ایران امریکہ مذاکرات: پاکستانی کوششں کا مستقبل کیا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو بھی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے، بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے بعد ایران اور امریکہ بظاہر جنگ بندی کے خواہاں ضرورنظر آتے ہیں، لیکن فریقین کی جانب سے اپنی مخصوص شرائط پر اصرار اس مذاکراتی عمل کو پیچیدہ اور کشیدہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران-امریکہ رابطوں کے دوران سامنے آنے والی شرائط اور مطالبات سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فوری مفاہمت کے امکانات انتہائی کم ہیں۔جہاں امریکہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور علاقائی پراکسی نیٹ ورکس کو محدود کرنے پر زور دے رہا ہے وہیں ایران اپنی سکیورٹی، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حق پر مضبوطی سے قائم ہے،ان متضاد مطالبات کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے مابین فوری معاہدے یا مستقل جنگ بندی کے چانسز معدوم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کیلئے مطالبات کی ایک لمبی فہرست سامنے آئی ہے جسے ایران نے بیک جنبش مسترد کر دیا ہے، ناقدین کے مطابق امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی ڈیمانڈز دراصل ایک جامع دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد نہ صرف ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو علاقائی سطح پر محدود کرنا ہے بلکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرے، بیلسٹک میزائل نظام ترک کرے اور یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ جیسے گروہوں کی ہر قسم کی مالی و عسکری حمایت بند کرے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نزدیک یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں ایران کی موجودہ پالیسیز خطے میں عدم توازن اور کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے بقول ان مطالبات کے بدلے میں امریکہ نے ایران کو کچھ مراعات دینے کی پیشکش بھی کی ہے، جن میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں محدود یا مشترکہ کنٹرول شامل ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ تاہم ایران نے اس منصوبے کو یکطرفہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک یہ شرائط اس کی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور علاقائی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ اسی وجہ سے یہ منصوبہ بظاہر سفارتی حل کی ایک کوشش ہونے کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور سخت مؤقف کی وجہ سے عملی پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق فوری جنگ کے خاتمے کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی اپنی شرائط پر۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کی نظر میں یہ اقدامات نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اس کے برعکس ایران اس جنگ کو اپنے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے نہ صرف ہرجانے کا مطالبہ کررہا ہے بلکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر اپنے مکمل اختیار اور مستقبل میں کسی بھی حملے سے تحفظ کی ضمانت کا بھی متقاضی ہے، مبصرین کے مطابق یہ مطالبات اس قدر متضاد ہیں کہ ان کے درمیان فوری مفاہمت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ تاہم پابندیوں میں جزوی نرمی یا ایران کے جوہری پروگرام کی محدود نگرانی سمیت کچھ معاملات میں درمیانی راستہ نکالنا ممکن ضرور ہے لیکن مکمل ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ یا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول سمیت کئی امریکی بنیادی مطالبات ایسے ہیں جن پر کسی ایک فریق کا جھکنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ جنگ میں بطور ثالث پاکستان کے اہم کردار پر مہر ثبت کردی

عالمی ماہرین کے مطابق اس تمام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر دونوں ممالک میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ایران ماضی کے تجربات کو بنیاد بنا کر امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے، جبکہ امریکہ ایران پر یہ الزام لگارہا ہے کہ ایران مذاکرات کو وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کررہاہے۔ یہی عدم اعتماد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی ایک ایسے تعطل کی طرف اشارہ کرتی ہےجو کسی حد تک روس یوکرین جنگ سے مشابہ ہے، جہاں جنگ کے خاتمے کی خواہش تو موجود ہوتی ہے، مگر شرائط پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے تنازع طویل ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مسئلہ صرف ایک جنگ یا چند مطالبات کا نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور اعتماد کے ایک پیچیدہ توازن کا ہے۔ جب تک دونوں فریق اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہیں کرتے،پاکستان سمیت دیگر مصالحت کار ممالک کی امن کی کوئی بھی کوشش ثمر آور ثابت نہیں ہو سکتی۔

Back to top button