مریم نواز کے بیٹے کی شادی کی تقریبات کڑی تنقید کی زد میں کیوں؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ نگار انصار عباسی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات اور ون ڈش کی پابندی توڑنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کا درس دیتی ہو تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوامی کے لیے پیغام بن جاتی ہیں۔

 

روزنامہ جنگ میں شائع اپنی تحریر میں انصار عباسی نے کہا کہ پاکستان اسوقت شدید معاشی دباؤ، مہنگائی، بیروزگاری اور عوامی اضطراب کے دور سے گزر رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں بڑھتا ہوا بناوٹ اور دکھلاوے کا کلچر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے بھی متوسط اور غریب طبقے کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو یہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طاقتور قومی پیغام ہوتا ہے۔

 

انصار عباسی کے مطابق ان دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات جاری ہیں، جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، ان تقاریب کے ساتھ ساتھ کھانوں کی تصاویر بھی سامنے آئیں جن سے یہ تاثر ملا کہ رائے ونڈر میں ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض ایک شادی کی تقریب تک محدود نہیں بلکہ اصول، مثال اور سوچ سے جڑا ہوا ہے۔ پنجاب حکومت خود ون ڈش کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی دعوے دار ہے، عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، شادی ہال سیل کیے جاتے ہیں اور جرمانے عائد ہوتے ہیں، مگر جب بات حکمران طبقے کی آتی ہے تو قانون محض ایک کاغذ بن کر رہ جاتا ہے۔

 

انصار عباسی نے کہا کہ جنید صفدر کی شادی کی تقاریب میں شریک افراد کے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ سوشل میڈیا پر فیشن سے واقف حلقوں کے مطابق مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر کے ملبوسات کی قیمتیں لاکھوں روپے تھیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے مہنگے لباس اور زیورات نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرہ پہلے ہی بناوٹ اور دکھلاوے کی بیماری میں مبتلا ہے، جہاں دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے شادیوں اور ملبوسات پر بے تحاشا خرچ کیا جاتا ہے۔ انصار عباسی نے واضح کیا کہ بلاشبہ ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، لیکن جب کوئی عوامی نمائندہ اور صوبے کی وزیراعلیٰ سادگی اور کفایت شعاری کا درس دے تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوامی سطح پر مثال بن جاتی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں شادیوں پر غیر معمولی سماجی دباؤ پایا جاتا ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیور بیچتے ہیں اور زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں، محض اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لاکھوں روپے کے جوڑے صرف ایک دن کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، سینکڑوں افراد کو مدعو کیا جاتا ہے اور پھر برسوں تک خاندان ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ انصار عباسی کے مطابق اگر ایسے حالات میں حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو یہ معاشرے کے لیے ایک طاقتور مثال بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش کی پابندی پر خود عمل کرتیں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہوتا۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو تب یہ کہا جاتا کہ اقتدار میں ہونے کے باوجود مریم نواز نے سادگی اپنائی، جس سے عام آدمی کو بھی معاشرتی دباؤ کو نظرانداز کر کے سادہ شادی کرنے کا حوصلہ ملتا۔ والدین اپنی بچیوں کی شادی قرض کے بغیر کرنے کی ہمت کرتے اور نوجوان نسل یہ سیکھتی کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ نیت اور رشتوں کی مضبوطی سے ہے۔ لیکن انصار عباسی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جو تصاویر سامنے آئیں، انہوں نے سادگی کے بیانیے کو کمزور کر دیا۔ یہ وہی سادگی ہے جس کا درس عوام کو دیا جاتا ہے، مگر جس پر عمل حکمران طبقہ خود کرنے سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز کے پاس بطور حکمران یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار ادا کرتیں اور ایسی مثال قائم کرتیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا، مگر یہ موقع ضائع ہو گیا۔

جنید کی شادی پر مریم نواز دلہن سے بھی زیادہ وائرل کیوں؟

انصار عباسی نے کہا کہ قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں بلکہ عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔

Back to top button