فیک نیوز پھیلانے والوں کو روکنے کے لیے سخت سزائیں لازمی کیوں ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آج کی دنیا میں سوشل میڈیا کی شتر بے مہار آزادی کا نقصان مین اسٹریم میڈیا کو ہو رہا ہے، پاکستانی میڈیا انڈسٹری سوشل میڈیا کی وجہ سے شدید مالی خطرات کا شکار ہو چکی ہے، مین اسٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ریاستی قوانین اور ریگولیشنز کی بھرمار ہے، جن کی خلاف ورزی پر آئے روز جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جب کہ بے لگام سوشل ریاست کی جانب سے میڈیا فائر وال لگانے کے باوجود آزادی سے فیک نیوز پھیلانے میں مصروف ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف رائج شدہ قوانین سے کام لے کر فیک نیوز پھیلانے والوں کو سزائیں دینا شروع کر دے تو دِنوں میں فرق پڑ سکتا ہے۔ قاضی فائز عیسی سے بدتمیزی کرنے والے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا جنگجو برطانیہ جیسے آزاد ملک میں رہتے تھے لہازا ان کو نہ تو کوئی ڈر ہے اور نہ ہی کوئی خوف، اسی لئے وہ ہر حد کراس کر گے۔ لیکن اس مرتبہ حکومت پاکستان نے سابق چیف جسٹس کی کار ہر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے قانونی راستہ لیا تو دو درجن ملزموں میں سے سات نے باقاعدہ تحریری طور پر معذرت کرتے ہوئے ویڈیو معافی نامے بھی جمع کروائے۔ لہذا ثابت ہوا کہ اس مسئلے کا حل پابندیاں نہیں بلکہ قانون سازی اور اس پر موثر عمل درآمد ہے۔
اپنے تازہ تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں تاریخ کا سبق یہ ہے کہ پابندیاں ترقی کو روکتی ہیں جبکہ قانون ،آزادی اور برداشت ترقی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ مشرق اور مغرب ماضی میں نئی سوچ اور نئی ٹیکنالوجی پر پابندیاں لگاتے رہے جس سے انسانیت کی ترقی رکی رہی۔ لیکن جب سائنٹیفک سوچ نے فروخت پایا اور تحمل، برداشت، قوانین اور آزادی کا دور شروع ہوا تو سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ ملا آج کی جدید دنیا کی تشکیل ممکن ہوئی۔
اب پاکستان میں وی پی این کو اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر اسلامی قرار دیا ہے حالانکہ اسلام اور سائنس کا سرے سے کوئی تضاد نہیں، البتہ علما کا سائنس سے اختلاف ضرور ہے۔ یاد کریں کہ ترکی میں گھڑیال کا تحفہ آیا تو اسے بدعت قرار دیدیا گیا اور ولی عہد نے اسے چوراہے میں رکھ کر توڑ ڈالا، مگر آج ہر عالم دین نے گھڑی باندھی ہوئی ہے۔ کیمرہ ایجاد ہوا تو تصویر کے خلاف فتوے آئے، ترکی میں تصویر کو کافرانہ قرار دیا گیا۔ ہمارے خطے کے علماء تو چند سال پہلے تک تصویر اتروانے کو گناہ قرار دیتے تھے، حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ والے سرعام ٹی وی توڑ کر ثواب دارین حاصل کیا کرتے تھے لیکن اب ہر عالم دین ٹی وی کی اسکرین پر جلوہ افروز ہونا باعث فخر سمجھتا ہے ۔
