پارلیمینٹیرینز نے عوام سے اثاثے چھپانے کا قانون پاس کروالیا

اراکین اسمبلی نے اپنے کالے دھن اور اثاثہ جات کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کا مکمل بندوبست کر لیا تاکہ عوامی تنقید، کرپشن کے الزامات اور عدالتی مقدمات سے بچا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے اتحادی حکومت نے الیکشنز ایکٹ میں ترمیم کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات عوام سے خفیہ رکھنے کا اختیار سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو دے دیا ہے۔ جس کے بعد اب اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔ حکومت الیکشن ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترمیم کو ارکان کی سکیورٹی اور پرائیویسی کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے تاہم ناقدین اس قانون سازی کو عوامی احتساب کو کمزور کرنے اور سیاستدانوں کے مالیاتی راز کو پردہ میں رکھنے کی واضح کوشش قرار دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 138 میں اہم ترمیم منظور کر کےسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ ترمیم کے مطابق جان یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں کسی رکن کے اثاثے عوامی سطح پر شائع نہیں کیے جائیں گے جب کہ سپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دے سکیں گے۔منظور شدہ ترمیم کے تحت اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی، تاہم اثاثوں اور واجبات کی مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری کی جانب سے یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہی مالیاتی گوشوارے پانامہ کیس سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات کی نااہلی اور عروج و زوال کا سبب بنے ہیں۔ اگرچہ بل کے اغراض و مقاصد میں اسے ارکان کی ’پرائیویسی اور سکیورٹی‘ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاہم قانونی ماہرین اور ناقدین اسے عوامی احتساب کے عمل کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ماضی میں یہ معمول رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ہر سال ارکانِ اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات پبلک کرتا تھا جس کے بعد میڈیا ادارے، صحافی اور سول سوسائٹی ان اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لے کر یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر کسی رکن کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو اس کا ذریعہ کیا ہے یا اگر کسی رہنما کے اثاثے کروڑوں میں ہیں تو اس نے ٹیکس کی مد میں انتہائی کم رقم کیوں ادا کی؟ تاہم اب پارلیمنٹ سے جو بل منظور ہوا ہے اس کے اغراض و مقاصد میں شفافیت اور پرائیویسی کے درمیان توازن کی بات کی گئی ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات کی اشاعت بعض اوقات ارکان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے سکیورٹی رسک بن جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے مطابق یہی خدشات اس قانون سازی کی بنیادی وجہ ہیں۔
تاہم دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات کو عوامی دسترس سے نکالنے کا مطلب یہ ہو گا کہ عدالتی احتساب تو کسی حد تک باقی رہے گا مگر عوامی احتساب تقریباً ختم ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق ’پاکستان میں مالیاتی گوشواروں نے دراصل پہلی بار سیاست دانوں کو یہ احساس دلایا کہ اب سیاست صرف جلسوں اور نعروں کا کھیل نہیں رہی بلکہ نمبرز، ٹیکس اور ذرائع آمدن بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال گوشوارے جاری ہونے پر سب سے زیادہ بے چینی اقتدار کے حلقوں میں نظر آتی ہے۔‘
ناقدین کے مطابق اثاثہ جات کی رپورٹس سیاست دانوں کے لیے محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی مسئلہ بھی بن چکی ہیں۔ کئی مواقع پر عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات بارے خبریں براہِ راست ان کی نااہلی کا باعث نہ بھی بنیں مگر ووٹرز کے اعتماد کو ضرور متاثر کرتی رہی ہیں۔ یہی عوامی شرمندگی اور مسلسل سوالات وہ اصل دباؤ تھا جس نے مالیاتی گوشواروں کی پبلک دستیابی کو حکمران اشرافیہ کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنا دیا۔‘ جس کے بعد انھوں نے اپنے اثاثے عوام سے چھپانے کا بندوبست کر لیا ہے
ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی رکن کے اثاثے واقعی جائز، آمدن شفاف اور ٹیکس ادائیگیاں قانون کے مطابق ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانے سے خوف کیوں؟ ان کے مطابق شفافیت سے گریز دراصل اسی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے عوامی بحث سے دور رکھا جا رہا ہے۔ حقیقت میں احتساب کو اداروں کے کمروں تک محدود اور عوامی سوال کو غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ناقدین کے بقول پہلے بہت سے استثنیٰ دئیے جانے کے بعد اب ایک اور اہم استثنیٰ یہ سامنے آیا ہے کہ ارکان کے اثاثے اب عوام اور میڈیا سے دور رہیں گے تو ایسے میں جمہوریت اور شفافیت کہاں سے آئے گی؟‘
