مسافروں کو بلاوجہ فلائیٹس سے آف لوڈ کیوں کیا جا رہا ہے؟

پاکستان کے مختلف ایئرپورٹس پر پاکستانی مسافروں کو بغیر کسی وجہ کے فلائٹس سے آف لوڈ کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذمے دار افسران کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی وزارت اوورسیز پاکستانیز کی شکایت پر شروع کی گئی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان کے مطابق انٹرنیشنل فلائٹ سے بلا وجہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے والے ایف آئی اے حکام کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی مسافروں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والے اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق محکمے کے 86 افسران اور اہلکاروں کے خلاف غیرقانونی امیگریشن میں سہولت کاری، رشوت خوری، مسافروں کو تنگ کرنے، ایجنٹس سے تعلقات اور مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایسے 54 کیسز خود ایف آئی اے نے جبکہ 32 کیسز وزارتِ داخلہ نے درج کروائے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 27 اہلکاروں کو معمولی سزائیں ملیں، 28 کو بڑی سزائیں ہوئیں جبکہ 8 کو تحقیقات کے بعد الزامات سے بری کردیا گیا۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق’یہ اقدامات وقتاً فوقتاً موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں کیے گئے جن میں امیگریشن عملے کے غیر پیشہ ورانہ رویوں اور مسافروں سے غیر ضروری پوچھ گچھ کے واقعات کی نشان دہی کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں پر متعدد پاکستانی شہریوں کو قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود پروازوں سے اُتارا گیا۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے اعتراف کیا کہ بعض اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز اور انسانی وسائل کے اداروں نے بھی شکایت کی ہے کہ ایسے اقدامات سے قانونی مسافروں کی بدنامی اور روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ وزارت نے ہدایت دی ہے کہ مشکوک افراد اور قانونی مسافروں کے درمیان فرق واضح رکھا جائے تاکہ کسی محنت کش پاکستانی کو بلاوجہ تذلیل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ادھر ترجمان ایف آئی اے نے وضاحت کی کہ ادارہ صرف ان افراد کو جانے سے روکتا ہے جن کی دستاویزات میں تضاد ہو یا جن کے سفر کے مقاصد مشکوک ہوں۔ ترجمان کے مطابق ’قانونی طور پر تمام درکار کاغذات رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو روکنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے، تاہم انسانی سمگلنگ یا جعلی ویزوں کی اطلاع کی صورت میں عارضی تفتیش کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق مسافروں کو بلاوجہ امیگریشن کاؤنٹر پر روکنے کی شکایات کے بعد شفافیت کے لیے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں امیگریشن مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا گیا ہے جو تمام بڑے ہوائی اڈوں پر امیگریشن کے عمل کی براہ راست نگرانی کرتا ہے۔‘ناس کے ساتھ ہی رسک اینالیسس یونٹ بھی تشکیل دیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اہلکاروں کی کارکردگی اور شکایات کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ کسی بھی بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کی بروقت نشان دہی ہو سکے۔
مزید بتایا گیا کہ امیگریشن نظام میں انسانی مداخلت کم کرنے کے لیے ای۔گیٹس سدٹم یعنی خودکار گیٹ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔
اس سسٹم کے ذریعے مسافر ہوائی اڈے پر پہنچنے سے قبل اپنی دستاویزات اپ لوڈ کر سکیں گے۔ اس سے امیگریشن کلیئرنس کا عمل تیز، شفاف اور ریکارڈ شدہ ہو جائے گا۔
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ’ایف آئی اے نے اہلکاروں کی روٹیشنل پوسٹنگ پالیسی بھی نافذ کر رکھی ہے تاکہ کوئی اہلکار طویل عرصے تک ایک ہی ایئرپورٹ پر تعینات نہ رہے۔ اس کے علاوہ محکمانہ کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے اختیارات ڈائریکٹرز اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز کو تفویض کیے گئے ہیں، جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کے ذریعے احتسابی عمل مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایئرپورٹس پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی ورکرز کے ساتھ آف لوڈنگ کے غیر معمولی واقعات کے بعد وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے ایف آئی اے، وزارتِ داخلہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات اور اعلٰی سطح کے اجلاس میں انہوں نے ہدایت کی کہ ایئر پورٹس پر امیگریشن عملے کے رویے کو انسانی احترام اور شفافیت کے معیار کے مطابق لایا جائے، اور کسی پاکستانی محنت کش کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانی محنت کش ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ لاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ اگر کسی مسافر کو کسی وجہ سے روکا جائے تو اس کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں اور وزارتِ اوورسیز کو اس کی فوری اطلاع دی جائے۔
