جھوٹے اینکرز اور سیاستدان سوشل میڈیا پرزیادہ مقبول کیوں ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا نے کہا ہے کہ ایک ٹی وی شو میں اپنے 278 بندے مروا کر بھی تحریک انصاف کی قیادت کو شکایت ہے کہ انہیں اظہار کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ایسے میں سوال تو بنتا ہے کہ صبح شام جھوٹ کی دکانیں سجانے اور کامیابی سے چلانے والے یوتھیوں کو اور کتنی آزادی چاہیے؟ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا پر بھی اسوقت جھوٹ کی فیکٹریاں کھل چکی ہیں۔ جو سیاستدان اور اینکر جتنا بڑا جھوٹا ہے وہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اتنا ہی ذیادہ مقبول ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے عروج نے بڑے بڑے ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاپولر جرنلزم کریں۔ وہ سچ جھوٹ کے چکر میں نہ پڑیں‘ بس وہ بات کریں جو لوگ سننا چاہتے ہیں اور سن کر انکی واہ واہ‘ اور بلے بلے کریں اور تالیاں بجائیں۔ ان کے شوز کو ریٹنگز ملیں‘ چاہے پورا ملک جل ہی کیوں نہ جائے۔ انہیں پرواہ نہیں۔ ایک نیا دن اور نئی تالیاں۔ بندے کو ہر روز داد اور واہ واہ کا چسکا پڑ جائے تو پھر وہ کہاں رکتا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ انسان کے اندر کی نرگسیت اسے چین نہیں لینے دیتی کہ وہ دوسروں پر ثابت کرے کہ وہ کتنا مہان انسان ہے۔ وہ سب سے ٹکر لے سکتا ہے۔ وہ کتنے عظیم خیالات کا مالک ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ اپنی ذات اور شخصیت منوانے کے چکر میں لوگوں کی واہ واہ کا قیدی بن جاتا ہے‘ جس سے پھر وہ کبھی باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کی خوراک سوشل میڈیا پر ہر لمحے داد سمیٹنا ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے کہ آج وہ کون سی ایسی جھوٹی سچی بات کرے جس کے بعد ہر طرف سے داد کے ڈونگڑے برسائے جائیں۔ اب اس کا کھانا پینا سونا جاگنا سب کچھ سوشل میڈیا اور لوگوں کی اس کے بارے میں اچھی بری رائے کے مرہونِ منت ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ چند دن پہلے ایک سوشل میڈیا فورم پر ایلون مسک کے ایک بیان پر بات ہو رہی تھی کہ روایتی پرنٹ اور ٹی وی کا میڈیا ختم ہوگیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ اب سوشل میڈیا ہی نئی صحافت ہے۔ اب سوشل میڈیا پر موجود ہر بندہ صحافی ہے۔ اسے اب کسی ٹی وی اخبار کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ بیان ہے۔ برسوں پہلے میرا خیال تھا کہ سوشل میڈیا آنے کی وجہ سے عام انسان انفارمیشن کے ذریعے خود کو اتنا طاقتور کر لے گا کہ اسے بیوقوف بنانا آسان نہیں رہے گا۔ وہ ذہنی اور سماجی طور پر ترقی کرے گا اور ہم ایک بہتر دنیا میں رہیں گے جہاں عقل کی حکومت ہو گی۔ دانائی کا راج ہوگا۔
