بلوچ لبریشن آرمی کے حملے جھنجھلاہٹ کا اظہار کیوں ہیں؟

بلوچ لبریشن آرمی کے حملے جھنجھلاہٹ کا اظہار کیوں ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے کہا ہے کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 شہروں پر بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گرد حملے کسی مزاحمتی تحریک کی کارروائی نہیں تھے بلکہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کی گھبراہٹ زدہ یلغار تھے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا واضح اعلان تھیں کہ بی ایل اے اب لڑ نہیں رہی بلکہ جھنجلاہٹ میں چیخ رہی ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز بلوچستان میں بیک وقت مختلف شہروں اور مقامات پر ہونے والے حملے بظاہر پریشان کن اور کسی حد تک سرپرائز کا عنصر لیے ہوئے تھے، تاہم چند ہی گھنٹوں میں صورتحال تبدیل ہو گئی جب سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر کنٹرول سنبھال لیا۔ ان کے مطابق متعدد جگہوں پر حملہ آور مارے گئے جبکہ باقی دہشت گردوں کو فرار ہونا پڑا۔

عامر خاکوانی نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ان حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا اور صوبائی حکومت کی رٹ کو وقتی طور پر چیلنج درپیش ہوا، تاہم فورسز اور عسکری منصوبہ سازوں کے لیے یہ واقعات کئی اہم پہلوؤں کو واضح کر گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے یہ اندازہ ہو گیا کہ دہشت گردوں کی قوت کہاں کہاں باقی ہے اور ان کے حملوں کا پیٹرن کیا ہے۔

عامر خاکوانی نے اس بات کو تشویشناک قرار دیا کہ اس بار کم از کم دو مقامات پر خواتین حملہ آوروں کی موجودگی سامنے آئی، جن میں سے ایک نے خودکش حملہ بھی کیا۔ ان کے مطابق ماضی میں اگرچہ دو مواقع پر خواتین خودکش حملہ آور استعمال کی گئی تھیں، مگر اس بار یہ نیا رجحان سامنے آیا کہ خواتین حملہ آور باقاعدہ گوریلا گروپس کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر آئیں اور کارروائی کی ویڈیوز بھی بنوائی گئیں۔

عامر خاکوانی کے مطابق ان حملوں کو سمجھنے کے دو زاویے ہیں۔ ایک جذباتی زاویہ، جس میں کوئی فرد سیاسی یا لسانی محرومیوں کے احساس کے تحت ریاستی مؤقف کو مکمل طور پر رد کر کے بی ایل اے کے بیانیے کو قبول کر لیتا ہے۔ انکے بقول یہی وہ نفسیاتی فضا ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں برین واشنگ کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم انہوں نےکہا کہ دوسرا اور درست طریقہ یہ ہے کہ حملوں کے بعد ٹھنڈے دل اور غیرجذباتی انداز میں صورتحال کا تجزیہ کیا جائے۔

خاکوانی کے مطابق اگر غیر جانبدارانہ اور بے لاگ تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ بالکل واضح ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی کارروائیاں کسی مزاحمتی تحریک کا حصہ نہیں تھیں بلکہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کی گھبراہٹ زدہ یلغار تھیں۔
انہوں نے کہا کہ گوریلا جنگ حکمت عملی، صبر اور عوامی حمایت سے لڑی جاتی ہے، خوف کے ذریعے نہیں۔ ان کے بقول جو تنظیم خوف کو ہتھیار بنا لے، وہ دراصل اپنی سیاسی موت خود لکھ دیتی ہے۔

عامر خاکوانی کا کہنا تھا کہ بی ایل اے خود کو حریت پسند ٹھیک قرار دیتی ہے، مگر 31 جنوری کو جو کچھ ہوا وہ آزادی کی جنگ نہیں بلکہ عوام کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز بلوچستان میں جو مناظر دیکھے گئے وہ گوریلا وارفیئر نہیں بلکہ دہشت گردی کے کلاسیکی نمونے تھے، جن میں سرکاری افسران کے اغوا کی کوششیں، انفراسٹرکچر پر حملے، آگ لگانے کے واقعات اور دھماکے شامل تھے۔ انکے مطابق بی ایل اے نے ان کارروائیوں سے خود یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستانی ریاست سے نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے سے لڑ رہی ہے۔ خاکوانی نے واضح کیا کہ ایسی لڑائیاں کبھی نہیں جیتی جاتیں۔ ان کے مطابق گوریلا تحریکیں اس وقت بکھر کر اور شدت کے ساتھ حملے کرتی ہیں جب ان کے پاس نہ عوامی حمایت باقی رہتی ہے اور نہ کوئی سیاسی راستہ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بی ایل اے کی حالیہ کارروائیاں اسی مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں زیادہ شور، کم کنٹرول اور تقریباً صفر اینڈ گیم نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کا خیال تھا کہ شاید وہ حملوں کے بعد 24 سے 48 گھنٹوں تک اپنا کنٹرول قائم رکھ سکے گی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق اس ناکام ایڈونچر کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، ان کے حملوں کا پیٹرن بے نقاب ہو گیا اور اب وہ اس نوعیت کے بڑے حملے بار بار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ خاکوانی کا کہنا ہے کہ ایسے حملے کلاسیکل گوریلا وارفیئر میں ایک بڑی غلطی اور ناکامی تصور کیے جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بی ایل اے ایسے حملوں سے خود کو نمایاں کرنا چاہتی ہو، مگر زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ اس کے ہینڈلرز کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ براہِ راست عوام کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے خوف پھیلتا ہے اور خوف ہمیشہ گوریلا تنظیموں کے خلاف جاتا ہے۔ ان کے بقول عوامی حمایت کے بغیر کوئی گوریلا تحریک زندہ نہیں رہ سکتی اور جب گوریلا دہشت گرد بن جائے تو اس کی قبر وہی عوام کھودتے ہیں جن کے نام پر وہ لڑنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

ریاست کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے عامر خاکوانی نے کہا کہ ریاست کا مسئلہ اختلافِ رائے نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کا جواب ہمیشہ طاقت ہی ہوتا ہے۔ انکے مطابق جو گروہ عوام کے تحفظ، روزگار اور ریاستی نظم کو نشانہ بنائے وہ مزاحمت نہیں بلکہ بغاوت کے نام پر جرم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے پاکستانی ریاست وقتی طور پر دباؤ میں آ سکتی ہے مگر اس کی سماجی جڑیں کسی بھی گوریلا گروہ سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ عامر خاکوانی کے مطابق بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں، کیونکہ جو دہشت گرد گروہ سرکاری افسران کو اغوا کرے، انفراسٹرکچر جلائے اور عام لوگوں کے تحفظ اور روزگار کو نشانہ بنائے، وہ کسی صورت مزاحمتی گرہ نہیں کہلا سکتا۔

عامر خاکوانی کے مطابق بی ایل اے نے اپنی کارروائیوں سے خود ثابت کر دیا ہے کہ اس کی جنگ ریاست کے خلاف نہیں بلکہ معاشرے کے خلاف ہے، اور جو جنگ معاشرے سے ہو اس کا فیصلہ تاریخ بہت جلد سنا دیتی ہے۔ انکے بقول بلوچستان کے دہشت گرد گروہوں کو ہارنا ہی پڑے گا اور یہ تاریخ کا آزمودہ اصول ہے جس سے بی ایل اے بھی مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔

Back to top button