علی ترین بولی میں ملتان سلطانز کیوں نہیں خرید سکیں گے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ٹیم ملتان سلطانز کی دوبارہ نیلامی کے لیے 10 فروری کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے، تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ ٹیم کے سابق مالک علی ترین اس بولی میں ملتان سلطانز کو دوبارہ خریدنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پی ایس ایل کے ساتھ 10 سالہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد علی ترین نے ملتان سلطانز کو ایک ارب 37 کروڑ روپے میں خریدنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ ایسے میں جب سیالکوٹ اور حیدر آباد کی نئی فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہو چکی ہیں تو توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والی بولی میں ملتان سلطانز کی قیمت دو ارب روپے یا اس سے زائد تک جا سکتی ہے جو کہ علی ترین کی قوت خرید سے باہر نظر آتی ہے۔

پی ایس ایل کی نیلامی میں ملتان سلطانز کی فرنچائز کے حصول کے لیے پانچ کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا ہے، جن میں علی ترین بھی شامل ہیں، وہ گزشتہ برس اس فرنچائز کو چھوڑنے کے بعد ایک بار پھر اسے واپس حاصل کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔

علی ترین کے علاوہ ولی ٹیک Wali Tech اور ایم نیکسٹ Aim Next بھی نیلامی کے عمل میں شریک ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں گزشتہ ماہ حیدرآباد اور سیالکوٹ فرنچائزز کی نیلامی میں حصہ لے چکی ہیں تاہم کامیاب نہ ہو سکی تھیں۔ اس کے علاوہ سی ڈی وینچر CD Venture اور پارٹیکل ایگنائٹ Particle Ignite پی ایس ایل کی نیلامی میں شامل ہونے والی نئی کمپنیاں ہیں، جس کے باعث اس بار مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق مقررہ آخری تاریخ تک دلچسپی رکھنے والے فریقین کی جانب سے مجموعی طور پر 6 تجاویز موصول ہوئیں، جن کا پی سی بی کی بڈ کمیٹی نے تفصیلی اور شفاف انداز میں جائزہ لیا۔ ان میں سے پانچ بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ اگرچہ پی سی بی نے ملتان سلطانز کی نیلامی کی حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل 11 فروری کو ہونے والی پلیئرز نیلامی سے قبل 10 فروری کو مکمل کر لیا جائے گا۔ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ’ملتان سلطانز کی فرنچائز رائٹس میں غیر معمولی دلچسپی دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی ہے، حالانکہ گزشتہ بولی کے عمل میں بعض فریقین نیلامی شروع ہونے سے محض آدھا گھنٹہ قبل راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل تمام تکنیکی طور پر اہل بولی دہندگان کو مبارکباد دیتا ہے اور ان اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے ٹینڈر کے پورے عمل کے دوران بورڈ کے ساتھ رابطہ رکھا۔ سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ شائقین ایک اور سنسنی خیز نیلامی کے منتظر ہیں، جس کے بعد توجہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی اہم پلیئر نیلامی کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق آٹھ ٹیموں کے مالکان کی حتمی فہرست پی ایس ایل کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی۔

ادھر ملتان سلطانز کے سابق مالک اور سینئر سیاست دان جہانگیر خان ترین کے بیٹے علی ترین ڈہرکی شوگر ملز کے پلیٹ فارم کے ذریعے نیلامی کے عمل میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان کا کاروباری گروپ زراعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرگرم ہے اور ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ علی ترین نے اس مرتبہ بھی اسی کمپنی کے ذریعے بولی کی دستاویزات جمع کروائی ہیں جو گزشتہ نیلامی میں تکنیکی طور پر اہل قرار پائی تھی، تاہم انہوں نے نیلامی شروع ہونے سے چند منٹ قبل اچانک مقابلے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس موقع پر علی ترین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملتان سلطانز کے لیے ہی دوبارہ بولی لگائیں گے کیونکہ اس فرنچائز کے ساتھ ان کا طویل تعلق رہا ہے۔

علی ترین کے مطابق، ’غور و فکر کے بعد میرے خاندان اور میں نے فیصلہ کیا کہ آج کی پی ایس ایل فرنچائز نیلامی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا تعلق محض ایک کرکٹ ٹیم کی ملکیت تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی اور اس خطے کو آواز دینے کی ایک کوشش تھی جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔‘ اب اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک تازہ پیغام میں علی ترین کا کہنا ہے کہ انہیں پی ایس ایل میں متعارف کرائی گئی نئی تبدیلیاں پسند آئی ہیں، جن میں پلیئر آکشن، براہِ راست سائننگ، بہتر ریٹینشن اور ایمرجنگ رولز کے علاوہ ادائیگیوں کا شفاف نظام شامل ہے، لہٰذا وہ ہر صورت ٹیم خریدنے کی کوشش کریں گے۔

ملتان سلطانز کی بولی میں شامل ہونے والی دوسری پارٹی ولی ٹیکنالوجیز ہے، جو ایک ٹیکنالوجی پر مبنی میڈیا گروپ ہے۔ یہ کمپنی اس سے قبل پی ایس ایل کے ڈیجیٹل رائٹس حاصل کر چکی ہے اور حال ہی میں لیگ کے بین الاقوامی نشریاتی حقوق بھی اپنے نام کر چکی ہے۔ گزشتہ نیلامی کے دوران ولی ٹیکنالوجیز نے پہلے مرحلے میں ایک ارب 11 کروڑ 50 لاکھ روپے اور بعد ازاں ایک ارب 23 کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی، تاہم دوسرے مرحلے میں مزید پیش رفت نہ کر سکی۔ بولی میں شریک ایک اور پارٹی سی ڈی وینچر ہے، جو برطانوی اور پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل ایک مشترکہ کمپنی ہے اور پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی فرنچائز نیلامی کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔ اسی طرح ایم نیکسٹ بھی ملتان سلطانز کی نیلامی میں شامل ہے، جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے جدید حل فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کے مالکان نیویارک میں مقیم دو پاکستانی بھائی ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ ایم نیکسٹ نے حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ٹیموں کے لیے بھی بولیاں لگائی تھیں، جہاں اس کی آخری پیشکش ایک ارب 76 کروڑ روپے تک جا پہنچی، تاہم وہ فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

 لاہور قلندرز نے مستفیض کو6کروڑ44لاکھ میں سائن کرلیا

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 فروری کو ملتان سلطانز کی فرنچائز دو ارب روپے یا اس سے زائد میں فروخت ہونے کا قوی امکان ہے۔ یاد رہے کہ پی ایس ایل اور علی ترین کے درمیان فرنچائز معاہدہ 31 دسمبر کو ختم ہو چکا تھا۔ پی سی بی نے علی ترین سے فرنچائز فیس ایک ارب 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب 37 کروڑ روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر علی ترین نے ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر پی سی بی نے اصولی فیصلہ کیا تھا کہ ملتان سلطانز کو ایک سیزن کے لیے خود چلایا جائے گا، کیونکہ اسی دوران دو نئی فرنچائزز کی فروخت کا عمل جاری تھا۔

تاہم حیدرآباد اور سیالکوٹ فرنچائزز کی ریکارڈ مہنگی نیلامی کے بعد پی سی بی نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اور ملتان سلطانز کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ حیدرآباد اور سیالکوٹ فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو نہ صرف بورڈ کے اپنے تخمینوں بلکہ مارکیٹ کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔ لہٰذا علی ترین کے لیے اتنی مہنگی ٹیم خریدنا ممکن نظر نہیں آتا۔

Back to top button