رؤف کلاسرپ کہتے ہیں کہ میں روایتی طور پر انفارمیشن کو ایک طاقت سمجھتا آیا ہوں۔ میں چونکہ خود صحافی ہوں لہٰذا خبر اور انفارمیشن کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ میں نے عمر بھر کوشش کی ہے کہ دانستہ طور پر ایسی انفارمیشن یا خبر شیئر نہ کی جائے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔ کئی بار ایسا ہوا کہ بڑی بڑی خبریں ہاتھ لگیں لیکن کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ڈراپ کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کو یقین تھا کہ وہ سچی خبریں ہیں لیکن پھر بھی انہیں بریک نہ کیا کہ کل کو اسے چیلنج کر دیا گیا تو کیا یہ جواب دوں گا کہ فلاں صاحب نے بتائی تھی۔ وہ فلاں صاحب کہیں گے مجھے تو فلاں نے بتائی تھی اور وہ فلاں صاحب کہیں گے کہ مجھے فلاں نے بتائی تھی۔
مگر سوشل میڈیا ایسی جناتی طاقت بن کر اُبھرا ہے جس نے عام انسان کی آواز کو طاقت تو دی ہے‘ وہیں اس نے جھوٹ‘ فیک نیوز اور پروپیگنڈا کو بھی اگلے لیول تک پہنچا دیا ہے۔ مزے کی بات ہے عام انسان ایک دوسرے کو گھڑی گھڑائی‘ جعلی خبروں‘ فوٹو شاپ‘ جھوٹ سے ایک دوسرے کو الو بنا رہے ہیں۔ ایسی ایسی احمقانہ باتوں اور پوسٹس کے ہزاروں لائیکس اور شیئر ز ہورہے ہیں کہ بندہ حیران ہو جاتا ہے کہ ہمارا آئی کیو لیول یا کامن سینس کتنا ہے۔ چند ذہین اور چالاک لوگ ان سادہ لوح لوگوں کی سادگی یا لاعلمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر آج کے دور میں بھی ہمیں بیوقوف بنانا آسان ہے تو کچھ صدیاں پہلے اس خطے کی کیا حالت ہوگی اور کیسے کیسے لطیفے ہوتے ہوں گے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ دوسری طرف ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک فرماتے ہیں کہ روایتی میڈیا ختم ہوچکا اور اب ہر بندہ جو سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے وہ خود میڈیا ہے۔ وہ خود رپورٹر‘ خود صحافی‘ اینکر اور خود نیوز میکر اور بریکر ہے۔ آج پانچ ارب لوگ سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔اب ذرا تصور کریں جس معاشرے میں آپ پانچ ارب صحافی‘ نیوز میکرز اور بریکرز پیدا کررہے ہیں وہاں کیسا معاشرہ جنم لے گا؟ کس کس قسم کے جھوٹ نہیں پھیلیں گے تاکہ لوگ فالورز بنیں‘ فیس بک پیج کو لائیک کریں‘ شیئر کریں‘ ری ٹویٹ کریں‘ ویوز دیں تاکہ ڈالرز کمائے جاسکیں۔ تو وہاں کیا کیا دنگل اور فسادات ہوں گے‘ لوگ مریں گے یا معاشرے تباہ ہوں گے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ ہم لوگ حال ہی میں لندن کی فیک نیوز سے پھوٹنے والے فسادات بھول گئے ہیں۔ اب ہم لوگ چند دنوں سے وہ 278 لاشیں سوشل میڈیا پر ڈھونڈ رہے ہیں جو بقول لطیف کھوسہ بلیو ایریا میں پڑی تھیں اور مل نہیں رہیں‘ سوال یہ ہے کہ ان 278 لاشوں کو آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی۔ الٹا سب بضد ہیں کہ تین سو لاشیں ملیں یا نہ ملیں لیکن پاپولر رہنا ہے تو آپ نے ماننا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں تین سو بندے مارے گئے جبکہ بشری بی بی کی زیر قیادت احتجاجیوں کے فرار کے ایک گھنٹے بعد اسلام آباد میں لائف نارمل ہو چکی تھی۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ 278 لاشیں گرنے کا جھوٹا پروپگینڈا کرنے والے ٹی وی اینکرز اور سوشل میڈیا انفلونسرز نے سبھی سوشل میڈیا پر کئی چن چڑھانے ہیں۔ لیکن انکی شروعات اسلام اباد کے ڈی چوک سے ہوچکی ہے۔
