عوام کو بیروزگار کرنے والے حاکم اپنی تنخواہیں کیوں بڑھا رہے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کارروف کلاسرا نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے شہباز شریف حکومت نے ڈاؤن سائزنگ کے نام پر سرکاری محکمے بند کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ پہلے پی ڈیلیو ڈی کو بند کیا گیا، اب یوٹیلیٹی سٹور کارپویشن کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس میں 13 ہزار ملازمین کام کر تے تھے۔ یہ ملازمین اب بے روزگار ہیں اور ان کے خاندان کے لاکھوں افراد مالی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ دوسری جانب انہی کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے وزیر اور مشیر اپنی ہی تنخواہوں میں اضافہ کیے چلے جا رہے ہیں۔
روف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ عام لوگ الیکشن مہم کے دوران ان سیاستدانوں کے وعدوں پر اعتبار کر لیتے ہیں اور یوں وہ منتخب ہو ایک دن حکمران بن جاتے ہیں۔ لیکن پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہی لوگ یہ موقف اختیار کر لیتے ہیں ہمارے پاس عوام کو نوکریاں دینے کیلئے تو پیسے نہیں ہیں لیکن ہمارا اپنا گزارہ اُس تنخواہ میں نہیں ہو رہا جو ہمیں مل رہی ہے لہٰذا وہ خود ہی اپنی تنخواہ بڑھا لیتے ہیں۔
لیکن رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ یہ استحقاق عوام کے پاس نہیں ہے کہ وہ اپنی تنخواہ خود بڑھا سکیں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ کے اجلاس میں حکومت نے کہا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس وقت کئی حکومتی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں مگر منافع بخش نہیں ہیں‘ انہیں یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوکریاں دینا حکومت کا کام نہیں۔ مان لیا یہ کام حکومت کا نہیں لیکن ایک ایسا ماحول پیدا کرنا تو حکومت کا کام ہے جس سے نوجوانوں کو نجی شعبے میں نوکریاں مل سکیں۔
سینیئر صحافی سوال کرتے ہیں کہ کیا ملک میں کبھی ایسا ماحول بنا ہے کہ نوجوانوں کو آسانی سے نوکری مل سکے؟ جس شرح سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس شرح سے آپ کتنے لوگوں کو نوکریاں دے سکیں گے؟ اب مسئلہ صرف کھانا کھانے کا نہیں رہا‘ کھانا تو ہر کوئی کسی نہ کسی طرح کھا لیتا ہے‘ اب جو لڑائی ہو رہی ہے وہ معیارِ زندگی کی ہے‘ جو شخص ایک طے شدہ معیار کے مطابق زندگی نہیں گزار پا رہا وہ اگر کار پر بھی سوار ہے تو بھی گلہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ دراصل اب بنیادی ضروریات مسئلہ نہیں رہیں۔ اب تو وہ شخص بھی رو رہا ہے جو کسی بڑے ہوٹل میں ایک رات کا چالیس ہزار روپے کرایہ دے کر ٹھہرتا ہے۔ میرا واسطہ اُن لوگوں سے بھی پڑتا ہے جو مہنگے ریستوران سے کھانے کا بیس ہزار روپے بل دے کر نکل رہے ہوں، آپ ان سے پوچھیں کہ ملک کیسا جارہا ہے تو کہیں گے کہ ہم برباد ہورہے ہیں۔
لیکن کلاسرا کا کہنا ہے کہ غریب گارڈ یا مزدور ہم سے یہ سوال نہیں پوچھتا کہ ان کا کیا بنے گا، کیونکہ گلہ بھی وہی کرتا ہے جس کے پاس پہلے سے کچھ نہ کچھ ہے اور اسے خوف ہے کہ اگر کچھ ہو گیا تو اس کا معیارِ زندگی متاثر ہو گا۔ ہر ایک اپنا معیارِ زندگی قائم رکھنا چاہتا ہے جو جائز بات ہے لیکن جب وہ اپنے ذہن میں موجود معیار حاصل نہیں کر پاتا تو اس کے اندر غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے اور اسے حکمران برے لگنے لگتے ہیں جنہیں وہ اپنے مسائل کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ لیکن اگر حکمران مرضی کا ہو تو مہنگائی بھی تنگ نہیں کرتی‘ اگر مرضی کا حکمران نہ ہو تو پھر غصہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ اکیس لاکھ ہو گئی‘ اسکے علاوہ ارکان اسمبلی کی تنخواہ سات لاکھ تک بڑھ گئی ہے‘ ان ارکان کو ترقیاتی فنڈز الگ سے دیے جاتے ہیں۔
