یورپ جانے والےپاکستانی لیبیا کا راستہ کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

بیرون ملک کشتی حادثوں میں درجنوں پاکستانیوں کی ہلاکتوں کےبعد ہونے والی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ہزاروں پاکستانی اب روزگار کی تلاش میں ذیادہ تر لیبیا کےراستے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، اس سفر کے دوران انھیں کشتیوں پر بھی سوار ہونا پڑتا ہے جو اکثر ڈوب بھی جاتی ہیں۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق مختلف یورپی ممالک میں کشتی حادثوں میں مسلسل پاکستانیوں کی اموات کی تحقیقات کے دوران ایک نئے روٹ کی نشاندہی ہوئی ہے جو کہ زیادہ تر پاکستانی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دبئی سے مصر یا لیبیا کا سفر ہوائی جہاز پر کرتے ہیں اور پھر مشرقی لیبیا سے بڑی کشتیوں پر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک پاکستانی تفتیش کار اسلم شنواری بتاتے ہیں کہ دوسرے راستوں سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی تعداد کم ہوئی ہے جیسے کہ ایران کے راستے سے۔ انکا کہنا تھا کہ ترکی جیسے ممالک میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے اب کم لوگ ان راستوں سے سفر کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سال 2023 کے دوران 25 ہزار کے قریب لوگ پاکستان سے لیبیا اور مصر گئے۔ انکا کہنا تھا کہ یونان میں پچھلے برس ہونے والے کشتی حادثے کے بعد پاکستانی پولیس کو اس روٹ کے بارے میں پتا چلا۔ یاد رہے کہ لیبیا سے ترکی اور پھر وہاں سے اگلے سفر کے دوران ڈوب جانے والی کشتی میں درجنوں پاکستانی موجود تھے۔ لیکن اسلم شنواری کہتے ہیں کہ ان روٹس کے متعلق تحقیقات کرنا کافی پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک سفر کرنے والوں کے گھر والے پولیس کے پاس آ کر نہیں بتاتے کہ ان بچے کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ’لوگ سامنے آ کر شکایت درج نہیں کرواتے اور باہر بھجوانے والے ایجنٹوں سے عدالتوں کے باہر تصفیہ کر لیتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے لیے ان کیسز کے متعلق معلومات حاصل کرنا اور پیروی کرنا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ انفرمیشن گھر والوں نے دینی ہوتی ہے۔

اس معاملے میں اضافی پیچیدگی یہ ہے کہ ان مسافروں کی بڑی تعداد قانونی طریقے سے ویزہ لے کر دبئی یا مصر جاتی ہے لہذا انھیں روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ سفر مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔ پاکستانی 25 سے 30 لاکھ روپے اس سفر پر جانے کے لیے لگاتے ہیں۔ اسلم نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اب پاکستانی ایئر پورٹس کے امیگریشن کاؤنٹرز پر ہی بیرون ملک جانے والے مشکوک افراد کو روک لیتے ہیں تا کہ وہ حادثوں کا شکار نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں ایف آئی اے نے 10 ہزار سے زائد مشکوک لوگوں کو ویزا ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے سے روکا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیوں کو بڑے حادثات پیش آئے ہیں جن میں رواں سال جنوری میں ہونے والا کشتی حادثہ بھی شامل ہے جس میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ یہ لوگ افریقہ کے شمال مغرب میں واقع موریطانیہ سے بحر اوقیانوس کے راستے سپین جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی اے کے انسداد انسانی سمگلنگ ونگ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو عموما ایسے تمام حادثات کی اطلاع نہیں دی جاتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ’لیبیا کے ساحل مشرق میں توبروک سے مغرب میں لیبیا کے شہر طرابلس تک روزانہ 10 سے 15 کشتیاں اٹلی کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد تارکین وطن اور پناہ گزین یورپ پہنچے جن میں سے 90 فیصد سے زائد نے پُرخطر سمندری راستہ اختیار کیا۔ سال2025کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2013 سے 2020 کے درمیان 6 لاکھ 80 ہزار تارکین وطن اٹلی کے ساحلوں تک پہنچے جبکہ 17 ہزار سے زائد سمندر پار کرنے کی کوششوں کے دوران ہلاک ہوئے۔ اس غیرقانونی نقل و حمل سے جنگ زدہ لیبیا کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرنے والے نان سٹیٹ ایکٹرز کے لیے آمدنی کے ذرائع بنے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ انسانی سمگلنگ کے غیر قانونی دھندے سے ہر سال کروڑوں ڈالرز کما رہے ہیں۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر ایف ائی اے اہلکار کا کہنا تھا کہ لیبیا غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے نئی ترجیح ملک بن چکا ہے کیونکہ دیگر ممالک میں ’ڈنکی‘ کے لیے استعمال ہونے والے زمینی راستوں پر سرحدی کنٹرول سخت ہے ہے۔ ’ڈنکی‘ کی اصطلاح دراصل ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی یے جو پاکستانی سرحد سے افغانستان اور ایران اور پھر عراق، ترکی یا وسطی ایشیا جانے کے لیے گدھے کا استعمال کرتے تھے لیکن اب یہ ان تمام غیر رسمی تارکین وطن کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ان راستوں سے سفر کرتے ہیں۔

