استعمال شدہ فونز کی درآمد پر ’پابندی‘ سے دکاندار پریشان کیوں؟

 

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے استعمال شدہ موبائل فونز کی امپورٹ پر پابندی نے مقامی دکانداروں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ حکومتی پابندی کے بعد ملک بھر میں وہ خریدار اور دکان دار زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں جو عالمی معیار کے استعمال شدہ سمارٹ فونز پر انحصار کرتے ہیں۔ متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ طلب آئی فون، ون پلس اور سام سنگ کی ہے۔ مقامی طور پر بننے والے فون نہ معیار میں پورے اترتے ہیں اور نہ صارف انہیں پسند کرتے ہیں۔ اگر استعمال شدہ فونز کی درآمد پر پابندی برقرار رہی تو نہ صرف مارکیٹ بیٹھ جائے گی بلکہ ہزاروں لوگ بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ پرانے موبائل فونز کی درآمد پر پابندی کا مقصد مقامی موبائل انڈسٹری کو فروغ دینا، ٹیکس نقصانات کو روکنا اور صارفین کو ممکنہ فراڈ اور سیکیورٹی خدشات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس لئے پرانے موبائل فونز کی امپورٹ پر عائد پابندی ختم نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2033-2026 کے تحت ٹو جی ہینڈ سیٹس کی مینوفیکچرنگ، پانچ سال سے پرانے موبائل فونز کی رجسٹریشن اور استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔ پالیسی میں مرحلہ وار لوکلائزیشن، اہم پُرزہ جات جیسے مدربورڈ، پی سی بی، الیکٹرانک پارٹس اور ڈسپلے کمپونینٹس کی مقامی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھانے کی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

پاکستان موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر مظفر پراچہ کا حکومت کی جانب سے پرانے موبائل فونز کی درآمدات پر پابندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جب صارفین بیرونِ ملک سے استعمال شدہ موبائل فون منگواتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف معیار کے لحاظ سے غیر یقینی ہوتے ہیں بلکہ استعمال شدہ موبائل فونز کے نام پر فراڈ کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

 

مظفر پراچہ نے اس دھوکہ دہی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرح کا فراڈ یہ ہے کہ استعمال شدہ درآمدی موبائل فونز کے کاروبار سے منسلک افراد استعمال شدہ موبائل فون منگوا کر انہیں نیا کہہ کر صارفین کو فروخت کر دیتے ہیں۔ دوسرا فراڈ اُس وقت ہوتا ہے جب استعمال شدہ موبائل فونز پر ڈیوٹیز ادا نہیں کی جاتیں اور ان کا آئی ایم ای آئی کسی دوسرے فون کے ساتھ جوڑ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں نہ صرف حکومت کو ٹیکس کی مد میں نقصان ہوتا ہے بلکہ صارفین کو بھی مالی اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جب صارفین کے لیے بیرونِ ملک سے استعمال شدہ موبائل فون خریدنے کا آپشن ختم ہونے کا سوال اٹھایا گیا تو مظفر پراچہ نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 98 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں، اور ایپل کے علاوہ تمام بڑی کمپنیاں ملک میں ڈیوائسز بناتی ہیں، اس لیے اس پالیسی سے صارفین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

 

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ میں حالیہ برسوں میں تیزی آئی ہے، اور سالانہ تقریباً ساڑھے تین کروڑ فون ملک میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ درآمد شدہ فونز کی تعداد صرف 17 لاکھ کے قریب ہے۔ یوں ملکی ضرورت کا 95 فیصد حصہ مقامی طور پر تیار شدہ فونز سے پورا ہو رہا ہے۔ تاہم مارکیٹ میں عام تاثر یہ ہے کہ اگرچہ مقامی طور پر تیارکردہ موبائل فونز کم قیمت ہوتے ہیں، لیکن معیار کے اعتبار سے عالمی برانڈز کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔

پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کب تک آ جائے گی؟

لاہور میں موبائل فون کے دکاندار محمد ابراہیم کے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والے فونز پر پی ٹی اے ٹیکس بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ فون غیر معیاری ہونے کے ساتھ مہنگے بھی ہیں۔ اسی قیمت میں لوگ درآمد شدہ نان پی ٹی اے آئی فونز کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر یوٹیوب، فیشن فوٹوگرافی یا سوشل میڈیا کے صارفین امپورٹڈ موبائل فونز کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ تاہم اب حکومتی پابندی کے بعد نہ صرف شہریوں کو مشکلات پیش آئیں گی بلکہ کاروبار بھی متاثر ہوگا۔ اگر استعمال شدہ آئی فونز کی درآمد بند رہی تو یہ فونز مزید مہنگے ہو جائیں گے اور عام صارف کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز کے معیار کو بہتر بنانا چاہیے، تاکہ صارفین عالمی برانڈز کے متبادل قبول کرنے پر تیار ہوں۔ جب تک پاکستان میں اعلیٰ معیار کے سمارٹ فونز تیار نہیں ہوتے، عالمی برانڈز پر پابندی مارکیٹ کو غیر مستحکم کرنے اور خریداروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کرے گی۔

 

Back to top button