مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک ایرانی میزائلوں کے نشانے پر کیوں؟

 

 

 

 

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی مفادات، تنصیبات، شخصیات اور اتحادی گروپوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اہداف کو ڈرونز اور میزائلز کے ذریعے ٹارگٹ کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کی جوابی حکمتِ عملی صرف براہِ راست حملہ آور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ امریکی و اسرائیلی اتحادیوں کو بھی اس جارحیت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک پر میزائل و ڈرون حملوں کا اصل مقصد کیا ہے اور وہ ان عسکری کارروائیوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے جس انداز میں ردِعمل دیا ہے، وہ محض فوری جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایرانی قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ نے حملوں سے کئی ہفتے قبل خبردار کر دیا تھا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آ جائے گا۔ حالیہ پیش رفت سے بظاہر یہی پیغام عملی صورت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے اب کوئی راز نہیں رہے۔ امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جن پر تقریباً 40 ہزار امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ ایران کے قریب قائم قطر کا العدید ایئربیس، اُردن کا “ٹاور 22”، کویت اور سعودی عرب کے متعدد فوجی ہیڈکوارٹرز بنیادی طور پر امریکی عسکری ڈھانچے کا حصہ ہیں جسے ایران اپنے خلاف محاذ سمجھتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر کے واضح پیغام دیا ہے ایران کو نشانہ بنانے کے بعد اب امریکی مفادات پورے خطے میں غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے بقول ایرانی میزائل حملے بنیادی طور پر کلاسیکی “ڈیٹرنس” کی حکمتِ عملی ہے تاکہ امریکہ کو مزید پیش قدمی سے باز رکھا جا سکے۔ یعنی ایران جوابی کارروائیوں سے امریکہ کو احساس دلانا چاہتا ہے کہ وہ جارحیت سے باز نہ آیا تو اسے کیا کیا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے

 

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران دانستہ طور پر تنازع کو صرف اسرائیل اور امریکہ تک محدود رکھنے کی بجائے اسے پورے خطے تک پھیلانے کا خواہاں ہے۔تاکہ خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ واشنگٹن پر اثر انداز ہو کر جنگ بندی کی راہ ہموار کریں۔ ماہرین کے بقول ایران جانتا ہے کہ تیل کی تنصیبات، رہائشی عمارتوں اور ایئرپورٹس کے نشانہ بننے کے بعد خطے کی حکومتیں امریکہ پر جنگ بندی بارے سفارتی دباؤ بڑھانے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔ اگر خلیجی ریاستیں یہ محسوس کریں کہ جنگ سے ان کی معیشت اور استحکام کو براہِ راست خطرہ ہے، تو وہ امریکہ کو جلد تصفیے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ اسی لئے ایران امریکی مفادات کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک پر بھی مسلسل حملہ آور ہے۔

کیا ایران کے خلاف جنگ پورے مڈل ایسٹ میں پھیل جائے گی ؟

دفاعی ماہرین کے بقول قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، شام، اُردن اور مصر سمیت مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایران اپنے ہمسایہ ممالک میں موجود ان امریکی اڈوں کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے۔ میزائل حملوں کے ذریعے ایران یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو پورے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور اہلکار خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایرانی حملوں سے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی سطح پر بھی دباؤ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ امریکی عوام اور اتحادی ممالک طویل جنگی مہمات سے عموماً خائف رہتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی میزائل کارروائیاں بیک وقت طاقت کے مظاہرے، سیاسی دباؤ، اور علاقائی توازن کی کوشش کا مرکب ہیں۔ اگر عسکری کارروائیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خطہ ایک وسیع تر جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Back to top button