دریائے سندھ میں غیر ملکی دیدہ زیب مچھلیوں سے ماہی گیر پریشان کیوں؟

دریائے سندھ میں غیر ملکی خوبصورت مچھلیوں کی موجودگی نے ماہی گیروں اور ماہرین کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ کیا شیشے کے ایکویریم میں تیرتی دلکش اور رنگ برنگی مچھلیاں واقعی پاکستان کے قدرتی آبی وسائل کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں؟ دریائے سندھ سے حالیہ دنوں میں جنوبی امریکہ کے دریائے ایمیزون سے تعلق رکھنے والی سیل فن کیٹ فش کے ملنے کے بعد یہ سوال ایک بار پھر سنجیدہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ دریائے سندھ سے اس غیر مقامی مچھلی کی دریافت نے ماہرینِ ماحولیات، ماہی گیروں اور متعلقہ اداروں میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیل فن کیٹ فش کا تعلق پاکستان کے قدرتی آبی نظام سے نہیں بلکہ یہ عموماً شوقیہ طور پر گھریلو ایکویریم میں رکھی جاتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض افراد نے نادانستہ یا جان بوجھ کر اس مچھلی کو دریاؤں میں چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں یہ قدرتی آبی ماحول کا حصہ بن گئی۔ جیسے ہی دریائے سندھ میں اس مچھلی کی موجودگی کی خبر سامنے آئی، مقامی ماہی گیروں میں بے چینی پھیل گئی، کیونکہ یہ مچھلی مقامی انواع کی خوراک اور افزائش کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ غیر مقامی مچھلیاں عموماً تیزی سے افزائش پاتی ہیں اور مقامی آبی حیات کے لیے عدم توازن کا باعث بنتی ہیں، جس سے نہ صرف قدرتی ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں ماہی گیری سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیل فن کیٹ فش کی موجودگی کو محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ماحولیاتی انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر واقعی سیل فن کیٹ فش جیسی غیر ملکی انواع پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر میں افزائشِ نسل کرنے لگی ہیں تو اِس کے نہایت سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ یہ مچھلیاں خوراک، جگہ اور افزائش کے معاملے میں مقامی مچھلیوں سے سخت مقابلہ کرتی ہیں، جس کے باعث قیمتی مقامی اقسام آہستہ آہستہ ختم ہو سکتی ہیں اور اس سے مستقبل میں مقامی آبی حیات کے لیے مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔‘
تاہم ورلڈ وائلڈلائف فنڈ ڈبلیو ڈبلیو ایف سے وابستہ آبی حیات کے امور کے ماہر محمد معظم خان اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق دریائے سندھ سے ’صرف ایک یا دو مچھلیوں کے ملنے سے فوری طور پر کسی بڑے ماحولیاتی بحران کا اعلان کرنا قبل از وقت ہے۔‘ ان کے مطابق ہر غیر ملکی مچھلی لازمی طور پر حملہ آور نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر خبر سائنسی بنیادوں پر دُرست ثابت ہوتی ہے۔ ویسے بھی سیل فن کیٹ فش بنیادی طور پر ایکویریم کی صفائی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مچھلی کا ایکویریم کی صفائی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ یہ مچھلی اپنی خوب صورتی کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں شوقیہ پالی جاتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ غیر ذمہ دارانہ طور پر ان مچھلیوں کو ندی نالوں یا دریاؤں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ جس سے کسی دریا میں اکا دکا سیل فن کیٹ فش دیکھی جا سکتی ہیں تاہم کسی مچھلی کے صرف پائے جانے اور اس کے باقاعدہ طور پر افزائش نسل کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے، جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔‘ ’اگر کسی مچھلی کی افزائش نسل، آبادی میں اضافہ اور مقامی انواع پر منفی اثرات کے واضح ثبوت مل جائیں تو یقیناً اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔‘ تاہم محض ایک واقعے کو بنیاد بنا کر پورے آبی نظام کے تباہ ہونے کی پیش گوئی کرنا عوام میں غیر ضروری بے چینی پیدا کرتا ہے۔‘
بلوچستان میں دہشت گردوں کے بینکوں پر حملے اور لوٹ مار
دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان میں ایکویریم کی تجارت تقریباً بغیر کسی مؤثر نگرانی اور ضابطہ کاری کے جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ملکی مچھلیوں کی درآمد، افزائش اور فروخت کے لیے نہ تو واضح قوانین موجود ہیں اور نہ ہی کوئی مربوط قرنطینہ یا جانچ پڑتال کا نظام قائم ہے، جس کے باعث مستقبل میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ ماہر ماحولیات معظم خان بھی اس نکتے سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایکویریم کے شوقین افراد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مچھلی کو قدرتی آبی ذخائر میں چھوڑ دینا ہمدردی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ماحولیاتی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے، کیونکہ اس عمل سے مقامی آبی حیات اور قدرتی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی انواع کی درآمد و پھیلاؤ پر مؤثر نگرانی، سائنسی تحقیق اور عوامی آگاہی مہمات کو سنجیدگی سے اپنائیں۔ آبی ماحولیاتی مسائل کا حقیقی اور دیرپا حل تحقیق پر مبنی فیصلوں، مضبوط نگرانی کے نظام، عوامی شعور کی بیداری اور متوازن پالیسی سازی میں مضمر ہے، تاکہ نہ تو قدرتی آبی وسائل کو نقصان پہنچے اور نہ ہی ہر نئی دریافت کو قیامت کا پیش خیمہ بنا کر پیش کیا جائے۔
