پی ایس ایل کی 2 ٹیمیں 360 ارب کی لیکن PIA صرف 135 ارب کا کیوں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کی دو نئی فرنچائزز کو سالانہ 360 ارب روپے کی خطیر رقم پر فروخت کیے جانے کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو محض 135 ارب روپے میں فروخت کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی اصلاحات کے ذریعے پی آئی اے کو منافع بخش بنا لیا جاتا تو نہ صرف یہ قیمتی قومی اثاثہ فروخت سے بچ جاتا بلکہ ریاست اسے خود چلا کر طویل المدتی مالی فوائد بھی حاصل کر پاتی۔
یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کو صرف 135 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کو فروخت کیا ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کی ایک ایک ٹیم کو اوسطاً 180 ارب روپے سالانہ کے حساب سے فروخت کیا ہے، دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ ایک دہائی کے لیے ہے اور پی سی بی آئندہ دس برس تک مسلسل حیدر آباد اور سیالکوٹ نامی ٹیموں کے مالکان سے 175 ارب روپے اور 185 ارب روپے سالانہ حاصل کرتا رہے گا۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے سٹریٹجک قومی ادارے کو چند کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرنا ناقابل فہم ہے جس کے پاس قیمتی عالمی روٹس، لینڈنگ رائٹس اور دہائیوں پر محیط برانڈ ویلیو موجود تھی۔
اگرچہ وفاقی حکومت پی آئی اے کی فروخت کو معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عجلت میں کیا گیا بلکہ نجکاری کے عمل میں بھی کئی سنگین خامیاں رہیں۔ ناقدین کے مطابق پی آئی اے کو ایک ایسے وقت میں نجی شعبے کے حوالے کیا گیا جب وہ طویل خساروں کے بعد دوبارہ منافع بخش ادارہ بننے کے راستے پر گامزن تھا۔ ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت انتظامی اصلاحات اور شفاف نگرانی کے ذریعے اس قومی ادارے کو خود ہی سنبھال لیتی تو ممکن تھا کہ پی آئی اے چند برسوں میں ایک مستحکم اور منافع بخش قومی ادارہ بن جاتا۔
اعداد و شمار کے مطابق پی آئی اے نے 2024 میں 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا، جبکہ 2023 میں اسے تقریباً 100 ارب روپے کے بھاری نقصان کا سامنا تھا۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ منافع بڑی حد تک پی آئی اے کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قومی ایئرلائن کی مالی سمت بہتر ہو چکی تھی اور اس کے پاس اصلاحات کے لیے مزید وقت اور گنجائش موجود تھی۔
اسی تناظر میں ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ جب پی آئی اے کے بہترین بین الاقوامی روٹس کی بحالی کا عمل جاری تھا، بڑے آپریشنل اصلاحات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھیں اور مستقبل میں آمدنی کے امکانات بڑھ رہے تھے، تو پھر نجکاری میں اس قدر جلدی کیوں کی گئی؟
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پرائیویٹائزیشن کے عمل میں سب سے زیادہ تنقید پی آئی اے کی قیمت کے تعین پر ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس کے 75 فیصد حصص کم از کم 100 ارب روپے کی بولی کے ساتھ فروخت کیے، جو بالآخر 135 ارب روپے میں طے پائے۔ تاہم ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کسی ادارے کی قدر کا تعین اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی سے کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پی آئی اے کو بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس، سٹریٹجک روٹس اور قومی فضائی نظام میں حیثیت کی وجہ سے اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہ کرنے پر کہ پی آئی اے کی کم از کم قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی، شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ پی آئی اے پہلے ہی پچھلے مالی سال کے مقابلے میں اس برس منافع ظاہر کر چکی تھی۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ 135 ارب روپے کے اس معاہدے سے حکومت پاکستان کو عملی طور پر صرف 10 ارب روپے کے لگ بھگ رقم ہی حاصل ہوگی۔ باقی سرمایہ کاری مرحلہ وار پی آئی اے میں ہی واپس لگائی جائے گی تاکہ ادارے کو بہتر بنایا جا سکے۔ ناقدین کے مطابق یہ رقم دراصل ریاست کی واجب الادا رقم ہے، جس پر سرمایہ کاری تک سود ادا کیا جانا چاہیے تھا لہذا اس کے بدلے میں پی آئی اے کے حصص ریاست کے پاس ہی رہنے چاہئیں تھے۔
حیران کن طور پر نجکاری کرتے وقت پی آئی اے کے خریدار کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ قومی ائیر لائینز کی مجموعی قیمت کا صرف 7.5 فیصد پیشگی ادا کر کے اس کے 75 فیصد حصص حاصل کر لے، جبکہ اس میں باقی سرمایہ کاری وقت کے ساتھ کی جائے گی۔ بعد ازاں اگر خریدار پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے مکمل 45 ارب روپے ادا کرتا ہے تو وہ مجموعی طور پر 55 ارب روپے دے کر اس کے 100 فیصد حصص حاصل کر لے گا، حالانکہ نیلامی کے دوران قومی ادارے کی قدر 180 ارب روپے بتائی گئی تھی۔ ناقدین کے مطابق منطقی طور پر خریدار کو اس رقم کے عوض پی آئی اے کے صرف ایک تہائی حصص ملنے چاہئیں تھے۔
3 ارب 60 کروڑ میں دو PSL ٹیمیں: مالکان رقم کیسے پوری کریں گے؟
پی آئی اے کی نجکاری پر ایک اور بڑا سوال خریدار کی اہلیت سے متعلق ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خریدار گروپ کے پاس نہ ایئرلائن چلانے کا عملی تجربہ ہے اور نہ ہی عالمی سطح کی مہارت۔ اس کا موازنہ بھارت کی ایئر انڈیا کی نجکاری سے کیا جا رہا ہے، جسے ٹاٹا گروپ نے خریدا تھا۔ ٹاٹا گروپ ایک ایسا ادارہ ہے جس نے 1930 کی دہائی میں ایئر انڈیا کی بنیاد رکھی تھی اور جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تجربہ رکھتا ہے۔ اگرچہ پی آئی اے کے خریدار کو عملے کی تنظیم نو، کرایوں، روٹس اور بڑے ٹیکس ریلیف میں غیر معمولی آزادی دی گئی ہے، تاہم خود خریدار کے سربراہ نے عندیہ دیا ہے کہ پی آئی اے اب بھی اگلے کئی برس تک خسارے میں رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف معاشی ماہرین سوال کرتے ہیں کہ آیا یہ ممکنہ نقصان ایئرلائن کی حالت کی وجہ سے ہوگا، جو اب بہتر ہو چکی ہے، یا خریداروں کی نااہلی کے باعث ؟ یہ سوالات ابھی تشنہ ہیں اور آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ پی آئی اے کی نجکاری قومی معیشت کے لیے ایک اچھا فیصلہ ثابت ہوتی ہے یا ایک اور متنازع فیصلہ؟۔