بقول شاہد خاقان عباسی ارکانِ اسمبلی اس میں سے تیس فیصد تک کمیشن لیتے ہیں۔ جب ان کی تنخواہ پر رولا پڑا تو وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ بعض ارکان غریب ہیں۔ مطلب بعض ”غریب ارکان‘‘ کا گھر چلانے کیلئے باقی پانچ سو ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز کو بھی کھل کر تنخواہ دے دو۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بھاری تنخواہ لیں لے کر یہ ارکان اسمبلی کر کیا رہے ہیں؟ اسمبلی اجلاس میں گالی گلوچ کے علاوہ کیا ہوتا ہے؟ ڈیڑھ سال سے ایک اجلاس بھی ایسا نہیں ہوا جو سکون سے چلا ہو اور اپوزیشن نے ہنگامہ نہ کیا ہو۔ یوتھیے ااراکین اس اسمبلی کو جعلی کہتے ہیں لیکن اس اسمبلی سے تنخواہیں بھی لے رہے ہیں۔ اس جعلی اسمبلی کے (ن) لیگ اور پی پی پی ارکان کی طرف سے بڑھائی گئی تنخواہ پر تحریک انصاف کے ارکان کو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کی تنخواہ بھی بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا تنخواہ کے معاملے میں پی ٹی آئی کو نہ اسمبلی جعلی لگتی ہے نہ ہی اس جعلی اسمبلی کی بڑھائی ہوئی تنخواہ بری لگتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب لوگ تو عام لوگوں کی زندگیاں بدلنے آئے تھے‘ ان میں سے بیشتر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے‘ انہیں کوئی لالچ نہیں‘ انہیں عوام کا درد یہاں تک لایا ہے لیکن اب عوام کا درد ختم ہو گیا اور ان کا اپنا درد شروع ہو گیا ہے۔ بجلی مہنگی کی گئی تو بھی اس کا فائدہ حکمرانوں کے بچوں کو پہنچا کہ وہ نجی بجلی گھر چلا رہے تھے۔کسی دن وفاقی وزیر برائے نجکاری کی توانائی پر رپورٹ پڑھ لیں تو اندازہ ہو گا کہ حکمرانوں کے بچوں نے کتنے لمبے ہاتھ مارے ہیں۔ پہلے گیس کی قیمت میں اضافہ کیا‘ پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھائی‘ پھر اپنی تنخواہیں بڑھائیں‘ ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا اور اب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نوکریاں نہیں ہیں‘ پیسہ نہیں ہے۔ لیکن اپنی ضرورت کیلئے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر خرچہ پورا کر لیتے ہیں۔
بقول روؤف کلاسرا دوسری طرف حالت یہ ہے کہ پنجاب میں سرکاری سکول‘ کالج یا ہسپتال تک نجی شعبے کو دیے جا رہے ہیں۔ حکومت کہتی ہے اس کا کام نہ سکول چلانا ہے‘ نہ ہسپتال چلانا‘ نہ نوکریاں دینا‘ بلوچستان سے لاشیں الگ آرہی ہیں‘ تو پھر حکمرانوں کا کیا کام ہے؟ کچھ عرصہ بعد اپنی غربت کا رونا رو کر اپنی تنخواہیں بڑھا لینا‘ ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکال دینا اور سکولوں اور ہسپتالوں سے ہزاروں استادوں یا نرسز کا ٹرانسفر کرکے دوردراز علاقوں میں بھیج دینا؟
یہ وہ حکمران ہیں جو عوام کی زندگیاں بدلنے آئے تھے۔ اب یہ رنگ برنگی کہانیاں سنا کر اپنی تنخواہ میں کئی گنا اضافہ کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہمارا گزارہ نہیں ہوتا۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر اپ کا بھی گزارا نہیں ہو رہا تو پھر صرف 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے کا گزارہ کیسے ہو رہا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ جن ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالا گیا ہے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیسے گزارہ کریں گے؟
