قیمتیں بڑھنے کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی فروخت میں اضافہ کیوں؟

 

 

 

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے، معاشی اصولوں کے برعکس پٹرولیم پراڈکٹس کی طلب کے بڑھتے رجحان نے پالیسی سازوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عام حالات میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ طلب میں کمی کا باعث بنتا ہے مگر اس کے برعکس قیمتیں بڑھنے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں ایندھن کا استعمال محض قیمتوں سے مشروط نہیں بلکہ اس کے پیچھے توانائی کے محدود متبادل ذرائع، ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات، عوامی طرزِ زندگی، اور غیر یقینی معاشی حالات جیسے کئی گہرے اور پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں، جو مجموعی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں مارچ 2026 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم مارکیٹ میں طلب کم ہونے کی بجائےمارچ میں پیٹرول کی فروخت فروری کے مقابلے میں تقریباً آٹھ فیصد اضافے سے چھ لاکھ 70 ہزار ٹن تک جا پہنچی۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی کھپت میں بھی 13 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ایسےمیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصونوعات کی طلب بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں اضافے کی ایک اہم وجہ مارچ میں عید کی تعطیلات ہیں، جن کے دوران سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے ایندھن کی طلب بڑھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات اور مجموعی غیر یقینی صورتحال بھی عوام اور کاروباری اداروں کو اضافی خریداری کی طرف مائل کرتی ہے، جس سے ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کو کم کرنا آسان نہیں، کیونکہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا انحصار تیل اور گیس جیسے قدرتی ایندھن پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر نظام پیٹرول اور ڈیزل پر چلتا ہے۔ ہوائی جہاز جیٹ فیول استعمال کرتے ہیں، ریلوے ڈیزل پر چلتی ہے، جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تیل کی مجموعی کھپت میں کمی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ایک اور اہم پہلو سائیکلنگ کلچر کا فقدان ہے۔ پاکستان میں شہری انفراسٹرکچر اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ سڑکیں زیادہ تر موٹر گاڑیوں کے لیے مخصوص ہوتی ہیں، جبکہ سائیکل سواروں کے لیے مناسب سہولیات موجود نہیں۔ نتیجتاً طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کے پاس موٹر سائیکل یا دیگر گاڑیوں کے استعمال کے سوا کوئی مؤثر متبادل نہیں رہتا۔ جس سے پٹرول کی کھپت اپنی سطح پر برقرار رہتی ہے

پٹرول کے بعد حکومت نے عوام پر بجلی بم بھی گرا دیا

بعض دیگر ماہرین کے بقول ذخیرہ اندوزی بھی کھپت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان کے مطابق بعض آئل کمپنیاں اپنی ضرورت سے زیادہ پیٹرول خرید کر ذخیرہ کر لیتی ہیں، جو بعد میں اضافی قیمتوں پر فروخت کر کے زیادہ منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کمپنی کو 40 ہزار لیٹر کی ضرورت ہو لیکن وہ 50 ہزار لیٹر خرید لے تو یہ اضافی مقدار بھی مجموعی کھپت میں شامل ہو جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ بھی کھپت بڑھنے کی ایک وجہ ہے، تاہم ان کے نزدیک گاڑیوں کی ٹینکیاں فل کروانا بنیادی سبب نہیں، کیونکہ اس سے مجموعی استعمال میں نمایاں فرق نہیں پڑتا۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی کھپت محض قیمتوں کا ردِعمل نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی، سماجی اور ساختی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج کارفرما ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں بڑھنے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔

 

Back to top button