بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات پاکستان کیلئے اتنے اہم کیوں؟

 

 

 

جنوبی ایشیا کی سیاست ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ جہاں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد 12 فروری کو ہونے والے پہلے عام انتخابات محض اقتدار کی منتقلی کی بجائے خطے میں طاقت کے توازن بدل سکتے ہیں۔ کروڑوں بنگلہ دیشی ووٹرز کے فیصلے سے یہ طے ہوگا کہ ڈھاکہ انڈیا کے ساتھ روایتی قربت برقرار رکھتا ہے یا چین اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق الیکشن کے اثرات صرف بنگلہ دیش کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، معاشی شراکت داریوں اور علاقائی اتحادوں کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں انتخابات ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب ملک ایک بڑے سیاسی بحران سے نکل کر جمہوری عمل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ کے پندرہ سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس تحریک کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن میں تقریباً 1400 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے باعث عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا۔ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے 18 ماہ تک اقتدار سنبھالا، اور اب ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے جن میں 12 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ووٹرز حصہ لیں گے۔اقتدار کی دوڑ میں 51 سیاسی جماعتیں شامل ہیں، تاہم اصل مقابلہ بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان متوقع ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان، جو تقریباً دو دہائیوں بعد جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے ہیں، وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

 

بنگلہ دیش میں ہونے والے یہ انتخابات جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو کس حد تک نئی شکل دے سکتے ہیں، اور ان کے نتائج چین، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ ڈھاکہ کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب کریں گے؟ مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش میں ہونے والے الیکشن کا نتیجہ ڈھاکہ کے اہم علاقائی طاقتوں چین، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی بات کی جائے تو شیخ حسینہ کے دور میں انڈیا بنگلہ دیش کا سب سے قریبی شراکت دار رہا ہے، تاہم ان کی معزولی اور نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح کشیدگی دیکھی گئی۔ انڈیا کی جانب سے شیخ حسینہ کو پناہ دئیے جانے اور ان کی حوالگی سے انکار نے ڈھاکہ میں ناراضی کو مزید بڑھایا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں انڈیا نے بنگلہ دیشی برآمدات کے لیے ٹرانس شپمنٹ کی سہولت معطل کی اور ویزا پابندیاں بھی سخت کر دیں، جس سے خاص طور پر طبی سیاحت متاثر ہوئی۔تاہم ماہرین کے مطابق انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک ایک بار پھر عملی اور مفاد پر مبنی تعلقات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ سابق سفیر ہمایوں کبیر کے مطابق، بنگلہ دیش میں جو بھی حکومت آئے گی، اسے اندرونی دباؤ کے باعث انڈیا کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا، جبکہ انڈیا بھی اپنی تزویراتی ضرورتوں کے تحت رابطے بحال کرے گا۔

 

شیخ حسینہ کے سخت انڈیا نواز رجحان کے برعکس، عبوری حکومت نے بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو دو دیگر اہم علاقائی کھلاڑیوں چین اور پاکستان کی جانب متوازن کرنے کی کوشش کی، جو انڈیا کے بڑے حریف بھی سمجھے جاتے ہیں۔ نگراں حکومت کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر معاشی اور عوامی روابط کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان روابط ماضی کی نسبت زیادہ مضبوط ہوئے۔ جنوری میں 14 برس کے وقفے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔مبصرین کے مطابق، پاکستان کے لیے بی این پی الیکشن میں فاتح قرار پاتی ہے یا جماعتِ اسلامی، دونوں ہی صورتوں میں تعلقات مثبت رہنے کا امکان ہے، کیونکہ بی این پی کے دورِ حکومت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کا بھی پاکستان میں اثر و رسوخ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق نگران حکومت کے دور میں بنگلہ دیشن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو بہتری آئی ہے، وہ کسی بھی نئی حکومت کے آنے کے بعد بھی برقرار رہے گی اور اچانک تبدیلی کا امکان نہیں۔ پاکستان کے لیے اصل مسئلہ نئی حکومت نہیں بلکہ یہ ہے کہ نئی حکومت کی انڈین پالیسی کیا ہو گی اور وہ کس حد تک پاکستان کے موقف کی حمایت کرتی ہے۔‘

 

دوسری جانب عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ شیخ حسینہ کے زوال کے باوجود چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ عبوری حکومت نے بھی بیجنگ کے ساتھ کیے گئے معاشی معاہدوں کو برقرار رکھا۔ محمد یونس کا پہلا سرکاری دورہ چین کا ہی تھا، جہاں بنگلہ دیش نے تقریباً 2.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، قرضوں اور گرانٹس حاصل کیں۔ چین اس وقت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سرمایہ کار ہے۔ مالی سال 2024-25 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 21.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ انڈیا کے ساتھ یہ حجم 11.5 ارب ڈالر رہا۔ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش کے ترقیاتی منصوبوں، بندرگاہوں اور خصوصی اقتصادی زونز میں چین کی سرمایہ کاری کا کوئی فوری متبادل موجود نہیں، جس کے باعث آنے والی حکومت بھی بیجنگ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے پر مجبور ہوگی۔

حکومت عمران کا فوج مخالف بیانیہ کاؤنٹر کیوں نہیں کر پائی؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ بنگلہ دیش کا چین اور پاکستان کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ واضح ہے، تاہم اس کا مطلب یقینی طور پر بنگلہ دیش کی انڈیا کے ساتھ دشمنی نہیں۔ بنگلہ دیش میں آنے والی حکومت ممکنہ طور پر ’’توازن پر مبنی خارجہ پالیسی‘‘ اپنائے گی، جس میں تینوں علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اپنے اپنے مفادات کے تحت استوار کیے جائیں گے۔مبصرین کے بقول بنگلہ دیش میں ہونے والے 12 فروری کے انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا ڈھاکہ ماضی کی پالیسیوں کو برقرار رکھتا ہے یا بدلتی ہوئی علاقائی حقیقتوں کے مطابق ایک نیا سفارتی اور معاشی راستہ اختیار کرتا ہے۔ جو بھی نتیجہ سامنے آئے، ایک بات طے ہے کہ اس انتخاب کی گونج بنگلہ دیش کی سرحدوں سے نکل کر پورے جنوبی ایشیا میں سنائی دے گی۔

 

Back to top button