پیپلزپارٹی کے جیالے کارکنان مریم نواز حکومت سے بیزار کیوں؟

آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے نمبر گیم پوری کرنے میں ناکامی کے بعد جہاں شہباز شریف نے اپنا وزن بلاول بھٹو کے پلڑے میں ڈال دیا ہے اور آئینی ترمیمی پیکج کی پیشوائی بلاول بھٹو کے حوالے کر دی ہے وہیں دوسری جانب مریم نواز اپنے چچا کے برخلاف پیپلز پارٹی کے طے شدہ معاملات ماننے سے انکاری ہیں۔ جس کے بعد پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین تحفظات تاحال برقرار ہیں اور رابطہ کمیٹی کا منعقد ہونے والا چھٹا اجلاس بھی بغیر کسی نتیجے کے موخرہو گیا ہے دونوں جماعتوں کی آئندہ میٹنگ پارٹی قیادت کی مشاورت کے بعد متوقع ہے ۔
مبصرین کے مطابق پی پی اور ن لیگ کے درمیان پنجاب کے اندر پاور شیئرنگ کا معاملہ الجھ گیا ہے،پنجاب میں پاور شئرنگ کے معاملے پر پنجاب حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبات پر تحفظات کا شکار ہو گئی ہے۔تحفظات پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے کیلئے رواں ہفتے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کا ہونے والااجلاس بھی موخر کردیا گیا ہے،ن لیگ کی کوآرڈی نیشن کمیٹی نے پی پی کے مطالبات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کوآرڈی نیشن کمیٹی کا چھٹا اجلاس ن لیگ کی طرف سے تحفظات ہونے کے باعث موخر کیا گیا،جبکہ پیپلزپارٹی رہنماؤں نے نون لیگ کی کمیٹی کے ساتھ ہونیوالی اب تک کی پیش رفت پر پارٹی قیادت کوبریفنگ دے دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی کی سینئرقیادت پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملے پر ن لیگ کی اعلی قیادت سے رابطہ کرے گی۔ جس کے بعد ہی پنجاب میں معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو اپنے مطالبات اور تجاویز سے آگاہ کر کیا تھا، پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ن لیگ کو لاء افسران کی لسٹ بھی بھیجی گئی تھی، پیپلز پارٹی نے پنجاب میں پولیس افسران سے کام کروانے کے لئے ضلع کی سطح پر کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی تھی۔
پیپلز پارٹی کے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کا پیکیج بھی طے ہو چکا تھا، پنجاب حکومت کی طرف سے پیپلزپارٹی کے اراکین کو 25 کروڑ روپے کے فنڈ دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں 20 ہزار سے زائد ووٹ لینے والے ٹکٹ ہولڈرز کو بھی 25 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ دینے کی تجویز دی تھی۔مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی منتخب خواتین اراکین کو 10 کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈ دینے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ ہر ضلع میں پیپلز پارٹی نے دو لاء افسران کی تعیناتی کا بھی ن لیگ سے مطالبہ کیا تھا،پیپلز پارٹی نے ہر ضلع کی مارکیٹ کمیٹیوں، بیت المال اور زکوٰۃ کمیٹیوں میں بھی اپنے نمائندے تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق ہُوبہُو ویسی تو نہیں لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی موجودہ صورت حال حالیہ سیاسی تاریخ میں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کی حکمتِ عملی سے مِلتی جُلتی ہے۔’موجودہ صورت حال ایم کیو ایم کی حکومتِ وقت سے اپنی باتیں منوانے کے لیے ’منہ بسورنے‘ سے لے کر حمایت ختم کرنے تک کی دھمکیوں جیسی مشابہت ضرور رکھتی ہے، لیکن ’سیانی‘ ن لیگ بات منہ بسورنے سے آگے جانے کا موقع ہی نہیں دیتی۔اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جس بندوبست کے ذریعے اکٹھے کام کر رہے ہیں اس میں سے کسی ایک کا نکلنا بھی محال ہے۔‘’اس طرح کے نظام میں ہر سیاسی پارٹی اپنے مفادات کو بھی مقدم رکھتی ہے چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا پھر پیپلز پارٹی یا کوئی اور جماعت۔ یہ ایک سادہ سی جمع تفریق ہے کہ سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے تمام توانائی صرف کی جائے۔‘ان کے مطابق ’پیپلز پارٹی کا مفاد پنجاب میں اپنی جگہ دوبارہ بنانا ہے اور اس کے لیے یقینی طور پر اُن کے نامزد کیے گئے نمائندوں کے ذریعے فنڈز کے استعمال سے انہیں فائدہ ہونے کی توقع ہے۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’پارلیمنٹ کے اندر کمزور حکومتوں کو بلیک میلنگ کا ہمیشہ سامنا رہتا ہے۔ چاہے کوئی بھی ملک ہو۔ اقتدار کے ساتھ ساتھ ایسی آزمائشیں ہمیشہ کمزور حکومت کے ساتھ رہتی ہیں۔‘
