عمران خان پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کیوں؟

 

 

 

اقتدار کے متلاشی عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کا غصہ اب پاکستان دشمنی میں ڈھل چکا ہے۔ تحریک انصاف کے’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘‘ جیسے نعرے محض سیاسی جذبات کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے بیانیے کو جنم دیتے ہیں جو ریاستی مفادات سے براہِ راست متصادم دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق تحریک انصاف اب ایک سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ بے لگام شر پسندوں کا ٹولہ بن چکی ہے جس کا واحد مقصد ملک میں مسلسل فساد برپا کرنا ہے تاکہ معیشت کا جنازہ نکل جائے اور حکومت کا خاتمہ ہو جائے اور اقتدار ان کی جھولی میں ڈال دیا جائے۔ پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کی ان کوششوں کو عمران خان کبھی حقیقی آزادی سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی انقلاب کا نام دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مقتدر حلقے عمرانی ٹولے کی ساری سازشوں کو جان چکے ہیں اسی لئے وہ منتوں ترلوں اور یقین دہانیوں کے باوجود ان پر اعتبار کرنا تو کجا ان سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ لگتا یہی ہے کہ عمران خان کے جارحانہ اور شرپسندانہ طرز عمل کی وجہ سے ان پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ کیلئے عملی سیاست سے مائنس ہو چکے ہیں۔

 

 

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی نے سیاسی جدوجہد کے روایتی اور جمہوری راستوں کے بجائے ایک تصادمی حکمتِ عملی اپنائی۔ داخلی سطح پر احتجاج، دھرنوں اور کشیدگی کو ہوا دینا ہو یا 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات، پی ٹی آئی نے ہمیشہ شرپسندانہ اقدامات سے نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کیا بلکہ ملکی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق ضرور ہوتا ہے، مگر ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانا کھلی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کا معاملہ صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ پی ٹی آئی نے اپنے بیانیے کو عالمی سطح تک لے جا کر پاکستان کے اندرونی حالات کو اس انداز میں پیش کیا جس سے یورپی یونین جیسے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے، عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی جانب سے یورپی یونین سے جی ایس پی پلس جیسے معاہدے پر نظر ثانی کے مطالبے کو ماہرین کھلی معاشی خودکشی قرار دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی آفریدی سرکار نے گورنر کو مکمل بے اختیار کیسے کیا؟

معاشی محاذ پر بھی پی ٹی آئی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، پی ٹی آئی نے صوبائی سطح پر ایسے اقدامات کیے جنہوں نے بین الاقوامی معاہدوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے آخری ایام میں دی جانے والی سبسڈیز محض ایک سیاسی چال تھیں، جنہوں نے پاکستانی معیشت میں بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر، بڑھتا ہوا مالی خسارہ اور عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کے باوجود بغیر ٹھوس منصوبہ بندی کے کیے گئے فیصلوں نے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف جب اقتدار میں تھی تو اس نے ملکی معیشت کو بری طرح چلایا اور اب اپوزیشن میں آ کر بھی وہ مسلسل ملکی معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوششیں کر رہی ہے، جمہوری اور قانونی ذرائع کے بجائے غیر ملکی مداخلت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ماقدامات قومی مفادات سے متصادم ہیں۔پاکستان اس وقت سٹریٹجک شراکت داری، تجارتی معاہدوں اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں بھی پی ٹی آئی کا رویہ تضادات سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف بیرونی مداخلت کے خلاف ہم کوئی غلام ہیں کا بیانیہ اپنایا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف بیرونِ ملک لابنگ، امریکی سیاسی شخصیات سے روابط اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق اب صرف پی ٹی آئی کے مخالفین ہی نہیں بلکہ حامی بھی یہ رائے قائم کرنے لگے ہیں کہ تحریک انصاف کی بنیاد جھوٹ، فریب، شر اور جارحیت پر قائم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان حکومت یا سنجیدہ سیاست کرنے نہیں آئے بلکہ انھیں پاکستان کے خلاف بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اس وقت میدان میں اتارا گیا جب پاکستان کو توڑنے کی خواہش رکھنے والی طاقتوں کو معلوم ہوگیاکہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی اساس مضبوط ہونے کی وجہ سے یہ ملک ناقابل تسخیر ہے تو انہوں نے پاکستان دشمن ایجنڈا مکمل کرنے کیلئے عمران خان کی صورت میں اپنی ’’ہم خیال‘‘ پراکسی کو پاکستان میں پلانٹ کیا جو پاکستان میں منافرت، سول نافرمانی، بغاوت، معاشرے خصوصاً نوجوان نسل کو گمراہی کے راستے پرڈال کر اور اداروں کو تقسیم کر کے ملک کے ٹکڑے کرنےکیلئے مکروہ مشن پر عمل پیرا ہے۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ حکمتِ عملی محض حکومت مخالف سیاست نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل دباؤ کا حصہ ہے جس میں ریاستی، معاشی اور سفارتی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی طرز سیاست کی وجہ سے پی ٹی آئی مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد کھو چکی ہے جبکہ اب عوام بھی پی ٹی آئی کی احتجاجی اور انتشاری پالیسیوں سے نالاں دکھائی دیتی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین سیز فائر یا کسی بھی قسم کی مفاہمت کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔

 

Back to top button