لال مسجد اور اسکے مدرسے حکومت کے لیے درد سر کیوں ہیں ؟

جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن کے 17 برس بعد یہ مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے ایسے لوگوں کے قبضے میں ہیں جو اپنی شدت پسند پالیسی کو ترک کرنے پر تیار نہیں اور مسلسل حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ مشرف دور میں کیا جانے والا فوجی آپریش 3 جولائی 2007 کو شروع ہوا اور 10 جولائی کو ختم ہوا۔ اس آپریشن کے دوران فوج کے سپیشل سروسز گروپ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل ہارون شہید ہوئے جبکہ لال مسجد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارے متضاد دعوے کیے جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 کے قریب تھی جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس آپریشن میں 200 کے قریب طلبا اور طالبات ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت بھی لال مسجد کے زیر انتظام چلنے والا تین دہائی پُرانا مدرسہ اسلام آباد کی انتظامیہ کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ لال مسجد کے تحت چلنے والے مدرستہ المسلم کو کسی اور جگہ منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن شدت پسند عناصر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں داخل ہو کر مری روڈ پر فیض آباد کا پُل کراس کریں تو سڑک کے بائیں طرف مدرستہ المسلم کا بورڈ دکھائی دیتا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ معاملے کے پر امن حل کے لیے مذاکرات جاری تھے لیکن لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی نگران ام حسان کی مداخلت کے بعد صورتحال ایک نیا رخ اختیار کر گئی جسکے بعد انہیں گرفتار کرنا پڑا۔

لال مسجد کی مذاکراتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے لال مسجد سے متصل جامعہ حفصہ کی عمارت کو مسمار کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایسی کسی شرط کی تصدیق نہیں کی ہے۔ 20 فروری 2925 کی شب پولیس نے ام حسان سمیت دیگر افراد کو کارِ سرکار میں مداخلت اور حکومتی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اگلے روز اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جس میں اب تک دو بار توسیع ہو چکی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران اُم حسان سمیت دیگر کی رہائی کے لیے لال مسجد کے طلبہ نے احتجاج کر کے جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں کو بلاک کیا۔

شدت پسندوں کی جانب سے حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ حالات 2007 کی صورتحال جیسا رُخ اختیار کر سکتے ہیں جب سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کیا گیا تھا۔ ام حسان کے خلاف مقدمے اور ان کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی لال مسجد کے اطراف کے راستوں کو خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ بظاہر پولیس کا مقصد جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مظاہرین کو کشمیر ہائی وے اور آبپارہ چوک کی جانب جانے سے روکنا ہے۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لا اینڈ آڈر کی صورتحال کی وجہ سے راستے بند کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لال مسجد کی جانب سے طلبا و طالبات آبپارہ کی جانب احتجاج کرنے آتے ہیں اس لیے انھیں لال مسجد تک محدود کرنے کے لیے راستہ بند کیا ہے۔

لیکن پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک مدرسے کی منتقلی کے تنازع سے شروع ہونے والی بات جامعہ حفصہ کی نگران ام حسان کی گرفتار تک کیسے پہنچی اور اب تک یہ معاملہ حل کیوں نہیں ہو سکا۔ مدرستہ المسلم کے مہتمم تنویر احمد نے دعویٰ کیا کہ فروری کے دوران اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے مدرسے میں آ کر ‘ہم سے ملاقات کی اور بتایا کہ یہ مدرسہ ‘سکیورٹی تھریٹ’ کی وجہ سے شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔’ مدرسے کے مہتمم کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے ‘ہمیں تفصیل نہیں بتائی۔ ہم نے اسلام آباد انتظامیہ کو کہا کہ اگر روڈ کا ایشو ہے تو ہم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ مگر انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو متبادل جگہ مدرسہ بنا کر دیں گے۔’ مدرسے کے مہتمم کہتے ہیں کہ انھوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے کہا کہ وہ جمعیت اہلسنت کے اکابرین کیساتھ بیٹھیں اور یہ بات ان کے سامنے رکھیں۔’ اس کے بعد تنویر کے بقول فروری میں اسلام آباد انتظامیہ اور ان کے درمیان ‘اتفاق ہوا کہ علمایے کرام کی کمیٹی ڈی سی صاحب سے ملاقات کرے گی اور اس معاملے پر بات ہو گی۔’

وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد انتظامیہ نے مدرسے کی نئی لوکیشن بھجوائی جہاں اسے شفٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ‘یہ مدرستہ المسلم سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سامنے مارگلہ ٹاؤن کے فیز ٹو کی ایک گلی میں موجود مدنی مسجد اور مدرسے کے ساتھ واقع پلاٹ ہے۔’ تاہم مدرستہ المسلم کے مہتم کا موقف ہے کہ ‘مدنی مسجد کے ساتھ خالی پلاٹ میں ہمیں مدرسے کے لیے متبادل جگہ دی جا رہی ہے جو کہ ناکافی ہے۔’ وہ کہتے ہیں کہ ‘وہاں تعمیر ہو رہی ہے یا نہیں، ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔’

انھوں نے کہا کہ یہ مسجد سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور اس مدرسے کی زمین وقف ہے۔ ان کے بقول یہاں 180 کے قریب طالبعلم ہیں۔

ادھر دوسری طرف اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کا کہنا یے کہ جامعہ حفصہ اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان ‘مذاکرات جاری ہیں۔’ مدرستہ المسلم میں جائیں تو تدریسی عمل معمول کے مطابق جوں کا توں چل رہا ہے تاہم جس مسجد کے ساتھ موجود پلاٹ میں مدرسے کو منتقل کرنا تھا، وہاں چند روز پہلے لال مسجد سے متصل جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان اور ان کے ساتھ موجود خواتین طالبات اور مدنی مسجد کے انتظامی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق اسلام آباد کے علاقے مارگلہ ٹاؤن کے فیز ٹو میں مدرسے کی تعمیر کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے، ہنگامہ آرائی اور پولیس پر مبینہ طور پر فائرنگ کرنے، توڑ پھوڑ کرنے اور تشدد کرنے کے الزام میں پرنسپل جامعہ حفصہ امِ حسان، ان کی ہمراہ موجود طالبات اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

لیکن ام حسان پہلی بار گرفتار نہیں ہوئیں۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق ان کے خلاف کم از کم 20 مقدمات ہیں۔ حکومت سے مذاکرات کرنے والے حافظ احتشام، جو کہ لال مسجد کے شہدا فاؤنڈیشن کے ترجمان بھی ہیں، نے بتایا کہ ام حسان کو مدنی مسجد اور پاس ہی موجود طلحہ مسجد کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر بلایا تھا کہ ‘مدنی مسجد کو گرانے کا معاملہ ہے، لہٰذا آپ آئیں اور انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کریں۔’ ان کے بقول ام حسان مذاکرات کے لیے گئی تھیں جو کامیاب ہوئے لیکن پھر انھیں مسجد طلحہ کے امام مسجد کے گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ وہاں کھانا کھانے کے لیے موجود تھیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ام حسان کے وہاں جانے کے بارے میں مولانا عبدالعزیز اور انتظامیہ ان کی گرفتاری تک لاعلم تھی۔

حکومت سے مذاکرات کرنے والی لال مسجد کی کمیٹی کے رکن حافظ احتشام کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ام حسان سمیت دیگر خواتین کی رہائی کے لیے جو شرائط رکھی ہیں ان میں جامعہ حفصہ کو مسمار کرنا بھی شامل ہے۔ حافظ احتشام کا دعویٰ ہے کہ رہائی کی اِن شرائط میں ‘اخلاقی پولیسنگ سے اجتناب کرنا اور غیر قانونی مساجد و مدرسے کو گرانے کے لیے کسی بھی کارروائی میں مداخلت نہ کرنا’ شامل ہے۔ ادھر مولانا عبدالعزیز کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے جامعہ حفصہ کی عمارت کو گرانے کی ‘شرط’ ماننے سے انکار کیا ہے۔

ریاستی سختیاں میڈیا کی آزادی سلب کرنے میں ناکام کیوں رہیں گی؟

مذاکراتی کمیٹی کے رکن حافظ احتشام کا کہنا ہے کہ باقی شرائط مان لی گئی تھیں تاہم جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کی گئی بلڈنگ کو مسمار کرنے کی ‘شرط’ پر ان کا انتظامیہ سے ڈیڈ لاک ہوا۔انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ام حسان جامعہ حفصہ کی طالبات کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک درجن سے زائد مرتبہ موسیقی کی محفلوں، کنسرٹس یا شادی کی تقریبات میں رات گئے میوزک کو رکوانے کے لیے مختلف مقامات پر جا چکی ہیں۔

Back to top button