لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کیوں پھنس گئے؟

 

 

 

خلیجی ممالک میں جاری کشیدہ صورتحال اور اسرائیل ایران جنگ  کی وجہ سے عید کی خوشیاں اپنوں کے ساتھ منانے کے خواہشمند ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن واپس آنے سے محروم ہو گئے۔ سرحدوں کی بندش، پروازوں کی معطلی اور سیکیورٹی خدشات نے ان محنت کشوں کے لیے واپسی کا سفر تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ کشیدہ حالات کی وجہ سے جہاں متعدد خلیجی ممالک سے پروازوں کی آمدورفت بند ہے وہیں خاص طور پر دوحا میں حالات زیادہ سنگین بتائے جا رہے ہیں، جہاں حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ گھروں میں قید یہ لوگ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے پیاروں سے دوری کا بوجھ مزید شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم یہ وہ پاکستانی ہیں جو پورا سال محنت کر کے عید پر اپنے خاندانوں کے ساتھ چند خوشگوار لمحات گزارنے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر اس بار جنگ نے ان کے ارمانوں کا خون کر دیا ہے۔ صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں۔ دوسری جانب خلیجی ممالک میں بڑھتی مہنگائی کے دوران خوراک کی ممکنہ قلت کے خدشات نے عوام کو دوہری مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق جنگ کے بعد خلیجی ممالک میں سامنے آنے والی صورتحال نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے جذبات، امیدوں اور عید کی خوشیوں پر بھی بھاری پڑ رہی ہے۔

 

واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں آباد لاکھوں پاکستانی ہر سال عیدالفطر اپنے پیاروں کے ساتھ پاکستان میں منانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو چار پانچ سال بعد اپنے وطن کا رخ کرتے ہیں، جبکہ اقامہ رکھنے والے افراد اپنے عزیز و اقارب کو وزٹ ویزے پر بلا کر عید اکٹھی منانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر اس بار جنگی صورتحال نے ان کے تمام منصوبوں کو درہم برہم کر دیا ہے۔ فلائٹ آپریشن کی معطلی کے باعث نہ تو لوگ پاکستان آ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے رشتہ داروں کو بلا سکتے ہیں۔

عید کی تیاریوں پر پانی پھرنے کا خدشہ، بارش اور ژالہ باری کا امکان

یہ مسئلہ صرف پاکستانیوں تک محدود نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اسی مشکل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب خلیجی ممالک میں موجود ایرانی شہریوں کی بڑی تعداد بھی اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہے، مگر براہ راست پروازوں کی بندش کے باعث ان کے لیے واپسی ممکن نہیں۔ کئی ایرانی شہری یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ذریعے زمینی راستے سے ایران پہنچ سکیں، اور اس سلسلے میں وہ اپنے پاکستانی دوستوں سے مدد کے طلبگار ہیں۔مختلف خلیجی ممالک میں صورتحال یکساں نہیں۔ بحرین اور عمان میں حالات نسبتاً بہتر ہیں، مگر وہاں بھی غیر یقینی کیفیت اور ذہنی دباؤ موجود ہے تاہم قطر میں تو حکومت نے غیر ملکیوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی لگا دی ہے جبکہ سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں صورتحال نسبتاً پرسکون ہے اور فضائی حدود بھی کھلی ہوئی ہیں۔

 

دوسری جانب خلیجی ممالک میں پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران خوراک کی ممکنہ قلت کے خدشات نے عوام کو دوہری مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے آٹا، چاول، گوشت، سبزیاں اور دودھ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث بعض مقامات پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی بھی غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل ایران جنگ طول پکڑتی ہے تو نہ صرف درآمدات متاثر ہوں گی بلکہ مقامی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا، جس سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں کم آمدنی والے محنت کش، خصوصاً غیر ملکی ورکرز، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے بڑھتے اخراجات کے ساتھ گزر بسر کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

 

Back to top button