بے لگام ججز اب منہ توڑ جرنیلوں کے قابو میں کیوں نہیں آرہے؟

معروف اینکربے لگام ججز اب منہ توڑ جرنیلوں کے قابو میں کیوں نہیں آرہے؟۔ پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 8 ججز نے آئین کے نہیں بلکہ اپنے جذبات کے مطابق دیا، ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اختیار کی آڑ میں آئین ہی دوبارہ تحریر کر دیا ہے جو ان کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ وجہ یہ ہے کہ منہ زور ججز اب منہ توڑ جرنیلوں کے قابو میں نہیں آ رہے اور دہائیوں کا یہ الائنس اب ختم ہو تا نظر اتا ہے۔ بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے اعلان کے بعد انصافی ججز اور ریاست کے مابین جاری اختیارات کی جنگ میں مزید شدت آنے کا امکان ہے اور اس کے نتیجے میں موجودہ نظام بھی ختم ہو سکتا ہے۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی بساط پر جاری موجودہ کشمکش اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اختیار کے لیے ہے۔ ومران خان کی وجہ سے طاقت کا ایک مرکز اب دو میں تقسیم ہو چکا ہے، عدلیہ ایک مرکز کا حصہ ہے جبکہ فوج اور چند سیاسی جماعتیں دوسرے مرکز کا حصہ ہیں۔ ان سب میں سب سے بڑا طاقت کا مرکز وہ ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے اور اس کا بیانیہ غلط یا صحیح کی بحث کے بغیر جیت رہا ہے۔ اگر فوج کے پاس طاقت ہے تو دوسرے گروہ کے پاس پروپیگنڈا ہے، ایک گروہ بندوق رکھتا ہے تو دوجا گالی اور کردار کشی کا ہتھایر رکھتا یے، ایک گروہ تیر آزماتا ہے تو دوسرا گروہ عوامی پذیرائی کے ساتھ جگر سامنے کیے ہوئے ہے۔ میڈیا تماشائی بھی ہے اور تماش گیر بھی۔ پیغام رساں قاصد بھی اور محرر بھی۔ سوشل میڈیا کا دباؤ اس قدر ہے کہ فیصلہ ساز جج ہوں، جرنیل یا صحافی ۔۔۔ دباؤ فیصلے کروا رہا ہے اور فیصلہ ساز مجبور ہیں۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق اب اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کیونکہ عوام مقبولیت کی رو میں بہہ رہے ہیں۔ ایسے میں ہر پیشہ بے اعتبار ہو رہا ہے جبکہ ہر معزز رسوا ہو رہا یے۔ یہ سب جس سلیقے سے بگاڑا گیا ہے اب وقت نہیں کہ سنوارا جائے۔ سُنی اتحاد کونسل کی نشستوں کا معاملہ آئین سے دیکھا گیا یا جذبات سے؟ اس فیصلے کے نتائج اب تو نکلیں گے ہی لیکن یہ سوال اٹھانے کی جرات کون کرے کہ آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کا اختیار سپریم کورٹ بار بار اپنے ہاتھ کیوں لے رہی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سپریم کورٹ کے دروازے میں داخل ہوئی اور تحریک انصاف کا روپ دھار کر باہر آئی؟ کوئی نہیں جانتا یہ کیسے ہوا اور کس ائین اور قانون کی رو سے ہوا۔ سنی اتحاد کونسل کو تحریک انصاف کا لبادہ سپریم کورٹ نے آئین کی کس شق کے تحت پہنایا؟ عدالت کب تک اپنے ہی کئے گئے فیصلے بار بار درست کر کے نئے اور غلط فیصلے کرتی رہے گی اور عوام کو اس کی سزا کب تک ملتی رہے گی؟ یہ سوال بھی تاریخ پر چھوڑ دینا چاہیے یا اس کا تدارک کرنے کے لیے پارلیمنٹ نام کی چیز اپنا کردار ادا کرے گی؟

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ایک بڑا سوال تو یہ بھی ہے کہ 8 ججز کے عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی حیثیت بطور آئینی ادارہ کیا رہ گئی ہے؟ فوج اپنے اختیار سے پہلے ہی تجاوز کر چکی اور اب یہ اختیار عدلیہ اپنے ہاتھ لے چکی ہے۔ مُنہ زور عدلیہ منہ توڑ فوج کے قابو میں نہیں رہی اور دہائیوں کا گٹھ جوڑ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر دو صورتوں میں نظام کے بینفشری عمران خان ہی رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ بہر حال اس وقت عوامی رائے ان کے ساتھ ہے۔ فوج کیوں یہ چاہے گی کہ طاقت کسی اور ادارے کے پاس جائے۔ اس کشمکش میں ادارے کمزور اور ریاست بے بس ہو رہی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اس صورت میں سیاسی جماعتوں کا کیا کردار ہے؟

عاصمہ کہتی ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن انتخابات سے ذرا پہلے افغانستان کے دورے سے ذرا بعد میں ایسے بدلے ہیں کہ ان کی ’اداروں کے ساتھ ہم آہنگی‘مشکوک دکھائی دیتی ہے یا وہ اپنے صوبے میں متبادل قیادت بننا چاہتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی سب سیاسی جماعتیں ایک ہی بیانیے پر کھڑی ہیں جبکہ بلوچستان میں بنی ہوئی فضا پر قومی سیاست کی کوئی نظر ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سیاسی گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ بیانیہ صرف اسٹیبلشمنٹ مخالف بِک رہا ہے، یہ جماعتیں نظام کی بینفشری ہونے کے باعث بوجھ اٹھا بھی رہی ہیں اور بوجھ بن بھی رہی ہیں۔ ایسے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سامنے آنا ہو گا۔ نواز شریف اپنی سیاست ختم کر چکے ہیں اب اگر وہ میز کے اس طرف بیٹھ کر سیاست دانوں کو اعتماد میں لیں تو ہی کوئی سیاسی حل نکل سکتا ہے ورنہ اختیار کی اس لڑائی میں اقتدار کے ساتھ ساتھ پورا نظام بھی ختم ہو سکتا ہے۔

Back to top button