عوام BLA کے دہشت گردوں کے ساتھ سیلفیاں کیوں بنوانے لگے؟

جنوری کو جب بلوچستان لبریشن آرمی کے جنگجوؤں نے صوبے کے 12 شہروں پر بیک وقت حملے کیے تو صورتحال یہ تھی کہ سکیورٹی فورسز کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں، جبکہ بلوچ بچے سڑکوں پر دندناتے ہوئے بی ایل اے کے مسلح افراد کیساتھ سیلفیاں بنواتے دکھائی دیے۔ یہ مناظر ریاست پاکستان کی رِٹ کی دھجیاں بکھیرنے کے لیے کافی تھے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں اس پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنے دھواں دھار خطاب میں اعداد و شمار کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کا بیانیہ نوجوانوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

وسعت اللہ کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کا بیانیہ من گھڑت ہے اور یہ کوئی قوم پرست تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور سمگلروں کا گٹھ جوڑ ہے، کیونکہ حکومت نے ان کی چار ارب روپے روزانہ کی تیل سمگلنگ روک دی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے احساسِ محرومی کے بیانیے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق 1947 میں بلوچستان میں صرف 114 اسکول تھے، جبکہ آج صوبے میں 1596 اسکول، 12 یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 دیگر کالج، 13 کیڈٹ کالج، 21 ٹیکنیکل ادارے، 54 اسپتال، چار امراضِ قلب کے مراکز، 24 ڈائلیسس سینٹر، 756 بنیادی صحت مراکز اور 841 ڈسپنسریاں موجود ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ایئرپورٹس ہیں۔ آبادی کم ہے اور اوسطاً ہر 35 کلومیٹر پر ایک شخص رہتا ہے۔ اتنے بڑے رقبے کو پُرامن رکھنے کے لیے زیادہ فوج تعینات کرنا ناگزیر ہے۔ لیکن جب خواجہ آصف نے اپنا خطاب ختم کیا تو 336 رکنی ایوان میں صرف 15 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

سینیئر صحافی کے مطابق خواجہ آصف کا پُرمغز اور معلوماتی خطاب سن کر انہیں اس مریض کا قصہ یاد آیا جس نے شکوہ کیا تھا کہ “ڈاکٹر صاحب، اب تک میرے ڈھائی ہزار روپے ایکس رے پر لگ گئے ہیں، مگر آرام پھر بھی نہیں آ رہا۔” وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی تو گزشتہ برس ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان کی دہشت گردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے حالیہ بدامنی کی لہر پر یہ اطمینان بخش وضاحت دی کہ کل پانچ سے چھ ہزار دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ہیں، جن میں سے ایک ہزار کو گزشتہ برس مارا جا چکا ہے اور باقیوں کا قلع قمع جاری ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے یہ بریکنگ نیوز بھی دی کہ ایک سرکاری سروے کے مطابق صرف دو سے تین فیصد لوگ انتہا پسندی کے حامی ہیں۔ یہی سرفراز بگٹی لگ بھگ چھ ماہ پہلے سرکاری ملازمین کو یہ وارننگ بھی دے چکے ہیں کہ وہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔ اس بیان سے نوکر شاہی پر ان کی آہنی گرفت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وسعت اللہ خان کے مطابق وفاقی پالیسی ساز بھی اسی لاتعلق سماج کا حصہ ہیں۔ لاہور، کراچی یا اسلام آباد کا ایک عام شہری کوئٹہ کو صرف اس لیے جانتا ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت ہے، جبکہ گوادر کا نام اس نے 2002 میں بندرگاہ، سونے جیسی زمین کے اسٹیٹ ایجنٹوں کے نعروں یا پھر سی پیک کے طفیل سنا۔ اگر کسی تیسرے شہر کا نام پوچھ لیا جائے تو وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ان کے مطابق 90 فیصد پاکستانیوں کے لیے بلوچ اور بلوچی کے فرق کو سمجھنا بھی مشکل ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بلوچ ایک قوم ہے اور بلوچی ایک زبان۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ عام آدمی ہی نہیں، پاکستانی میڈیا کا معلوماتی معیار بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی نیوز ایڈیٹر سے کوئٹہ اور گوادر کے درمیان فاصلہ پوچھ کر دیکھ لیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی یا میڈیا کی سطح پر ایسا مؤثر جوابی بیانیہ تشکیل دینا انتہائی مشکل ہے جسے بلوچستان کا عام آدمی سنجیدگی سے لے سکے۔

