پراجیکٹ عمران خان بنانے والے ابھی تک عذاب میں کیوں ہیں؟

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے جو پراجیکٹ عمران خان شروع کیا تھا وہ اب تک اس کے گلے پڑا ہوا ہے۔ لیکن ملک کو اس سیاسی دلدل میں دھکیلنے والے ذمہ داران ہمیشہ کی طرح نہ صرف بچ نکلے بلکہ قومی اعزازات کیساتھ رخصت ہوئے۔

حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں بتاتے ہیں کہ آزادی کے چند سال بعد مملکت ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ 1951 کا بدقسمت سال ، سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چھوڑ گیا۔ راولپنڈی سازش کیس اور لیاقت علی خان کی شہادت دو ایسے گھاؤ تھے کہ مملکت آج تک جانبر نہیں ہو پائی۔ 7 جنوری 1951 کو جنرل ایوب خان کے آرمی چیف بنتے ہی بیوروکریسی نے طاقتور وں سے گٹھ جوڑ کر کے سازشوں کا جال بُن دیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ریاست عملاً بیوروکریسی اور طاقتوروں کے کنٹرول میں آ گئی ۔ خواجہ ناظم الدین وزیرِ اعظم تو بنے مگر سازشوں کا جال پہلے سے موجود ، اوّل دن سے ناظم الدین حکومت کو کمزور کرنے کے حربے استعمال میں تھے ۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ بالادستوں نے پہلا باقاعدہ شب خون اپریل 1953ء میں مارا، جب پارلیمان معطل کی گئی اور خواجہ ناظم الدین برطرف کر دیئے گئے۔ اس کے بعد گورنر جنرل غلام محمد ، جنرل ایوب خقن اور جنرل سکندر مرزا کی ٹرائیکا نے عملاً مملکت پر قبضہ جما لیا۔ حکمرانی کا اصول یہ تھا کہ جب یہ لاٹھی میری ہے تو بھینس کیوں تمہاری ہے؟ مارشل لا لگانے کے بعد پہلے فیلڈ مارشل اور پھر صدر بننے والے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے دو ایسے رہنما اصول متعین کئے کہ آنیوالا کوئی بھی آرمی چیف ان سے چھٹکارا نہ پا سکا۔ ان کے بعد آنے والے ہر آرمی چیف نے یہی سوچا کہ اسے تاحیات آرمی چیف رہنا ہے اور حکومت اور پارلیمان کو تابع فرمان رکھنا ۔
جنرل ایوب تا جنرل قمر باجوہ شاذو نادر ہی کوئی آرمی چیف بنا جس نے ان دو رہنما اصولوں سے انحراف برتا ہو ۔

1953 میں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی معزولی کے بعد ٹرائیکا نے جب محمد علی بوگرا کو وزیرِ اعظم بنایا تو پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ سیاسی جوڑ توڑ نے ملک کی چولیں ہلائے رکھیں۔ اسی کا تسلسل 1971 میں پاکستان کو دولخت کر گیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان ایسا جھٹکا تھا کہ جس سے سبق سیکھنا ضروری تھا لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ اس سانحے کے باوجود سیاسی جوڑ توڑ اور مشن عدم استحکام جاری رہا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے 7 ماہ بعد جولائی 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی سربراہی میں آئینی کمیٹی بنائی تو کارروائی میں غیرضروری طوالت رہی۔ اپریل 1973 میں پاکستان کا پہلا متفقہ آئین تو بن گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیاء نے پاکستان کو جمہوریت کی پٹری سے اتارتے ہوئے مارشل نافذ کر دیا۔ سیاسی حکومتوں کی اُکھاڑ پچھاڑ کیلئے سیاسی انجینئرنگ کی بجائے سیاسی پروجیکٹ کو فوقیت دی گئی۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈٹ کر جیل کاٹی لیکن مارشل لا ڈکٹیٹر سے مفاہمت سے انکار پر انہیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ 1988 کے الیکشن کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو مفاہمت کر کے وزیراعظم تو بن گئی لیکن انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے معافی نہ ملی، وہ صرف 20 ماہ بعد اقتدار سے بیدخل ہو گئیں۔ لیکن بینظیر بھٹو کو نکالنے سے پہلے متبادل قیادت والا فوجی پروجیکٹ تیار تھا۔

بے نظیر بھٹو کی رخصتی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پروجیکٹ نواز شریف کھڑا کیا اور بالاخر 1990 میں انہیں وزیراعظم بنا دیا۔ لیکن اڑھائی سال بعد ان کو برسر اقتدار لانے والوں کو پتہ چلا کہ پروجیکٹ میاں صاحب انکی توقعات پر پورا نہیں اُترا۔ چنانچہ 1990 کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو مجبوراً دو دو بار اقتدار دیا تو گیا لیکن ہر بار چھین بھی لیا گیا۔ 1999 میں نواز شریف اور جنرل مشرف کے مابین چپقلش میں اضافہ ہوا تو میاں صاحب نے آرمی چیف کو گھر بھیجنے کی کوشش میں نہ صرف اقتدار گنوایا بلکہ پاکستان کو ایک نئے مارشل لا سے دوچار کر دیا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ جب جنرل مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سیاست بحال ہوئی تو ساتھ ہی متبادل نئے پروجیکٹ پر کام شروع ہو گیا ۔ PPP اور PMLN کو ایک ایک باری ضرور ملی مگر جب ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت سائن کیا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس کا سخت برا بنایا۔ وجہ یہ تھی کہ اب اسٹیبلشمنٹ اس پوزیشن میں نہیں رہی تھی کہ ایک جماعت کی حکومت ختم کروانے کے لیے دوسری جماعت کو استعمال کرتی، چنانچہ ایک تیسری سیاسی جماعت کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھائی لوگوں نے پراجیکٹ عمران لانچ کر دیا۔ پراجیکٹ عمران کامیابی سے ہمکنار تو ہوا، مگر افسوس کہ یہ پروجیکٹ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اب تک پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے گلے پڑا ہوا ہے۔

Back to top button