پنجاب کے ضمنی انتخابات نون لیگ اور PTIکی مقبولیت کا امتحان کیوں؟

23نومبر کو پنجاب کے 13مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو نون لیگ کی قبولیت اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ضمنی الیکشن کے نتائج فیصلہ کرینگے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے قائم مریم نواز حکومت پنجاب میں کتنی مقبول ہے جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب رہنے والی تحریک انصاف کو اب تک پنجاب میں کتنی پذیرائی حاصل ہے؟
خیال رہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 23 نومبر کو قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے سات حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر خالی ہونے والی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پہلے ضمنی انتخابات ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر ضمنی انتخابات کے دوران قیام امن کیلئے فوجی اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو کوئیک ری ایکشن فورس کی حیثیت سے تعینات کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ اس کے علاوہ موبائل سروسز پر جزوی پابندی اور پولنگ سٹیشنز کے آس پاس چیک پوائنٹس قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب کے 13مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات حکومت و اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں جہاں حکمراں جماعت نون لیگ پنجاب میں اپنی بالادستی کو ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی جماعتیں بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 23نومبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں سب سے دلچسپ مقابلہ لاہور کا سمجھا جا رہا ہے، جس سے اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ حکومت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن شہر پر اپنا سیاسی تسلط بحال کرنے میں کامیاب رپی ہے یا تاحال پی ٹی آئی کی مقبولیت قائم ہے؟
یاد رہے کہ 23 نومبر کے جن حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں ان میں این اے 18 (ہری پور)، این اے 96 (فیصل آباد-II)، این اے 104 (فیصل آباد-X)، این اے 143 (ساہیوال-III)، این اے 185 (ڈیرہ غازی خان-II)، این اے 129 (لاہور-XIII)، پی پی 73 (سرگودھا-III)، پی پی 98 (فیصل آباد-I)، پی پی 115 (فیصل آباد-XVIII)، پی پی 116 (فیصل آباد-XIX)، پی پی 203 (ساہیوال-VI)، پی پی 269 (مظفرگڑھ-II) اور پی پی 87 (میانوالی-III) شامل ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور کے مرکزی اور تاریخی علاقوں پر مشتمل حلقہ این اے-129 پنجاب کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔یہ حلقہ لاہور کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے اس حلقے کے اہم علاقوں میں اسلام پورہ، سنت نگر اور آئی بی سی، انارکلی، ہربنس پورہ، شاد باغ اور بیگم پورہ کے علاقے شامل ہیں۔ یہ حلقہ تقریباً چار لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں شہری ووٹرز کی اکثریت ہے جہاں متوسط طبقے، تاجر برادری اور سیاسی خاندانوں کی مضبوط گرفت قائم ہے۔ اس حلقے کی نشست پی ٹی آئی رہنما میاں محمد اظہر کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہے جو 2024 کے عام انتخابات میں ایک لاکھ 3ہزار 7سو 39 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم جولائی 2025 میں میاں اظہر 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
خیال رہے کہ 2002 کے انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ ق کے میجر ریٹائرڈ حبیب اللہ وڑائچ جیتے تھے۔ 2008 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے طارق شبیر نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ سنہ 2013 میں اس حلقے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیابی اپنے نام کی تھی، اسی طرح سنہ 2018 میں بھی شہباز شریف اس حلقے سے فاتح قرار پائے تھے۔ البتہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں یہاں سے میاں اظہر جیتے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق این اے-129 لاہور کا ایک اہم حلقہ ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی حالات میں اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخابات مزید اہمیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ شہر کے مرکزی حلقوں پر مشتمل اس حلقے میں کسی بھی جماعت کی جیت لاہور کی مجموعی سیاسی سمت کا تعین کرے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول لاہور کا یہ حلقہ روایتی طور پر مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ رہا ہے جہاں 2013 اور 2018 میں شہباز شریف بڑے مارجن سے جیت چکے ہیں۔ تاہم 2024 میں پہلی دفعہ ن لیگ کو اس حلقے سے ایک دہائی بعد شکست ہوئی تھی۔ حالیہ ضمنی الیکشن میں حماد اظہر کے بھانجے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار چوہدری ارسلان ظہیر اور ن لیگ کے حافظ محمد نعمان آمنے سامنے ہیں جبکہ اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے مقامی دھڑوں نے بھی حافظ نعمان کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم ضمنی الیکشن کے نتائج ثابت کرینگے کہ قبولیت کے بعد نون لیگ عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کتنی کامیاب رہی ہے۔
