شہباز شریف کے معاشی اڑان کے دعوے کھوکھلے کیوں ہیں؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی اتحادی حکومت اپنے دو برس مکمل کرنے کے قریب ہے اور ان کا دعویٰ رہا ہے کہ اس عرصے میں ملک معاشی طور پر مستحکم ہوا ہے، اسکے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر برقرار ہے۔

دوسری جانب حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے دو برس میں 150 بڑے ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو گئے ہیں جو بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملازمتیں دیتے تھے۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھنے کے باعث چھوٹی صنعتیں کباڑ خانوں میں تبدیل ہو گئی ہیں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا ہے۔ ایسے میں حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آتی ہے۔ جہاں ایک جانب حکومتی وزرا ملکی معیشت کی اڑان کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں عام شہری، صنعت کار اور کاروباری طبقہ خود کو شدید معاشی دباؤ میں گھرا ہوا محسوس کر رہا ہے۔

روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور دکھائی دیتی ہیں اور ہزار کا نوٹ کی حقیقی ویلیو گر کر 100 روپے ہوچکی ہے،ایسے میں وزیراعظم کی جانب سے ملک میں اقتصادی خوشحالی کے دعوے کرنا سمجھ سے باہر ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ مستقبل میں پاکستان کو شاید آئی ایم ایف کا دروازہ دوبارہ نہ کھٹکھٹانا پڑے، لیکن درحقیقت اس وقت بھی سات ارب ڈالر کا آئی ایم ایف قرض پروگرام جاری ہے۔ حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو زراعت، صنعت، کان کنی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اڑان بھرتی معیشت قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ افراط زر کو 30 فیصد سے کم کر کے ساڑھے پانچ فیصد تک لایا گیا ہے اور اقتصادی اشاریے بہتری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ تاہم معاشی ماہرین اور کاروباری حلقے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی ڈیووس تقریر سے چند روز قبل ہی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایس ایم تنویر نے انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سے دو برس کے دوران 150 بڑے ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ ان یونٹس کی بندش سے نہ صرف لاکھوں ملازمتیں ختم ہوئیں بلکہ برآمدات اور صنعتی پیداوار کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے مطابق مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور ٹیکسوں کے بوجھ کے باعث چھوٹی صنعتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ ریئل سٹیٹ سیکٹر جمود کا شکار ہے۔ زراعی شعبے کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ ڈیفالٹ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے اور افراط زر میں کمی آئی ہے، لیکن اس استحکام کے ثمرات عام آدمی یا کاروباری طبقے تک منتقل نہیں ہو سکے۔ سرکاری ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق سال 2018-19 کے مقابلے میں سال 2024-25 میں تنخواہوں میں اضافے کے باوجود عوام کے معیارِ زندگی میں کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر عوام کی قوتِ خرید میں 15 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ملازمت پیشہ افراد کا کہنا ہے کہ آمدن کے مقابلے میں انکے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ عالمی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی اس صورت حال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق سال 2023-24 میں پاکستان کی تقریباً 25 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جبکہ 2018 تک غربت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا۔

معاشی ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ افراط زر میں کمی کا مطلب قیمتوں میں کمی نہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کا کم ہونا ہے۔ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید مسلسل سکڑ رہی ہے۔ اسی دوران لیبر فورس سروے کے مطابق مالی سال 2025 میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو دو دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق معاشی استحکام کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی اور صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایسی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد بجلی اور ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی تاکہ نجی شعبے کو سہارا دیا جا سکے۔

اس کے برعکس ماہرینِ معیشت اور سابق وزرائے خزانہ اس استحکام کو گروتھ لیس سٹیبلٹی قرار دے رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق درآمدات پر پابندیاں، بلند ٹیکس اور سخت مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے استحکام تو لایا گیا، مگر اس کی قیمت صنعتی زوال، بیروزگاری اور بڑھتی غربت کی صورت میں عوام نے ادا کی۔

پبلک پالیسی کے ماہر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی ماڈل عوامی خوشحالی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے بجائے صرف شرح بڑھائی جا رہی ہے۔

حکومتی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن مصدق ذوالقرنین کے مطابق معاشی استحکام کا مطلب یہ ہے کہ حالات مزید خراب نہیں ہو رہے، مگر ترقی کے لیے سالانہ کم از کم چھ سے سات فیصد شرح نمو درکار ہے، جبکہ موجودہ پالیسیوں میں گروتھ کو دانستہ طور پر محدود رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال 40 لاکھ افراد جاب مارکیٹ میں آتے ہیں، جن کے لیے روزگار پیدا کرنا موجودہ رفتار سے ممکن نہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کاروباری لاگت میں کمی ناگزیر ہے۔ تاہم صنعتکاروں کے مطابق پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ٹیکسوں کی بلند شرح اور پالیسیوں کا عدم تسلسل سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگرچہ وزارت خزانہ کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کا رخ کر رہی ہیں، لیکن مقامی صنعتیں اپنی مکمل پیداواری صلاحیت سے کہیں کم پر چل رہی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام سے نجات کے حوالے سے بھی ماہرین محتاط ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ساختی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور وفاق و صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم پر نظرثانی نہیں کی جاتی، آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارا ممکن نہیں۔

پاکستانی ریاست عمران خان کی یرغمال کیسے بن چکی ہے؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ محض اعداد و شمار کی بہتری کو عوامی خوشحالی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک معیشت کی سمت روزگار، صنعت اور قوتِ خرید میں اضافے کی جانب نہیں موڑی جاتی، تب تک معیشت کی اڑان کے دعوے عام آدمی کے لیے محض ایک نعرہ ہی رہیں گے۔

Back to top button