اس برس پاکستانی ایکسپورٹ کوالٹی کا کینو کیوں کھا رہے ہیں؟

اس برس پاکستانی عوام کو ایکسپورٹ کوالٹی کا ایک نمبر کینو وافر تعداد میں کھانے کے لیے دستیاب ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اچھی فصل ہونے کے باوجود پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث کینو بیرون ملک ایکسپورٹ نہیں ہو رہا۔ سرحدی تجارت پر پابندی کی وجہ سے اس سال ایکسپورٹ کوالٹی کا کینو پاکستان میں ہی فروخت ہورہا ہے جس کی وجہ سے پنجاب کے کاشتکار بھاری مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کینو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کی منڈیوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ تاہم گذشتہ لگ بھگ چار ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کے باعث پاک افغان بارڈر بند ہے اور ہر قسم کی تجارت معطل ہے۔ حال ہی میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر کاشکاروں کو متبادل راستوں سے کینو برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ کینو ایکسپورٹ کرنے والوں کے لیے یہ متبادل راستہ ایران کا ہے جہاں سے گزر کر وہ اپنا مال وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایکسپورٹرز کہتے ہیں کہ اس متبادل راستے سے کینو باہر جا ضرور رہا ہے تاہم یہ راستہ افغانستان کی نسبت طویل ہے اور اس پر ترسیلات کا خرچ کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے کینو کی برآمد کا حجم بہت کم ہے کیونکہ اس پھل کی لائف بہت کم ہوتی ہے۔
سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن سے تعلق رکھنے والے پھلوں اور سبزیوں کے ایکسپورٹر حماد رسول نے بتایا کہ رواں برس کینو کی فصل بھی بہت وافر ہوئی ہے۔ ساتھ ہی اس کا معیار اور سائز بھی اچھا تھا یعنی وہ ایکسپورٹ کے لیے موزوں ترین تھا۔ لیکن پاک افغان بارڈر عین اس وقت بند ہو گیا جب کینو کا سیزن شروع ہونے والا تھا۔ زیادہ مشکل یہ ہوئی کہ کینو کے کاشکاروں اور ایکسپورٹرز کے پاس کسی متبادل راستے کا بندوبست بھی نہیں تھا۔ حماد رسول کہتے ہیں کہ ابتدا میں حکومت انھیں یقین دہانی کراتی رہی کہ سرحد کھل جائے گی تاہم ایسا نہیں ہو پایا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں کینو کی پیداوار سب سے زیادہ ضلع سرگودھا میں ہوتی ہے اور اس کی برآمدات کا بڑا حصہ بھی یہیں سے جاتا ہے۔ ان کے مطابق رواں سیزن میں اس علاقے سے کینو کی پیداوار کا اندازہ لگ بھگ 18 لاکھ ٹن کے قریب لگایا جا رہا تھا جس میں سے چار سے پانچ لاکھ ٹن کینو ایکسپورٹ کیا جانا تھا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ افغان بارڈر بند ہونے کی وجہ اس سیزن میں اب ایک لاکھ ٹن کینو بھی برآمد ہو جائے تو بڑی بات ہے۔
یاد رہے کہ کہ پاکستان اور خاص طور پر سرگودھا کے کینو کے لیے سب سے بڑی منڈی وسطی ایشیائی ممالک ہیں جہاں سرگودھا سے کینو کی برآمدات کا حصہ 45 فیصد کے قریب ہے۔ حکومت نے ایک ایکسپورٹرز کو متبادل راستے سے کینو برآمد کرنے کی اجازت تو دی تاہم یہ اجازت ایک تو دیر سے آئی اور دوسرا متبادل راستے کینو کے لیے زیادہ موزوں نہیں کیونکہ راستے کی طوالت کی وجہ سے یہ پھل جلد خراب ہو جاتا ہے۔ اس لیے متبادل راستے سے اس سال زیادہ بڑی تعداد میں کینو برآمد نہیں کیا جا سکے گا۔
ایکسپورٹر حماد رسول کہتے ہیں کہ کینو ایسی فصل ہے جس پر سرگودھا کے کاشت کاروں کی ایک بڑی تعداد اپنی سالانہ آمدن کے لیے انحصار کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں موجودہ حالات کی وجہ سے بہت سے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف وحید احمد نے بتایا کہ کینو کی برآمدات میں کمی اور مشکلات کا تعلق سرحد کی بندش سے کم اور کینو کی ورائٹی سے زیادہ ہے۔
وحید احمد کہتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اور پاکستانی کینو کی یہ شیلف اب بہت کم ہے۔ کینو کی ورائٹی اپنا ٹائم گزار چکی ہے۔ گذشتہ 60 برسوں سے چلتی آنے والی اس ورائٹی کے علاوہ کوئی دوسری ورائٹی نہیں لائی گئی۔ یہ خراب ہونے والی چیز ہے اس لیے بہت سی عالمی منڈیوں میں اس کی مانگ کم ہو گئی۔ کوئی اسے خریدنا نہیں چاہتا۔‘
وحید احمد کے مطابق پاکستانی کینو کی برآمدات گذشتہ پانچ برسوں میں 250 ملین ڈالرز سے کم ہو کر صرف 100 ملین ڈالرز تک آ گئی ہیں۔ پانچ برس قبل کینو کی برآمدات سات لاکھ ٹن کے قریب تھی جبکہ گذشتہ برس یہ صرف ڈھائی لاکھ ٹن تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یوں دنیا کی سٹرس کی 16 ارب ڈالر کی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ محض 100 ملیں ڈالرز تک رہ گیا ہے۔ انکے مطابق ہمیں جو ورائٹی آج سے 60 سال قبل امریکہ نے دی تھی ہم اب تک اسی پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہم نے خود سے نئی ورائٹیز پر کوئی کام نہیں کیا جبکہ ہمارے مقابلے کے ممالک ہر وقت پانچ سے دس ورائٹیوں پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں برآمدات کے لیے زیادہ تر انحصار صرف کینو پر ہوتا ہے اور یہی پاکستان سے کینو کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ وحید احمد کے مطابق کینو آسانی سے چھل جانے والا ہھل ہے تاہم پاکستانی کینو کی شیلف لائف بہت کم ہے، یہ جلدی خراب ہو جاتا ہے اس لیے عالمی منڈی میں لوگ اسے نہیں لیتے اور امپورٹرز کو اس میں دلچسپی نہیں رہی۔ انکا کہنا یے کہ ہمارے کینو کا سیزن دسمبر کے آخر سے شروع ہو کر فروری یا مارچ تک جاتا ہے جبکہ ہمارے مقابلے کے ملکوں کی ورائٹیوں کا سیزن مئی تک جاتا ہے۔ پاکستان میں کینو کی 50 فیصد فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا اب سیڈ لیس ورائٹیوں تک پہنچ گئی ہے۔
سرحدی تجارت کرنےوالےپاک افغان تاجردیوالیہ کیوں ہو گئے؟
وحید احمد کہتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے فرق ضرور پڑا ہے لیکن یہ صرف 15 فیصد کا فرق ہو گا کیونکہ ایران کے متبادل راستے سے کینو جا رہا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ کینو کا اصل مسئلہ اس کی پرانی ورائٹی اور کم شیلف لائف ہے۔
ان کے خیال میں پاکستان کو اس کی ورائٹیوں کا بڑھانے اور تحقیق پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ادارے قائم ہیں تاہم اگر وہ اس پر کام کر بھی رہے ہیں تو وہ پیداوار میں نظر نہیں آ رہا۔