ان کے بقول یوں سمجھیے کہ بلوچستان کئی برسوں سے ایک اطلاعاتی پنجرے میں بند ہے۔ یہاں میڈیا کو دونوں طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ یا تو سرکاری پریس ریلیز اور اعداد و شمار پر گزارا ہے، یا پھر علیحدگی پسندوں کی ویب سائٹس اور فیس بک پیجز کے ذریعے دوسری طرف کی سوچ اور حالات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مگر جو کچھ بھی شائع یا نشر ہوتا ہے، وہ کئی سطح کی سنسرشپ سے گزر کر سامنے آتا ہے۔ وسعت اللہ بتاتے ہیں کہ انہیں حال ہی میں کوسٹل ہائی وے کے ذریعے گوادر تک سفر کا موقع ملا۔ آج کل ہائی وے پر شام چھ بجے کے بعد کوئی سفر نہیں کرتا۔ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی چوکیاں دکھائی دیتی ہیں، جہاں بظاہر ایک وقت میں چار یا پانچ جوان ہی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ وہ سوچتے رہے کہ رات کے اندھیرے میں، چاروں طرف کھلے ویران علاقے میں یہ جوان کن خیالات میں گم ہوتے ہوں گے۔

وہ بتستے ہیں کہ گوادر پورٹ کی وجہ سے گوادر شہر میں سکیورٹی نسبتاً سخت ہے۔ اسی لیے شہر میں داخلے پر پہلی چیک پوسٹ پر ان کے شناختی کارڈز اور گاڑی کی تفصیلات درج کی گئیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگلی صبح بلوچستان کے 12 شہروں میں بی ایل اے کے مسلح افراد کے بڑے جتھے بغیر شناختی کارڈ دکھائے کیسے داخل ہو گئے؟ ممکن ہے یہ جتھے کئی دن پہلے سے موجود ہوں اور صرف حکم کے منتظر ہوں۔

بہرحال، حملے والے دن مسجد سے اعلان ہوا کہ بلوچ سرمچار گلیوں میں پہرہ دے رہے ہیں، لہٰذا کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بہت سے بچے مسلح افراد کے پیچھے پیچھے چل پڑے، جیسے کوئی تماشا دیکھنے جا رہے ہوں۔ یہ بچے مسلح افراد کے ساتھ سیلفیاں بنوانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ دن بھر مختلف سمتوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ اگرچہ اس شور شرابے کے باعث پرانے شہر میں دکانیں بند رہیں، مگر گلیوں کے اندر چائے خانوں پر رش کم نہ ہوا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ردالفتنہ-1 مکمل،216 دہشت گرد ہلاک

وسعت اللہ خان کے مطابق بلوچستان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب یہ حالات ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے بقول، تازہ حملوں کے بعد ایک بار پھر مشکوک علاقوں میں گھر گھر تلاشی کا عمل شروع ہوگا اور پھر حالات دوبارہ معمول پر آ جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسلح لوگ بھارت، افغانستان، ایران یا کسی اور کے ایجنٹ ہیں یا محض جرائم پیشہ عناصر ہیں، اور اگر بقول وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی یہ مٹھی بھر شرپسند ہیں، تو پھر یہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو ورغلا کر خودکش فدائین بنانے میں کیسے کامیاب ہو رہے ہیں؟ ان تمام سوالات کے جواب شاید اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں ہی بہتر طور پر دے سکتی ہیں۔

Back to top button