پنجاب میں PTI کے لیے آنے والے دن اور بھی مشکل کیوں؟

لاہور اور گوجرانوالہ میں اگلے روز پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف اور بالخصوص عمران خان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کے لیے سیاسی فضا دن بدن تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ حالات اتنے دگرگوں ہو چکے ہیں کہ سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ سماجی اور ثقافتی مواقع پر بھی سیاسی رائے کا اظہار کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لاہور میں پیش آنے والا ایک تازہ ترین واقعہ اس بد ترین صورتحال کی ایک واضح مثال ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام ایک سرکاری اور غیر سیاسی ثقافتی پروگرام کے دوران معروف قوال فراز امجد خان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان سے منسوب نغمہ ‘قیدی نمبر 804’ پیش کیا گیا۔ اس گیت کو حاضرین کی جانب سے سراہا گیا تاہم مقامی انتظامیہ نے اسے سیاسی رنگ دینے کے مترادف قرار دے دیا۔ چنانچہ شالیمار گارڈنز کے انچارج زمیراُل حسن کی مدعیت میں قوال اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اس محفل کے دوران پیشگی اجازت کے بغیر اشتعال انگیز اور ریاست مخالف سیاسی کلام پیش کیا گیا جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
پولیس نے اس کیس میں پینل کوڈ آف پاکستان کی سنگین دفعات شامل کیں، جن میں ریاست کے خلاف اکسانے، مختلف طبقات کے درمیان نفرت پھیلانے، امن عامہ میں خلل ڈالنے اور عوامی شرارت پر اکسانے جیسی دفعات شامل ہیں۔ اگرچہ سیشن کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد قوال کو 13 جنوری 2026 تک عبوری ضمانت دے دی، تاہم اس واقعے نے واضح کر دیا کہ اب عمران خان سے وابستہ یا ان کے نام سے جڑی کسی بھی علامت کو ثقافتی سرگرمی میں استعمال کرنا بھی قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب حال ہی میں گوجرانوالہ میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آنے والا واقعہ اس دباؤ کی ایک اور مثال ہے جس کا سامنا تحریک انصاف کے حامیوں کو درپیش ہے۔ راہوالی کینٹ کے قریب ایک بینکوئٹ ہال میں شادی کی تقریب کے دوران چند افراد نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے اور انکی تصاویر لہرائیں۔ یہ عمل گوجرانوالہ انتظامیہ کی نظروں میں قابلِ اعتراض ٹھہرا اور پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سات افراد کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے پولیس رپورٹ کی بنیاد پر ان افراد کو 14 روز کے لیے ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ افراد احتجاجی مظاہرے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور جی ٹی روڈ کو بلاک کرنے کا پلان تھا، جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی تھی۔ اگرچہ یہ نعرے ایک نجی تقریب میں لگائے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود سخت قانونی کارروائی نے یہ پیغام دیا کہ عمران خان کے حق میں کسی بھی قسم کا عوامی اظہار اب ریاستی مشینری کی جانب سے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عمران کے حامی جان دینے والے جوانوں کو ہیرو کیوں نہیں مانتے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان واقعات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان اور عمران خان سے ہمدردی رکھنے والے رہنماؤں کے لیے آنے والا وقت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف تو پارٹی کی مرکزی قیادت پہلے ہی قانونی مقدمات اور گرفتاریوں کی زد میں ہے، جبکہ دوسری جانب نچلی سطح کے کارکنوں کے لیے بھی خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ اب حالات اس نہج پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں صرف سیاسی جلسے جلوس ہی نہیں بلکہ شادی بیاہ، ثقافتی پروگرام اور نجی تقریبات بھی نگرانی اور ممکنہ کارروائی کے دائرے میں آ چکی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سخت رویے کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے حامیوں میں مزید بے چینی اور احساسِ محرومی پیدا ہو، جبکہ سیاسی اظہار کے مواقع محدود ہونے سے جمہوری عمل پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ مجموعی طور پر لاہور اور گوجرانوالہ کے یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ پنجاب میں عمران خان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کے لیے آنے والے دن نہ صرف مشکل بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ کڑے اور آزمائشوں سے بھرپور ثابت ہونے جا رہے ہیں۔
