دہائیوں کی میزبانی کے باوجود افغانی پاکستان سے ناراض کیوں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ 30 برس تک 30 لاکھ سے بھی زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کے باوجود افغانی پاکستان سے ناراض ہی رہتے ہیں، انکا کہنا یے کہ طالبان سے لے کر لبرلز تک، ہر افغانی کابل جا کر پاکستان کا مخالف کیوں بن جاتا ہے؟، یہ سوال ہر فورم پر ہی پوچھا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جہاں کوئی بحث ہو پاکستانی بڑی معصومیت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ طالبان کیلئے تو پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں۔ انہیں پناہ دی تو پھر آج وہ پاکستان کی بات کیوں نہیں مان رہے ہیں۔؟

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان کے وہ وزیر، جنہوں نے طالبان کی فتح پر جشن کے ٹویٹ کئے اور بیانات دئیے تھے، اب طالبان کو احسان فراموشی کے طعنے دے رہے ہیں۔ اس لئے آج میں نے ضروری سمجھا کہ افغانوں کے اس رویے کی وجوہات بیان کروں۔ دراصل ہم نے باری باری ہر افغان سے بے وفائی یا دشمنی کی ہے لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں ہے اور ہم ماضی میں جھانکے بغیر صرف حال میں رہ کر رائے قائم کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیں بے وفا نظر آتے ہیں۔

ماضی بعید میں یہ ہوا کہ پاکستان کے قیام کے وقت افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یہاں سے اس کشمکش کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔ میرے نزدیک دونوں ممالک کا تعلق نہ تو بھائیوں کا ہے اور نہ ہی دشمنوں کا۔ کمزور کزن کی زبان زیادہ چلتی ہے اور طاقتور کزن خاموشی سے کام لیتا ہے۔ کزن ہونے کے ناطے نہ تو پاکستان اور افغانستان چین اور پاکستان کی طرح شیر و شکر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی انڈیا اور پاکستان کی طرح دشمن بن سکتے ہیں۔ 1971 اور 1965 میں افغانستان کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ حساب برابر کرتا لیکن کزن ہونے کے ناطے افغانستان نے ایسا نہ کیا۔

ایک تو معاملے کا یہ پہلو ہے لیکن ایک اور حوالے سے بھی اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سلیم صافی کے مطابق ستر اور اسی کی دہائیوں میں افغان قوم دو حصوں میں تقسیم تھی۔ ایک حصہ خلق اور پرچم سے وابستہ تھا جبکہ دوسرا حصہ مجاہدین سے۔ اب جب پاکستان مجاہدین کا ساتھ دے رہا تھا اور ان کو پناہ دے رکھی تھی تو نتیجتاً خلق اور پرچم پارٹی سے منسلک افغان ہمارے دشمن بن رہے تھے کیونکہ ہم انکے دشمن مجاہدین کو سپورٹ کر رہے تھے۔ یوں آدھے افغان تو ہم سے مجاہدین کی وجہ سے ناراض ہو گئے۔ پھر مجاہدین آپس میں لڑپڑے لیکن غیر جانبدار رہنے کی بجائے ہم نے احمد شاہ مسعود اور دیگر مجاہد لیڈروں کی بجائے گلبدین حکمت یار کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ جب ہم احمد شاہ مسعود اور مجددی وغیرہ سے لڑنے والے حکمت یار کو سپورٹ کر رہے تھے تو وہ سب ہمارے احسانات بھول گئے اور پاکستان کو دشمن کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ گلبدین حکمت یار کے خلاف طالبان میدان میں نکلے تو پاکستان نے طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے گلبدین حکمت یار اور ان کے فالورز ہمارے مخالف بن گئے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ پھر نائن الیون کے بعد کی صورت حال سے مجبور ہو کر پاکستان نے طالبان کا ساتھ چھوڑ دیا جسے طالبان اپنے ساتھ بڑی بے وفائی قرار دے رہے ہیں اور وہ سب بھی ہم سے ناراض ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پاکستانی مفادات کے خلاف کام شروع کیا تو پاکستان نے درپردہ طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا لیکن ہماری امریکہ کو سپورٹ اعلانیہ جبکہ طالبان کو سپورٹ خفیہ تھی۔ یوں دنیا بھی ہم سے ناراض رہی اور طالبان بھی۔ ایک اور غلطی جس کا ہم ارتکاب کرتے رہتے ہیں یہ ہے کہ ہم افغانوں کو کابل جانے کے بعد بھی ان نظروں سے دیکھتے ہیں جن سے پاکستان میں دیکھا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہاں پر وہ پناہ گزین اور وہاں پر حکمران ہوتے ہیں۔ جو بھی افغانستان کا حکمران بن جاتا ہے تو وہ یہ تاثر دینے کیلئے کہ وہ پاکستان کا آدمی نہیں، پاکستان کے خلاف بولنے لگتا ہے تاکہ افغان عوام اسے خود مختار سمجھیں۔ دوسری طرف پاکستانی اسے ہجرت کے دنوں کے احسانات کے طعنے دے کر تحکمانہ انداز میں بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

سلیم صافی کے بقول موجودہ حالات کو دیکھ لیجئے۔ جو لوگ افغان طالبان کی آمد سے بے گھر ہو گئے اور دنیا بھر میں پھیل گئے وہ طالبان کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں اور اپنی حکومت اور ملک سے بے دخلی کیلئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یوں وہ سب بھی پاکستان کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ طالبان کو دفاعی پوزیشن پر لے آئے ہیں اور ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ افغانوں پر ثابت کریں کہ وہ پاکستان کے کٹھ پتلی نہیں بلکہ آزاد اور خود مختار حکمران ہیں۔ غور سے دیکھا جائے تو جو مہاجرت کے دنوں میں پاکستان کے زیادہ قریب رہا وہ زیادہ اس کے خلاف بول رہا ہے تاکہ ان کے اوپر سے الزام ختم ہو۔

دوسری طرف پاکستان نے ان کی فتح کا جشن منا کر ان کی پوزیشن کو اپنے لوگوں میں مزید مشکوک بنایا۔ اوپر سے ٹی ٹی پی کے معاملے پرچٹ منگنی پٹ بیاہ والا رویہ اپنایا۔ جنرل فیض حمید خود بھی گئے اور صوبائی حکومت کا ایک وفد بھی بھیجا۔ انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ وہ ٹی ٹی پی والوں کو بندھے ہاتھوں کے ساتھ پاکستان کے حوالے کر دیں گے لیکن یہ نہیں سوچا کہ اگر پاکستان نے طالبان کی مدد کی ہے تو ٹی ٹی پی والوں نے ان کے لئے جانیں دی ہیں۔ وہ ان کے ساتھ نظریاتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کے امیر المومنین کی بیعت کر چکے ہیں۔ افغان طالبان اگر اس معاملے میں فوری پاکستان کو ڈیلیور کرتے تو ان پر پاکستان کے کٹھ پتلی ہونے کا الزام مزید پختہ ہو جاتا۔ دوسری طرف اس وقت ان کا کنٹرول بھی اتنا مضبوط نہیں ہوا تھا اور شاید وہ چاہتے بھی تو ٹی ٹی پی والوں کو پاکستان کے حوالے نہیں کر سکتے تھے۔ اس وقت بھی طالبان اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ٹی ٹی پی والوں کو ہاتھ سے پکڑ کر پاکستان کے حوالے کر دیں لیکن ٹی ٹی پی والے امارات اسلامی کے اثر سے مکمل آزاد بھی نہیں کیونکہ انہوں نے امیرالمومنین کی بیعت کر رکھی ہے۔

Back to top button