اسلام آباد کے سیف سٹی کیمرے اسرائیل کے کنٹرول میں کیوں؟

اسلام آباد کے حساس سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک اسرائیلی سافٹ ویئر کی موجودگی کے انکشاف نے قومی سطح پر سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ماہرین کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ میں غیر ملکی سافٹ وئیر کی وجہ سے عملاً تمام سیکیورٹی کیمرے اسرائیل کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد حکومت نے نہ صرف ملک بھر کے تمام اہم اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے بلکہ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی سائبر سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات بھی شروع کر دئیے ہیں جبکہ تمام سرکاری اور حساس اداروں میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز اور ہارڈ ویئرز کا ہنگامی آڈٹ بھی لازم قرار دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر پاکستانی سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک ممکنہ بڑے سائبر خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشکوک سافٹ ویئر کی موجودگی نے قومی انفراسٹرکچر، بینکاری، توانائی اور دفاعی نظام کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے ہیں، جس کے بعد جامع سکیننگ، سخت نگرانی اور غیر شفاف وینڈرز کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر محفوظ اپڈیٹس ریاستی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، اسی لئے تمام اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی ممکنہ سائبر اٹیک سے بچنے کیلئے مربوط تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم بھی قائم کر دیا ہے۔ پی ٹی اے اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے ساتھ منسلک کردہ اس مربوط تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم سے ممکنہ سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی اور فوری ردعمل ممکن ہو سکے گا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بیرونی انحصار کم کرے گا بلکہ ملکی سائبر خودمختاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مربوط نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے رائج ہے اور پاکستان میں اس کا نفاذ قومی سائبر دفاع کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہرغیرملکی سافٹ ویئر ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کی سورس ویری فکیشن، اپڈیٹ سیکیورٹی اور سپلائی چین شفاف نہ ہو تو یہ بیک ڈور رسائی، ڈیٹا لیک یا حتیٰ کہ حساس نظام کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔” ان کے مطابق سیف سٹی جیسے منصوبوں میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر چونکہ نگرانی، ڈیٹا سٹوریج اور تجزیے سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی کمزوری قومی سلامتی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول پاکستان کو اب صرف سیکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مقامی سطح پر سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، سیکیور کوڈنگ اور ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ کے حوالے سے بھی ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں تاکہ دوسرے ممالک پر انحصار کی بجائے سائبر خودمختاری حاصل کی جا سکے۔” ان کے مطابق بیرونی ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار طویل المدتی خطرات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین خود سائبر جاسوسی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے توانائی، بینکاری، ٹیلی کمیونیکیشن اور دفاعی نظام جیسے اہم شعبے تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان پر سائبر حملوں کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اگر سافٹ ویئر اپڈیٹس محفوظ نہ ہوں یا نیٹ ورک مانیٹرنگ مؤثر نہ ہو تو یہ آن لائن نظام آسانی سے دشمنوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو حالیہ برسوں میں کئی ممالک کو سپلائی چین حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں بظاہر محفوظ سافٹ ویئر کے ذریعے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اب سائبر سیکیورٹی صرف آئی ٹی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی سلامتی کا بنیادی جزو بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک سافٹ ویئر کا انکشاف ایک وارننگ ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر نہ صرف اپنے سائبر دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا بلکہ ایک جامع اور طویل المدتی سائبر سیکیورٹی حکمت عملی بھی اپنانا ہوگی تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
بلوچستان کا دورہ: عوام نے سہیل آفریدی کو ٹھینگا کیسے دکھایا
واضح رہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کی موجودگی کے انکشاف کے بعد حکام نے تمام اداروں کو ایک ہفتے کے اندر سافٹ ویئر جبکہ دو ہفتوں میں ہارڈ ویئر کا مکمل آڈٹ یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وینڈرز کی ملکیت، لاجسٹکس سسٹم اور سپلائی چین کی شفافیت کا بھی جائزہ لینے کا حکم دے سیا ہے۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا خرابی کی صورت میں فوری طور پر متاثرہ سسٹم کو نیٹ ورک سے الگ کرنے، شواہد محفوظ کرنے اور متعلقہ وینڈر کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