ایف آئی اے کے تفتیش کار کا کہنا تھا کہ ’لیبیا میں استعمال ہونے والی کشتیاں اکثر چھوٹی اور لکڑی کی بنی ہوتی ہیں جن میں 15 سے 20 افراد سوار ہوتے ہیں جبکہ کشتی کا کپتان بھی لیبیا میں قیام کے دوران تربیت یافتہ پناہ گزین ہوتا ہے۔ لیکن اس کام کے لیے بڑی کشتیاں بھی ہوتی ہیں اور جب ان میں سے کوئی بڑی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے تو یہ عالمی خبر بن جاتی ہے۔ ابکا کہنا تھا کہ ہمارے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو سالوں سے سالانہ اوسطاً 20 ہزار پاکستانی لیبیا جارہے ہیں جن میں سے بڑی تعداد لیبیا سے بذریعہ کشتی یورپ جاتی  ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں انسانی سمگلنگ کا زیادہ تر کاروبار گجرات کے سنیارا برادران کے زیرِ کنٹرول ہے۔ سنیارا دو دہائیوں سے اس کاروبار میں ملوث ہے اور اب تو پاکستان میں انٹرنیٹ کا ذیلی ایجنٹس کا ایک مضبوط نیٹ ورک بن چکا ہے۔ انکے مطابق لیبیا اور پاکستان میں موجود امیگریشن افسران اور مصر اور ترکی کے انسانی سمگلرز کے علاوہ لیبیا کے فوجی اہلکار، یہ سب لوگ اس نیٹ ورک میں شامل ہیں۔ ایف آئی اے اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان سے آنے والے تارکین وطن کے لیے زمینی راستے بھی غیر محفوظ ہیں لیکن پھر بھی پاکستان سے سالانہ ایک لاکھ تارکین وطن مذہبی زیارتوں کے بہانے ایران اور عراق میں داخل ہوتے ہیں جہاں سے وہ یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایف آئی اے کے تفتیش کار نے بتایا کہ تارکین وطن کو پاکستان سے باہر جانے سے روکنے کے لیے حال ہی میں وفاقی حکومت نے پالیسی فیصلہ لیا ہے جسکے تحت مخصوص علاقوں اور اضلاع سے آنے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے جو مخصوص ممالک جانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں میں عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ پالیسی متعارف کروانے کے بعد سے پاکستانی پروازوں سے اتارے جانے والے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ میں انکا کہنا تھا کہ لاہور ایئرپورٹ پر 3 ہزار 500 سے زائد مسافروں کو جہاز سے اتارا گیا جبکہ گزشتہ سال پہلے دو ماہ میں یہی تعداد ایک ہزار 293 تھی۔

Back to top button