سوشل میڈیا پر شاہزیب خانزادہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیوں ہونے لگا؟

اسرائیل میں حماس کی کارروائیوں بارے غیر سنجیدہ تبصرہ کرنے پر سینئر صحافی شاہ زیب خانزادہ عوامی تنقید کی زد میں ہیں جہاں ایک طرف ان سے اپنے الفاظ واپس لے کر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب شاہزیب خانزادہ کیخلاف مقدمات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
خیال رہے کہ جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزداہ کے ساتھ‘ میں اینکر شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے سات اکتوبر، 2023 کو اسرائیل میں حماس کی کارروائیوں کو ’دہشت گردی‘ کہنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
22 مارچ، 2025 کو جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام میں شاہ زیب خانزادہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورت حال پر بات کر رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے کہا ’تمام تر صورت حال پر ایک چیز واضع ہوتی نظر آ رہی ہے کہ سات اکتوبر، 2023 کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملوں کے بعد جو خطے کا نیا منظر نامہ بن رہا ہے اس میں ایران جو کچھ عرصہ پہلے تک خطے میں مضبوط پوزیشن رکھتا تھا وہ اب انتہائی کمزور نظر آ رہا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کچھ ایسی تنظیموں کی حمایت کرتا رہا جو خطے میں ایرانی مفادات کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔‘شو نشر ہونے بعد سوشل میڈیا پر شاہزیب خانزادہ کے الفاظ پر شدید تنقید ہو رہی ہے اور تنقید کرنے والوں میں سیاسی اور مذہبی شخصیات کے ساتھ ساتھ صحافی بھی شامل ہیں۔
مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایکس پر لکھا ’میں جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے 7 اکتوبر کے آپریشن ’طوفان الاقصیٰ‘ کو دہشت گردی قرار دینے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ مؤقف نہ صرف صحافتی بد دیانتی ہے بلکہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کے خلاف کھلی جانبداری بھی ہے۔‘
جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی نے ایکس پر بیان دیا کہ ’جیو کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے فلسطینی حریت پسند تنظیم کو دہشت گرد کہنا افسوس ناک ہے۔غاصب بیرونی قبضہ گیر دہشت گردوں کی مخالف تنظیم غزہ کی نمائندہ جماعت ہے۔
سچ نیوز سے منسلک صحافی ہرمیت سنگھ نے بھی ان الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ’جیو ٹی وی اور اینکر شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین کے لیے جائز جدوجہد و مقاومت کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے پر شدید مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے معافی مانگے۔‘
سوشل میڈیا صارف ڈاکٹر صابر ابو مریم نے لکھا کہ ’شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں حماس کی غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف دفاعی کاروائیوں کو دہشتگردانہ حملہ کہہ کر دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں اور فلسطینی عوام کی توہین کی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹی وی پر حماس کو دہشتگرد کہنا قابل مذمت ہے۔‘
سعدیہ خالد نے لکھا کہ ’میں سعدیہ خالد جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے حماس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ حق دفاع اور اپنی سرزمین فلسطین کیلئے جائز جدوجہد کو دہشت گردی کہنے پر شدید مذمت کرتی ہوں اور مطالبہ کرتی ہوں کہ جیو نیوز اس پر پاکستانی اور فلسطینی عوام سے معافی مانگے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کا داعی رہا ہے اور پاکستان کی حکومت فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس معاملے پر عالمی سطح پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