پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں پیسے لگانے والے نئے سرمایہ کار لُٹ گئے

 

 

 

60 روپے کا سٹاک 2000 کا، 10 روپے والا 60 کا۔۔۔۔چند روپے کا سٹاک، چند دنوں میں دگنا منافع، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں گردش کرتی یہ ’ناقابلِ یقین کہانیاں‘ ہزاروں نئے سرمایہ کاروں کو جلد دولت مند بننے کے جھوٹے خواب دکھا رہی ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ خواب اکثر پینی سٹاکس کے ایسے جال میں بدل جاتے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو بڑے منافع کے وعدے پر کی جانے والی سرمایہ کاری کا انجام مالی نقصان، پچھتاوے اور شدید خسارے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بغیر تحقیق، سُنی سُنائی باتوں اور سوشل میڈیا کے شور پر کی گئی سرمایہ کاری نئے سرمایہ کاروں کو مالی فائدے کے بجائے کنگال کر سکتی ہے۔ اسی لیے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے پہلے جوش نہیں، ہوش سے فیصلہ کرنا ضروری ہےکیونکہ ایک غلط قدم خواب پورا کرنے کے بجائے آپ کی برسوں کی کمائی کو لمحوں میں ختم کر سکتا ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ پی ایس ایکس 100 انڈیکس نے 2024 میں اوسطاً تقریباً 80 فیصد جبکہ 2025 کے دوران 50 فیصد سے زائد منافع دیا، جس کے بعد ایک بڑی تعداد میں نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ بروکریج ہاؤسز کے مطابق صرف ایک سال میں ایک لاکھ سے زائد نئے سرمایہ کاروں نے سٹاک ٹریڈنگ شروع کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں داخل ہونے والے ان نئے سرمایہ کاروں کی اکثریت فوری منافع کی خواہش میں بنیادی تجزیے کی بجائے کم قیمت یعنی پینی سٹاکس کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ جس سے نئے سرمایہ کاروں کے بڑے مالی نقصان کا احتمال مزید بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پینی سٹاکس کیا ہوتے ہیں؟ سٹاک ایکسچینج میں یہ اصطلاح کون سے شئیرز کیلئے استعمال کی جاتی ہے؟

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پینی سٹاکس سے مراد وہ حصص ہوتے ہیں جن کی قیمت بہت کم ہوتی ہے، مگر ان کے پیچھے موجود کاروبار کمزور، غیر مستحکم یا غیر فعال ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ کمپنیاں بھاری قرضوں تلے دبی ہوتی ہیں، ان کی سیلز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں یا ان کا بزنس ماڈل واضح نہیں ہوتا، لیکن مارکیٹ میں مصنوعی طور پر ان کے سٹاک کو ’اُبھارا‘ جاتا ہے۔ یہ ایسی ’پینی سٹاک‘ کمپنیاں ہوتی ہیں جن کے لیے مقامی طور پر بعض لوگ ’چلر سٹاک‘ یا ’کچرا سٹاک‘ جیسی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کار فرقان پونجانی کے مطابق جب بھی سٹاک مارکیٹ میں تیزی آتی ہے تو نئے سرمایہ کاروں کا پینی سٹاکس کی جانب رجحان بڑھ جاتا ہے۔ سٹاکس کی کم قیمت دیکھ کر سرمایہ کار یہ غلط فہمی پال لیتے ہیں کہ زیادہ شیئرز خریدنے سے منافع بھی زیادہ ہوگا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور غیر مصدقہ یوٹیوب چینلز پینی سٹاکس کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ’اندر کی خبر‘، ’آخری موقع‘ اور ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ جیسے جملوں کے ساتھ سرمایہ کاروں کو کسی خاص سٹاک کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد کئی لوگ کمپنی کا مالی جائزہ لینے کی بجائے صرف سنی سنائی باتوں پر ایسی دیوالیہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجہ انھیں بھاری مالی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پینی سٹاکس میں اکثر ’پمپ اینڈ ڈمپ‘ جیسی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں، جس میں کسی سٹاک کی طلب مصنوعی طور پر بڑھا کر قیمت اوپر لے جائی جاتی ہے اور پھر اچانک بڑے سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال لیتے ہیں۔ نتیجتاً چھوٹے سرمایہ کار مہنگے داموں خریدے گئے شیئرز کے ساتھ پھنس جاتے ہیں۔

فائیو جی لائسنس کی نیلامی سے کیا ہمارا انٹرنیٹ تیز چلے گا؟

معاشی ماہرین کے مطابق تمام سستے سٹاکس ’پینی سٹاکس‘ نہیں ہوتے۔ بعض بڑی اور مستحکم کمپنیاں بھی اپنے شیئر عام سرمایہ کاروں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے بونس یا سٹاک سپلٹ کرتی ہیں جس سے ان کمپنیوں کی شئیرز سستے ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مضبوط کمپنی کے پیچھے حقیقی کاروبار، آمدن اور واضح مستقبل ہوتا ہے، جبکہ پینی سٹاک میں یہ عناصر اکثر ناپید ہوتے ہیں۔ ماہرین کے بقول سرمایہ کاری سے قبل کمپنی کی گزشتہ تین سے پانچ سالہ مالی کارکردگی، بزنس ماڈل، قرضوں کی صورتحال اور ریگولیٹری حیثیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کمپنی نان کمپلائنٹ یا ڈیفالٹر کی فہرست میں تو شامل نہیں۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں کامیابی شارٹ کٹ سے نہیں بلکہ صبر، تحقیق اور درست حکمت عملی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے پہلے جوش نہیں بلکہ ہوش سے فیصلہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایک غلط قدم خواب پورا کرنے کے بجائے آپ کی برسوں کی کمائی کو لمحوں میں ختم کر سکتا ہے۔

Back to top button