عمران کو پیسے دینے والے کرپٹ، لیکن لینے والا کپتان ایماندار کیوں؟

تحریک انصاف بھی عجب جماعت ہے۔ اس میں کپتان تو بہت اچھا ہے لیکن اس کے ٹیم ممبرز بہت کرپٹ ہیں۔ بانی پی ٹی آئی تو بہت اچھا اور ایماندار ہے لیکن اس کا لگایا ہوا وزیراعلی خیبر پختون خواہ بہت برا اور کرپٹ ہے۔ اس جماعت میں پیسے دینے والا کرپٹ ہے، جبکہ پیسے لینے والا ایماندار ہے۔ یہ آج کی بات نہیں، یہاں ہمیشہ سے یہی اصول رہا ہے کہ پہلے پیسے لے لو، اور پھر کرپٹ قرار دے دو۔ اسکے بعد پیسے دینے والے کو ولن بنا دو، اور لینے والے کو ہیرو ہی رہنے دو۔ حالانکہ ہم نے تو ہمیشہ یہی سنا ہے کہ رشوت لینے اور دینے والے دونوں برابر کے مجرم ہیں۔
سینیئر صحافی مزمل سہروردی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھی عجب منطق ہے۔ اگر تحریک انصاف نظریاتی جماعت ہوتی تو نظریے کی خاطر خیبر پختون خواہ میں میں اقتدار کو ٹھوکر نہ مار دیتی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ خان کو اقتدار گنڈا پور کی شکل میں بھی ملے تو قبول ہے۔ سب گنڈا پور کو برا کہہ رہے ہیں لیکن کوئی کپتان سے سوال نہیں کر رہا کہ آپ انھیں ہٹا کیوں نہیں رہے؟ کپتان نے گنڈا پور رکھا ہوا لیکن تو کپتان اچھا ہے، اور گنڈاپور برا ہے۔ مختصر یہ کہ ‘داغ تو اچھے ہوتے ہیں” کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف نظریاتی جماعت ہوتی تو نتائج کی پرواہ کیے بغیر کھلم کھلا ڈبل گیم کھیلنے والے گنڈا پور کو وزارت اعلی سے ہٹا دیتی۔ لیکن اقتدار کے متلاشی خان صاحب خود مصلحت کا شکار ہیں۔ یعنی اگر کپتان مصلحت کا شکار ہو جائے تو کوئی بات نہیں، لیکن اس کے کسی کھلاڑی کو مصلحت پسندی دکھانے کا کوئی حق نہیں۔ یہی خان کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ وہ خود صبح شام مذاکرات کے لیے منتیں کرتا ہے، لیکن شاہ محمود قریشی اگر جیل سے خط لکھ کر مذاکرات کی تجویز دے تو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔
آجکل مرزا آفریدی کا بہت ذکر ہے، آج یوتھیوں کو دنیا بھر کی برائیاں ان میں نظر آ رہی ہیں ، مثلاً انھوں نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی، اس لیے انھیں سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دینا چاہیے۔ کیونکہ وہ برے وقت میں پارٹی کیساتھ کھڑے نہ ہوئے، اسلیے انھیں پارٹی ٹکٹ نہیں دینا چاہیے۔ وہ پیسے کی سیاست کرتے ہیں، اس لیے انہیں ٹکٹ نہیں دینا چاہیے۔ لیکن ایسے اعتراضات کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اسی مرزا آفریدی نے عمران خان کے کیسز لڑنے کے لیے اچھی خاصی مالی مدد کی۔ لیکن مرزا آفریدی مالی مدد کر کے بھی برے ہیں اس سے پیسے لینے والا کپتان اچھا ہے۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اگر مرزا آفریدی کو 9 مئی کی مذمت کرنے کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا جا سکتا تو پھر 9 مئی کے کیسز لڑنے کے لیے ان سے کروڑوں روپے وصول کرنا کیسے جائز ہو گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ خان کو پیسے دینے والا شخص برا ہے لیکن پیسے لینے والا خان اچھا ہے ۔ جب آپ برے لوگوں سے اپنا کوئی مفاد لیتے ہیں تو آپ بھی اس میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔ یہ کیا منطق ہے کہ ہم برے لوگوں سے چندہ لے کر بھی اچھے ہیں لیکن چونکہ وہ ہمیں چندہ دیتے ہیں اس لیے وہ برے ہیں۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ یہ آج کی بات نہیں ہے۔ آپ تحریک انصاف کے سارے اے ٹی ایم لیڈرز کی داستانیں اٹھا لیں۔ انھوں نے پارٹی کو اربوں روپے دییے ہیں لیکن آج وہ برے ہیں، لیکن جس شخص نے ان سے اربوں روپے وصول کیے ہیں وہ آج بھی اچھا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اپ عمران خان کے برے وقتوں کے قریبی ترین ساتھی جہانگیر ترین کی مثال لے لیں۔ کپتان ان کے جہاز پر سیر کرتا رہا، اور انکا پیسہ خرچ کرتا رہا، ترین نے 2018 کے الیکشن کے بعد عمران کی حکومت بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا، لیکن پھر وہی جہانگیر ترین برا ہو گیا اور کپتان آج بھی اچھا ہے۔ علیم خان کی بھی ایسی ہی مثال ہے۔ اس نے بھی برے وقتوں میں خان پر اربوں روپیہ خرچہ لیکن اقتدار میں آ کر موصوف نے اس کی چھٹی کروا دی۔
سب سے دلچسپ مثال توشہ خانہ کی گھڑی کی ہے۔ جس نے گھڑی خریدی، وہ برا ہے لیکن جس نے بیچی، وہ اچھا ہے۔ جس نے تحائف خریدے، وہ برا ہے لیکن جس نے بیچے وہ اچھا ہے۔ یعنی تحائف خریدنے والا مجرم اور بیچنے والا معصوم ہے۔ یہ کرپشن کی ایک نئی تعریف ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے۔ اس میں ایک فریق مجرم ہے اور دوسرا معصوم ہے۔ جس نے فرح گوگی کو پیسے دیے وہ مجرم اور فرح گوگی معصوم ہے۔ یہ منطق سمجھ سے بالا ہے۔ جب تک مفاد وابستہ رہتا ہے لوگوں سے مال وصول کرنا جائز ہے لیکن جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو اسی شخص کو کرپٹ قرار دے دیا جاتا ہے، یہی کپتان کا سب سے بڑا کمال ہے۔ اے ٹی ایم کو جیب میں رکھتے ہوئے اے ٹی ایم کو ہی برا کہنا کوئی ان سے سیکھے ۔
سینیٹ الیکشن سے پہلے گنڈا پور نے اپوزیشن اتحاد کے گھٹنے کیوں پکڑ لیے؟
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ آپ گنڈا پور کی مثال ہی لے لیں۔ ساری تحریک انصاف ان کے اسٹیبلشمنٹ سے مل کر ڈبل گیم کھیلنے کی وجہ سے انہیں برا کہہ رہی ہے۔ لیکن جب کپتان سے کہا جاتا ہے کہ گنڈا پور کو ہٹا دیں تو جواب ملتا ہے کہ اگر ایسا کیا تو خیبر پختونخوا حکومت چلی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ آپ کو کے پی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے اقتدار قبول ہے، آپ گنڈا پور کو وزیر اعلی بھی رکھے ہوئے ہیں، لیکن اسے برا بھی کہہ رہے ہیں۔ گنڈا پور برا ہے۔ لیکن اس کا اقتدار اچھا ہے۔ کپتان اچھا ہے لیکن اس کی ٹیم بری ہے۔ خدا جانے یہ کون سی منطق ہے۔
