KP میں لڑکیوں کی موسیقی، رقص اور موبائل پر پابندی کیوں؟

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے کالجز کی تقریبات کے دوران موسیقی، رقص اور موبائل فون پر پابندی کا فیصلہ سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے جہاں ایک طرف حکام کی جانب سے اس اقدام کا بھرپور دفاع کیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب ناقدین اسے خواتین کی آزادی پر ایک اور قدغن اور تحریکِ انصاف کی ’’یوتھ ایمپاورمنٹ پالیسی‘‘، مثبت غیر نصابی سرگرمیوں اور جدید تعلیم کے دعوؤں کے صریح منافی قرار دے رہے ہیں مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں تحریکِ انصاف کی حکومت خود نوجوانوں، ثقافت اور طلبہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بیانات دیتی رہی ہے۔ تاہم وائرل ویڈیوز، سماجی دباؤ اور ’روایات‘ کے نام پر عائد کی گئی اس پابندی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ اقدام واقعی طالبات کے تحفظ کے لیے ہے یا صوبے میں خواتین کی تعلیم، آزادی اور ریاستی ترجیحات سے متعلق یا پی ٹی آئی کی پالیسیوں میں ایک واضح تضاد کی علامت؟

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں خواتین کالجز میں ویلکم پارٹی، فیئر ویل، سپورٹس گالا، کلچرل فنکشنز اور اسی نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کے لیے پہلے سے موجود ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ایسی تمام سرگرمیاں جن میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ یا اسی نوعیت کی پرفارمنسز شامل ہوں گی، ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کالج اوقات اور تقریبات کے دوران موبائل فون کے استعمال اور کسی بھی قسم کی ویڈیوز یا تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر کپر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کالج کے احاطے میں ویلکم، فیئرویل پارٹی یا پھر کلچرل شو بغیر اجازت منعقد کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور ڈائریکٹویٹ آف ہائر ایجوکیشن سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خواتین کے کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ یا اس قسم کی کسی بھی پرفارمنس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔نئے قواعد و ضوابط کے تحت طالبات کے لیے تقریب میں شرکت کے لیے یونیفارم پہننا لازمی ہوگا جبکہ تقریبات کی ویڈیوز یا تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کیا جائے گا۔ محکمۂ اعلٰی تعلیم نے ہدایت جاری کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر تمام تقریبات معاشرتی اقدار اور ثقافت کے مطابق منعقد کی جائیں گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے کالج کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کالجز میں تقریبات پر پعائد پابندیوں بارے جاری نوٹیفیکیشن منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ متعدد طالبات اور خواتین نوٹیفکیشن پر سوالات اٹھاتی نظر آتی ہیں کہ حکومتی پابندی صرف گرلز کالجز تک کیوں محدود ہے۔ بی ایس کی طالبہ لائبہ خان کے مطابق اگر ایس او پیز واقعی سب کے لیے ہیں تو نوٹیفیکیشن میں لڑکوں کے کالجز کا بھی واضح ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اگر مسئلہ صرف موبائل فون اور ویڈیوز کا تھا تو اس کا حل مکمل تقریبات پر پابندی نہیں بلکہ ریکارڈنگ کے خلاف مؤثر اقدامات ہو سکتے تھے۔

تاہم مبصرین کے مطابق حکومتی نوٹیفیکیشن بارے سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل منقسم نظر آتا ہے کچھ افراد اسے نظم و ضبط اور طالبات کے تحفظ کے لیے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر نے اسے خواتین کے خلاف امتیازی رویے اور ان کی زبان بندی کی ایک اور حکومتی کاوش قرار دیا ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ’خواتین کے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دیں، خواتین صرف آپس میں بھی کوئی موسیقی وغیرہ نہ سن سکیں۔ حد ہو گئی ہے۔ حکومت کو اتنا ہی اخلاقیات کا خیال ہے تو وہ مردوں پر بھی پابندیاں عائد کرے۔‘ جبکہ نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی کی رہنما بشری گوہر نے لکھا کہ ’حکومت کو یہ پابندی عائد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا یہ پابندی صرف خواتین کے لیے ہے اور کیا حکومت نے طالبان سوچ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘

بلوچستان جل رہا ہے لیکن لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر

دوسری جانب تعلیمی ماہرین بھی اس فیصلے کو تنقیدی نظر سے دیکھتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی ادارے صرف کتابی تعلیم تک محدود نہیں ہونے چاہیے کیونکہ غیر نصابی سرگرمیاں طالبات کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔حالانکہ تحریکِ انصاف ماضی میں خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کے لیے ثقافتی سرگرمیوں، کھیلوں کے فروغ اور طلبہ کی مثبت مصروفیات کو اپنی کامیابیوں میں شمار کرتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق حالیہ پابندی نہ صرف ان دعوؤں سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔  مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا طالبات کے تحفظ کے لیے آزادی اور اظہار کی جگہ محدود کرنا ہی واحد حل ہے، یا ریاست کو ایسے متوازن اقدامات کرنے ہوں گے جو ایک طرف تحفظ یقینی بنائیں اور دوسری جانب تعلیم، شخصیت سازی اور خواتین کے بنیادی حقوق کو بھی متاثر نہ کریں؟ ناقدین کے بقول سمجھ نہیں آتا کہ حکومت نے صرف طالبات پر ہی یہ پابندیاں کیوں لگائی ہیں۔ حکام کو سمجھنا چاہیے کہ پابندیوں کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں بلکہ اس سے طالبات کی خوداعتمادی اور سماجی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

Back to top button