حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات ممکن کیوں نہیں؟

 

معروف سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ عمران خان اپنے فوج مخالف بیانیے سے ہٹنے کو تیار نہیں اور شہباز شریف کسی ایسی جماعت سے مذاکرات کا سیاسی رسک نہیں لیں گے جو مسلسل فوجی قیادت کو ملعون و مطعون کر رہی ہو۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دے دیا ہے، حالانکہ محمود اچکزئی ہمیشہ سے فوج مخالف لائن لیتے رہے ہیں۔ عمران کے بعد محمود اچکزئی دوسرے بڑے فوجی مخالف سیاست دان سمجھے جاتے ہیں اور عمران خان بھی اسی لیے ان کو اپنے ساتھ لگائے ہوئے ہیں۔

نجم سیٹھی کے بقول پہلے محمود اچکزئی فرنٹ فٹ پر کھیلا کرتے تھے، تاہم پھر عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کو اپنی جماعت کے قائدین پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ کس وقت فوج کے ساتھ مل جائیں لہذا انہوں نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن قائد بنوا دیا۔ سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ تحریک انصاف کے کندھوں پر سوار ہو کر اپوزیشن قائد کا درجہ حاصل کرنے والے محمود اچکزئی نئے میثاقِ جمہوریت کی بات کر رہے ہیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ اس وقت نیا میثاق جمہوریت بننا ممکن نہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق پی ٹی آئی کی کوشش ہوگی کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں تو ممکنہ معاہدے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو براہ راست ٹارگٹ کیا جائے، جبکہ شہباز شریف کسی ایسی دستاویز کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتے جس میں اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بالفرض حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں کوئی ایسا کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو سوال یہ ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو کیا حاصل ہوگا؟ اسکا جواب ہے: کچھ بھی نہیں۔ سیٹھی کے مطابق حکومت کا مذاکرات کے حوالے سے واضح مؤقف ہے اور اس کی تین بنیادی شرائط ہیں۔

پہلی شرط یہ ہے کہ عمران خان کو سزا ہو چکی ہے، اس لیے ان کی رہائی یا ان کے مقدمات پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق الزامات واپس لیے جائیں اور 2024 کے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جائے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت کے پانچ سال مکمل کرے گی۔
نجم سیٹھی کے مطابق حکومت اپوزیشن کو صاف الفاظ میں کہتی ہے کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو ان تینوں شرائط کو تحریری طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم اپوزیشن کے مطالبات اس کے بالکل برعکس ہیں۔

تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت غیر قانونی ہے، نئے انتخابات کرائے جائیں اور عمران کو جیل سے رہا کرنے کے لیے بات چیت کی جائے۔ مگر یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جو حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ عمران خان اپنے فوجی قیادت مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں۔ انہیں جب موقع ملتا ہے وہ فوجی قیادت پر کوئی نہ کوئی حملہ ضرور کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں جب چار ہفتوں بعد ان کی بہن عظمی خان سے ملاقات کرائی گئی تو عمران نے ایک زہریلا ٹویٹ کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دے دیا، جس کے جواب میں فوجی ترجمان نے عمران کو ذہنی مریض قرار دیا۔ دوسری طرف وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی اور عمران کی تینوں بہنوں نے بھی فوج مخالف بیانیہ اپنا رکھا ہے؟ ایسے میں شہباز حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کیوں سوچے گی؟

نجم سیٹھی کے مطابق اسوقت تحریک انصاف عملاً تین حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کا ایک دھڑا شاہ محمود قریشی کی زیر قیادت کوٹ لکھپت جیل میں بند ہے، جو بات چیت پر آمادہ ہو چکا ہے اور رہائی چاہتا ہے۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ عمران خان کی موجودہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے، مگر عمران یہ بات سننے کو تیار نہیں۔ حکومت نے یہ بھی واضح اعلان کر رکھا ہے کہ فی الحال کسی کو عمران سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو جیل کے ذریعے پیغامات اور ذرائع بند کیے جائیں۔ مذاکرات کرنے ہیں تو کیے جائیں، لیکن جیل جا کر نہیں۔

سیٹھی کے مطابق اڈیالہ جیل کے دروازے نہیں کھل سکتے، تاہم کوٹ لکھپت جیل کے دروازے کھل سکتے ہیں، کیونکہ وہاں موجود بیشتر رہنما عمران خان کے خلاف بغاوت کر چکے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق عمران خان اپنی بہنوں کے سوا تقریباً تنہا ہو چکے ہیں اور ان کی جماعت کا کوئی رہنما ان کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آتا، انکی پارٹی کے رہنما مختلف سمتوں میں بھٹک رہے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ لوگوں کو کیسے اکٹھا کریں اور دوجی اسٹیبلشمنٹ کا سامنا کیسے کریں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرنا آسان ہے، مگر عملی طور پر ٹکر لینا انتہائی مشکل ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اس امید پر بیٹھے ہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے گا، لیکن ان کے بقول کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔ عمران خان محض باتوں کے ذریعے جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ نہ حکومت عمران پر اعتماد کرتی ہے اور نہ ہی عمران کسی پر اعتماد کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان مائنس ون نہیں ہو سکتے، کیونکہ پی ٹی آئی دراصل عمران ہی ہیں۔ انکے مطابق شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ اگر وہ پی ٹی آئی میں ہیں تو ٹھیک، ورنہ انہیں کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ سیٹھی کے مطابق عوام صرف ایک شخص کے پیچھے ہیں اور وہ عمران خان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فواد چودھری جیسے رہنماؤں کو عوامی سطح پر کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں۔ عوام ایک ہی نام جانتے ہیں اور وہ عمران خان ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان سے جان چھڑائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری درمیانے درجے کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے یہ پیش کش کی کہ وہ پی ٹی آئی کو توڑ سکتے ہیں۔

سیٹھی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ممکنہ طور پر انہیں کہا گیا ہوگا کہ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو کر کے دکھائیں۔ فواد چودھری اور دیگر رہنماؤں نے مختلف فارمولے پیش کیے اور کہا کہ ہاٹ لائنرز کو سائیڈ لائن کیا جائے، ایک نرم بیانیہ اپنایا جائے تاکہ سخت بیانات میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چودھری نے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کی ہوگی اور انہیں ملاقات کی اجازت بھی دی گئی ہوگی۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ ان تمام کوششوں کا مقصد یہی ہے کہ تحریک انصاف کو تقسیم کیا جائے، اور یہ صورتِ حال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو سوٹ کرتی ہے۔

Back to top button