پاکستانی عوام کو چونا لگانے والے انسانی سمگلرز قابو کیوں نہیں آ رہے؟

 

 

 

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مربوط کارروائیوں کے دعوؤں کے باوجود پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندا زوروشور سے جاری ہے۔ حالیہ دنوں کراچی ائیر پورٹ پر ایران جانے والے ایک مسافر سے بڑی تعداد میں پاکستانی پاسپورٹس کی برآمدگی نے ملک میں انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات، سفری دستاویزات کی دھاندلی اور سادہ لوح شہریوں کے استحصال کے سنگین مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

ایک عام مسافر سے متعدد پاکستانی پاسپورٹس کی برآمدگی کا کیس اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ برآمد شدہ دستاویزات اور ملزم کے ابتدائی بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی انفرادی کارروائی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم گروہ سرگرم ہے جو بڑے پیمانے پر نوجوانوں اور مزدور طبقے کو غیرقانونی راستوں کے ذریعے بیرون ملک بھجوانے میں ملوث ہے۔پاسپورٹس کے ساتھ ساتھ ملزم کے پاس ایرانی ویزا ایپلیکیشن فارم اور جعلی ڈرائیونگ لائسنسز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر انسانی سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔‘ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایف آئی اے کی چھاپہ مار کارروائیوں، ائیرپورٹس پر سخت چیکنگ اور بارڈرز پر سختی کے باوجود پاکستان میں انسانی سمگلر اب تک اتنے متحرک کیسے ہیں؟

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت، بے روزگاری اور بیرون ملک بہتر معاشی مواقع کی خواہش انسانی سمگلروں کو سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ یہ ایجنٹ مختلف علاقوں کے سادہ لوح افراد کو بہتر مستقبل، زیادہ آمدن اور بیرون ملک آسان زندگی کے خواب دکھا کر ان سے بھاری رقم بٹورتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو ایجنٹ، ویزا کنسلٹنٹ یا بیرون ملک بھجوانے والے ماہر کے طور پر پیش کر کے عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔

انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ عام طور پر ایسے علاقوں کا رخ کرتے ہیں جو معاشی طور پر کمزور اور سہولتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ وہاں وہ نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں جو غربت، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے باعث بیرون ملک جانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ یہی خواہش ان ایجنٹوں کے لیے موقع پیدا کرتی ہے، جو خود کو قانونی ویزا فراہم کرنے والے ماہرین یا کنسلٹنٹس کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔

مبصرین کے بقول انسانی سمگلر سادہ لوح افراد کو مختلف جھوٹے وعدوں کے ذریعے قائل کرتے ہیں کہ ایران، ترکی یا یورپ جانا نہایت آسان ہے اور چند ہی دنوں میں انہیں بہتر روزگار، رہائش اور مستقل سیٹلمنٹ فراہم کر دی جائے گی۔ ان کا بات چیت کا انداز، اعتماد اور جھوٹی کہانیاں متاثرین کو یہ یقین دلا دیتی ہیں کہ بیرون ملک پہنچتے ہی حالات فوراً بدل جائیں گے۔ ان چیزوں سے متاثر ہو کر جب متاثرہ افراد غیرملکی سفر کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو سمگلر ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہر شخص سے کئی لاکھ روپے لیے جاتے ہیں، اور اکثر اوقات لوگ یہ رقم ادا کرنے کے لیے اپنے گھر، زیورات یہاں تک کہ اپنی زمینیں تک فروخت کر دیتے ہیں پھربھی بات نہ بن پڑے تو قرض اٹھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں متاثرین مالی طور پر بھی مکمل طور پر ان گروہوں کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں۔

رقوم وصول کرنے کے بعد سمگلر جعلی پاسپورٹس، ویزے، ورک پرمٹ یا ڈرائیونگ لائسنس تیار کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ دوسرے شہریوں کے اصل پاسپورٹس بھی اپنے قبضے میں رکھتے ہیں اور انہیں مختلف افراد کو استعمال کے لیے دیتے ہیں۔ اس تمام عمل میں دستاویزات کی جعل سازی، شناخت چھپانے اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی جیسے سنگین جرائم شامل ہوتے ہیں۔ جب کاغذات تیار ہو جاتے ہیں تو متاثرین کو غیرقانونی اور انتہائی خطرناک راستوں کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایران کے پہاڑی علاقوں، ترکی کی جنگلاتی گزرگاہوں اور بحیرہ روم کے غیرمحفوظ پانیوں سے گزرتے ہوئے مسافروں کو نہ صرف اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ سخت موسم، بھوک، پیاس اور راستے کی دشواری بھی انہیں شدید اذیت میں مبتلا کرتی ہے۔ متعدد واقعات میں ایسے افراد اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ جو بچ جاتے ہیں وہ اکثر انسانی سمگلروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں یا دوسرے ممالک میں پھنس جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ پورا سلسلہ پوری رازداری سے ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلایا جاتا ہے، جس میں ایجنٹس، سہولت کار، جعلی دستاویزات بنانے والے افراد اور بیرون ملک موجود ساتھی شامل ہوتے ہیں۔ ایف آئی اے اور دیگر ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، مگر غربت اور لاعلمی کے باعث یہ سلسلہ ابھی تک پوری طرح ختم نہیں ہو سکا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں غیرقانونی سفر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان نے فضائی، زمینی اور سمندری راستوں پر مسافروں کی چیکنگ کو مزید سخت کر دیا ہے۔ خاص طور پر بڑے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر بائیومیٹرک سکینرز، ڈیجیٹل ویری فکیشن، پاسپورٹ ریکارڈ کی فوری جانچ اور مسافروں کے سفری پس منظر کی گہری سکریننگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے پاکستان سے ایران، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ تک جانے والے غیرقانونی راستوں کا استعمال روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے نئی پالیسیز بھی تشکیل دی ہیں۔ اس سلسلے میں چیکنگ سخت کرنے کا مقصد نہ صرف غیرقانونی سفر کی روک تھام ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچاؤ بھی ہے۔ تاہم ابھی تک حکومت کو اس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

 

 

Back to top button