپوزیشن میں رہیں ۔ یہ دراصل مائنس بینظیر فارمولے کی آنکھوں دیکھی کہانی ہے۔
فرحت اللّٰہ بابر بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے صرف ایک رات قبل "مفاہمت” نامی اپنی آخری کتاب مکمل کی اور وہ اگلے ہی روز 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر شہید کر دی گئیں۔ اس سے پہلے 1979 میں اسی راولپنڈی شہر میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ میں نے فرحت اللّٰہ باہر کی کتاب کے مطالعے کے دوران بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب بھی ساتھ کھول لی۔ کچھ واقعات کا ذکر شہید بی بی نے کافی مختصر کیا تھا۔ لیکن بابر صاحب نے کئی واقعات کی پوری تفصیل بیان کر ڈالی۔ بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب کا موضوع بہت وسیع ہے۔ انہوں نے یہ کتاب پاکستان کے حالات سے شروع کی، جہاں اُنہوں نے جمہوریت کی بحالی کیلئے ایک ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کیا لیکن یہ ڈائیلاگ صرف ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ نہیں تھا۔ ڈکٹیٹر کے پیچھے ہمیشہ کی طرح امریکا بھی کھڑا تھا۔ یہ ڈائیلاگ امریکا میں شروع ہو کر پاکستان پہنچا اور اس ڈائیلاگ کا آغاز فرحت اللّٰہ بابر کے ذریعہ ہوا جسکا ذکر بے نظر بھٹو نے اپنی کتاب میں نہیں کیا لیکن ڈائیلاگ کی ساری تفصیل بابر صاحب نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب شہید بی بی نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں مجھے بتایا تھا کہ وہ کچھ عرصے کیلئے بچوں کیساتھ دبئی شفٹ ہو رہی ہیں۔ان دنوں نواز شریف وزیر اعظم تھے اور آصف زرداری جیل میں تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس ملک قیوم کے ذریعہ آصف زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ حاصل کیا جانیوالا تھا۔ شہید بی بی کو یہ پریشانی تھی کہ اگر وہ بھی گرفتار ہو گئیں تو انکے بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا ؟ وہ بچوں کیلئے محفوظ رہائش اور تعلیم کا بندو بست کرنے دبئی شفٹ ہو گئیں ۔ کچھ ہی عرصے کے بعد انہیں جلاوطنی پر مجبور کرنیوالے نواز شریف کو بھی سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا ۔ نائن الیون کے کچھ عرصے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکا میں مقیم ایک پاکستانی کے ذریعہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ڈائیلاگ کیلئےرابطہ کیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ شہید بی بی نے خود یہ ڈائیلاگ شروع نہیں کیا تھا بلکہ اس مقصد کے لیے فرحت اللّٰہ بابر کو امریکا بھیجا گیا۔ بابر صاحب نے اپنی کتاب میں اس ڈائیلاگ کی اہم تفصیلات بیان کی ہیں۔ ڈائیلاگ کا آغاز دسمبر 2001ء میں ہوا۔فرحت اللّٰہ بابر کی بیان کردہ تفصیلات کو سامنے رکھیں تو دسمبر 2001ء میں امریکا نے پیپلز پارٹی کو بتا دیا تھا کہ 2002 ء میں الیکشن تو ہو جائینگے لیکن پاکستان میں جمہوریت نہیں آئیگی۔ جی ہاں ! فرحت اللّٰہ بابر کو امریکا میں کہا گیا کہ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو ناصرف الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ شہید بی بی 2007 تک جلا وطن رہیں گی۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ آصف زرداری بھی جیل میں رہیں گے اور اگر بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے تعاون نہ کیا توپیپلز پارٹی کو توڑ دیا جائیگا۔ فرحت اللّٰہ بابر یہ پیغام امریکا سے لیکر چلے اور دبئی پہنچے ۔ شہید بی بی کو یہ پیغام دیدیا ۔
شہید بی بی نے امریکا اور جنرل پرویز مشرف کے اس مشترکہ پیغام پر سرنڈر کرنے سے انکار کردیا۔ ڈائیلاگ کا اگلا راؤنڈ اسلام آباد میں فرحت اللّٰہ بابر اور جنرل پرویزکے قریبی ساتھی طارق عزیز کے درمیان ہوا ۔ پھر شہید بی بی کو چیرمین سینیٹ بنانے کی پیشکش کی گئی ۔ انہوں نے انکار کر دیا ۔ پھر 2002ء کا الیکشن ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کو توڑ دیا گیا ۔ 2002ء سے 2007 تک جنرل مشرف کے پاس فری ہینڈ تھا ۔ موصوف بھر پور امریکی حمایت اور ایک ربڑ سٹمپ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاکستان کو آگے لیجانے کی بجائے مزید کئی سال پیچھے لے گئے۔ 2007 ءکی وکلاء تحریک کے دباو میں جنرل مشرف نے دوبارہ بینظیر بھٹو سے ڈائیلاگ شروع کیا لیکن یہ ڈائیلاگ بھی ایک دھوکہ تھا۔ جنرل مشرف وردی اُتارنے اور الیکشن کرانے پر راضی تو ہو گئے لیکن مائنس بینظیر اور مائنس نواز شریف فارمولے کیساتھ آگے بڑھنا چاہتے تھے ۔ شہید بی بی راضی نہ تھیں ۔وہ مشرف کی مرضی کے خلاف پاکستان آئیں اور شہید کر دی گئیں۔
جنرل ضیاء بٹ نواز حکومت کے خاتمے کی وجہ کیسے بنے؟
فرحت اللہ بابر کی کتاب میں جمہوریت، عدلیہ اور میڈیا کے علاوہ امریکا کے کردار کے بارے میں بیان کردہ کئی واقعات کی آج کے واقعات سے بہت مماثلت نظر آتی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے افسوس بھی ہوتا ہے کہ جس جمہوریت کی بحالی کیلئے شہید بی بی نے اپنی جان قربان کردی وہ ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔ یہاں الیکشن تو ہو جاتا ہے مائنس ون بھی ہو جاتا مائنس ٹو بھی ہو جاتا لیکن جمہوریت پھر بھی نہیں آتی اور جمہوریت کے نام لیوا کوئی سبق بھی نہیں سیکھتے۔
