اپنا صوبہ تباہی کا شکار لیکن آفریدی سندھ اور پنجاب کے دوروں پر

امن و امان کی مخدوش صورتحال، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور گہرے ہوتے مالی بحران جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پنجاب اور سندھ کے دورے سخت عوامی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے نازک وقت میں، جب صوبہ خیبرپختونخوا بدترین بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہے، وزیراعلیٰ کے بین الصوبائی دورے کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ مزید برآں، پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور کارکنان کے پرتشدد رویّے نے نہ صرف پارٹی کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ سیاسی پیش گوئیوں اور قیاس آرائیوں میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق ایک طرف صوبے کو درپیش مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعلٰی تمام امور چھوڑ کر عمران خان کی رہائی کیلئے ممکنہ احتجاجی تحریک کیلئے پنجاب اور سندھ کے دوروں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی کا طرز عمل اس بات کا غماز ہے کہ انہیں عوامی خدمت سے زیادہ عمران خان سے وفاداری نبھانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں عوام کے دکھ، تکلیف اور مصائب سے کوئی سروکار نہیں ان کی صرف اتنی سی خواہش ہے کہ کسی طرح عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسی مقصد کیلئے وہ سندھ اور پنجاب کے دوروں کے دوران تڑیاں لگانے کے ساتھ ساتھ دربدر ترلے منتیں کرنے نظر آتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کی طرح صوبائی معاملات پر توجہ دینے کی بجائے اپنا بیشتر وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے تگ ودو کرنے اور احتجاجی جلسوں و جلوسوں میں شرکت میں گزارتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو درپیش سنگین مسائل اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود وزیرِ اعلیٰ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی بجائے عمران خان سے ملاقات کے لئے نئے سے نئے پاپڑ بیلنے میں صرف کرتے ہیں۔ حکومتی امور پر عدم توجہی اور صوبے میں مسلسل عدم موجودگی پر سہیل آفریدی سخت عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا اس وقت عملی طور پر ’’لاوارث صوبے‘‘ کا منظر پیش کر رہا ہے، کیونکہ صوبائی قیادت مقامی مسائل کے حل کے بجائے اپنا بیشتر وقت پنجاب اور سندھ کے احتجاجی دوروں اور اسلام آباد کے سیاسی میلوں میں گزار رہی ہے۔ ان کے مطابق اسی رویے کی وجہ سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عوامی مسائل مسلسل شدت اختیار کر رہے ہیں۔
مبصرین کے بقول سہیل آفریدی نے جب سے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے ان کی پہلی ترجیح خیبرپختونخوا کے عوام کی بجائے صرف عمران خان ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ’ہفتے میں پانچ ورکنگ ڈے ہوتے ہیں سہیل آفریدی ہفتے کے 5 ورکنگ ڈیز میں سے تین دن اڈیالہ کے باہر گزارتے ہیں، جبکہ گزشتہ دو تین ہفتوں سے تو وہ پنجاب اور سندھ کے دوروں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ سہیل آفریدی کی پارٹی معاملات میں بےپنا مصروفیات سے صوبے کے معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں‘۔ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں، حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے عوام میں بددلی پھیل رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا عمران خان کے خلاف کھلا اعلان بغاوت
ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کو امن و امان کے علاوہ بے روزگاری اور معیشت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اگر اب بھی گڈ گورننس پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔‘ ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت تمام تر توانائیاں صرف عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقات کے لیے خرچ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کا واحد ایجنڈا عمران خان کیلئے ریلیف کی فراہمی اور ان کی رہائی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی یا تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے احتجاجی، قانونی یا عدالتی، کوئی بھی حربہ اختیار کر لیا جائے،ان کی عمران خان سے اس وقت تک ملاقات ممکن نہیں جب تک فوجی اسٹیبلشمنٹ براہ راست اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کے مطابق عمران خان تک رسائی کے تمام راستے اس وقت ایک ہی ادارے کے فیصلے سے مشروط ہیں،عدلیہ سے لے کر سول انتظامیہ تک کوئی بھی اس حد سے آگے جانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لئے سہیل آفریدی کی پنجاب اور سندھ کے دوروں کے نام پر ٹامک ٹوئیاں عمران خان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔
