حامد میر جیسے صحافیوں سے حکمران ناراض کیوں ہوتے ہیں؟

سینیئر اینکرپرسن حامد میر نے کہا ہے کہ صحافی کو کسی سیاسی جماعت یا ریاستی ادارے کا آلہ کار بننے کے بجائے صرف سچ بولنا چاہیے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جب کوئی صحافی سچ بولنے کی جرات کرتا ہے تو اہل اقتدار اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔
حامد میر اپنی تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ اگلے روز اسلام آباد میں ایک نجی یونیورسٹی میں انکی نئی کتاب ’’رودادِ ستم‘‘ کے باب ’’پاگل فلسفی کا ناچ‘‘ پر ایک مباحثہ منعقد ہوا جس میں صحافیوں کو درپیش پابندیوں اور ان کے پس منظر پر گفتگو کی گئی۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ مصنف کو نہ تو سٹیج پر بیٹھنا تھا اور نہ ہی تقریر کرنی تھی؛ بلکہ انہیں سامعین میں بیٹھ کر اپنے بارے میں ہونے والی بحث سننا تھی۔ حامد میر کی کتاب کے اس مخصوص باب میں ماضی اور حال میں صحافیوں پر لگنے والی پابندیوں اور دباؤ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
تقریب میں دو طلبہ نے حامد میر کے خلاف اور دو نے ان کے حق میں دلائل پیش کیے۔ ان کے خلاف پیش کی جانے والی چارج شیٹ کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ وہ ہر حکومت پر تنقید اور ہر اپوزیشن کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ کہ عمران خان کے دور حکومت میں جن لوگوں نے انہیں غدار قرار دیا، شہباز شریف کے دور میں جب وہی لوگ گرفتار ہوئے تو انہوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کر کے ’اخلاقی تضاد‘ کا مظاہرہ کیا۔
اس الزام کے جواب میں ایک طالب علم نے کہا کہ اگرچہ حامد میر کوئی ’پاگل فلسفی‘ نہیں، لیکن وہ ایک ایسے دیوانے صحافی ضرور ہیں جو اپنے والد پروفیسر وارث میر مرحوم کی صحافتی کی روایت آگے بڑھاتے ہوئے اپنے مخالفین پر ہونے والے ظلم کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
حامد میر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور کی حکومت میں کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے صحافیوں کے خلاف مقدمات اور پابندیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں وہ چاہے خود کو کتنا ہی محب وطن تصور کریں، مگر ’’ہم جیسے پاگل اور آؤٹ آف فیشن صحافی‘‘ ایسے ہتھکنڈوں کی تائید کبھی نہیں کر سکتے۔
حامد میر نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ ماضی میں جن طاقتور حلقوں نے ان پر جھوٹے مقدمات بنائے، پابندیاں لگوائیں اور انہیں غدار قرار دیا، وہ آج اگر کسی اور صحافی یا سیاستدان پر جھوٹا مقدمہ قائم کریں تو انہیں ان کے ہاتھوں میں ’’چابی والا کھلونا‘‘ نہیں بننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا اصولی مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ صحافت کا کام سچ اور جھوٹ کے درمیان ’’نیوٹرل‘‘ رہنا نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینا ہے، کیونکہ نیوٹرل صحافت دراصل کوئی صحافت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں یہ نظریہ ’’آؤٹ آف فیشن‘‘ سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ اسی ’’اولڈ سکول آف جرنلزم‘‘ پر قائم رہیں گے جس میں طاقت کے سامنے سچ بولنے کو جرم نہیں بلکہ فرض سمجھا جاتا ہے۔