جب لاؤڈ اسپیکر پاکستان پہنچا تھا تو علمائے کرام نے فتوے دیے کہ اس میں شیطان بولتا ہے، لیکن آج تمام مساجد کے امام اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر ہی استعمال کرتے ہیں، یعنی پچھلے زمانے میں کیے گے اعتراضات آج احمقانہ ثابت ہو چکے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے بقول سوشل میڈیا نے آج دنیا کے ہر ملک کو پریشان کر رکھا ہے، صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں اس کی ہولناکیوں اپنے اثرات دکھا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خرابی نامعلوم افراد کو افواہیں پھیلانے کا حق مل جانا ہے جو جھوٹی سچی خبریں بغیر کسی تصدیق و توثیق کے چلا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب مین اسٹریم میڈیا چیک اینڈ بیلنس کے نظام پر چلتا ہے، اس کے لیے قوانین ہیں۔ ہر میڈیا کمپنی کے اپنے ضوابط ہیں جن کے تحٹ عوامی احتساب کا راستہ بھی کھلا رہتا ہے۔
لیکن آج کا سوشل میڈیا آتر بے مہار اور بےلگام ہے، جو بلا روک ٹوک جھوٹ پھیلاتا ہے، اور انتشار کا باعث بنتا ہے، اس انتشار کی وجہ سے ملکی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے مگر میری حقیر رائے میں اس شتر بے مہار کا علاج پابندی نہیں بلکہ اس پر قوانین و ضوابط کا اطلاق ہے۔ آج کل ریاست اور حکومت کا کام ترقی کے آگے بند باندھنا نہیں بلکہ اسے ریگولیٹ کرنا ہے۔ ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ آپ کسی چیز پر پابندی لگائیں گے تو وہ اور بھی زیادہ مقبول ہو گی اور لوگ چھپ چھپا کر اس پابندی کا توڑ کریں گے۔
سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور گالیوں سے بدنام کیا جاتا ہے، میں خود کئی بار اس نفرت انگیز جرم کا نشانہ بنا ہوں لیکن پھر بھی میرا یہ موقف یے کہ سوشل میڈیا یا وی پی این پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گا، فیک نیوز اور کردار کشی روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی سوشل میڈیا کے لیے وہی قوانین و ضوابط ترتیب دیے جائیں جو برطانیہ میں نافذ ہیں۔ ان قوانین کو اپنانے سے یہ شور بھی نہیں پڑے گا کہ پاکستان میں آزادیاں محدود ہو گئی ہیں، نہ ہی کوئی یہ کہہ سکے کہ وی پی این پر پابندی سے بزنس کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
بشری بی بی نے رہائی کی ڈیل توڑ دی، پارٹی ٹیک اور کرنے کا منصوبہ
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پابندیوں کے فلسفے کی بنیاد میں ایک خرابی مضمر ہے۔ پابندی کی زد میں وہ بھی آجاتا ہے جو کوئی غلط کام نہیں کر رہا ہوتا اور وہ بھی آتا ہے جو غلطی کر رہا ہوتا ہے۔ فرض کریں وی پی این پر پابندی جاری رہتی ہے تو اس کی زد میں وہ بیچارا بھی آجائے گا جو اس جدید ایجاد سے ملک کیلئے لاکھوں کا زرمبادلہ کما رہا ہے اور وہ شرپسند بھی اس کی زد میں آ جائے گا جو فتنہ اور فساد پھیلا رہا ہے۔ ریاست کا فریضہ ہے کہ وہ ایسے قوانین لائے کہ انتشار پھیلانے والے پر پابندی لگے اور زرمبادلہ کمانے والے کو سہولتیں ملیں۔ ہمارے جیسے ملک میں انتشاری تو پابندیوں کے باوجود چور دروازوں سے کام نکال لیتے ہیں اور بے چارے شریف کاروباری سب کچھ ہار بیٹھتے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ لہذا پاکستان میں پابندیاں لگانے کے بجائے نئی ایجادات اور نئی سوچ کو ریگولیٹ کرنے یا نظم و ضبط میں لانے کی ضرورت ہے، پابندیاں لگانے سے ہم سوشل میڈیا اور وی پی این کے فوائد سے بھی محروم ہو جائیں گے، ہم سائنس، ایجادات اور ترقی کو روک نہیں سکتے، روکنے کے عمل سے ہم پیچھے رہ جائیں گے اور دنیا آگے نکل جائے گی۔ ہمیں فیصلے فوری ضرورت کے تحت نہیں بلکہ دور رس نتائج کو ذہن میں رکھتے ہوئے کرنے چاہئیں۔ ضروری یے کہ سوشل میڈیا کو ریگولیشن کی چھتری تلے لایا جائے تاکہ یہی منفی ہتھیار ہماری طاقت بن سکے۔
