نئے سال میں سولر پینلر 20 فیصد مزید مہنگے ہونے کا خدشہ

 

 

 

سولر پینلز کی تیاری میں استعمال ہونے والے ماڈیولز کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 2025 میں سستے ہونے والے سولر پینلز ایک بار پھر مہنگے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رواں سال سولر پینلز کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،جس کے بعد آنے والے دنوں میں سولر سسٹمز کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان کی بلندیوں کو چھوتی نظر آتی ہیں۔

خیال رہے کہ 2025 میں عالمی سطح پر چینی مینوفیکچررز کی حد سے زیادہ پیداوار اور روپے کی قدر میں استحکام کی وجہ سے سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم عالمی سطح پر سولر پینلز کی ڈیمانڈ بڑھنے اور پینلز کی پیدواری لاگت میں اضافے کے بعد سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں تقریباً 8 سے 11 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ آنے والے وقت میں مزید 10 سے 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق چین میں سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں درآمد کیے جانے والے سولر پینلز پر پڑنے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سولر پینلز کی امپورٹ کرنے والے تاجر مستقبل قریب میں قیمتوں میں متوقع اضافے کی صورت میں بہتر منافع حاصل کر سکتے ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ہی پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کا امکان موجود ہے۔ اس وقت اگر فی واٹ سولر پینل کی قیمت 27 یا 28 روپے کے قریب ہے تو آئندہ مہینوں میں یہ بڑھ کر 38 سے 39 روپے فی واٹ تک بھی جا سکتی ہے، تاہم بعض دیگر ماہرین کے بقول اگر 2025 کے آخر، خصوصاً دسمبر کے ریٹس کو بنیاد بنایا جائے تو 2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی بڑے یا غیر معمولی اضافے کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برانڈز میں قیمتوں کا اضافہ اوسطاً 3 سے 5 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے، جو کسی بڑے جھٹکے کے بجائے ایک قدرتی مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

 

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ 2025 میں چین حکومت کی جانب سے وی اے ٹی ریبیٹ کے خاتمے اور پیداوار میں جزوی کمی سمیت پالیسی فیصلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر سولر ماڈیولز کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس سے سولر پینلز کی قیمتیوں میں 10سے 15فیصد تک اضافے کا امکان ہے تاہم عالمی سطح پر اوور سپلائی کی صورتحال مکمل طور پر ختم نہ ہونے کے باعث کسی بڑے اضافے کے امکانات محدود ہیں۔ ماہرین کے بقول پاکستانی مارکیٹ کے تناظر میں بات کی جائے تو 2025 کے اختتام پر سولر پینلز کی قیمتیں تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، جہاں بعض برانڈز کے پینلز 18 سے 20 روپے فی واٹ تک دستیاب تھے۔ بعد ازاں قیمتوں میں معمولی اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا، مگر مجموعی طور پر مارکیٹ اب بھی نسبتاً مستحکم ہے۔ ایسے حالات میں 2026 کے دوران قیمتوں میں یا تو استحکام رہنے یا پھر 3 سے 10 فیصد کے درمیان ہلکے اضافے کا امکان موجود ہے۔

بگٹی مریم کی طرح بلوچستان کو پولیس سٹیٹ بنانے کے خواہاں کیوں؟

دوسری جانب پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین حسنات خان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق موسم کی تبدیلی اور سردیوں کے آغاز کے باعث آنے والے مہینوں میں سولر سسٹمز کی طلب میں کمی متوقع ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کسی بڑے اضافے کے امکانات کم ہیں اور مارکیٹ ریٹس قابو میں رہنے کی توقع ہے۔ تاہم ماڈیولز کی قیمتیں بڑھنے سے مستقبل قریب میں سولر پینلز کی قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

Back to top button