عورتیں بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کا حصہ کیوں بن رہی ہیں؟

بلوچستان میں وقت کے ساتھ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں، خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی کی عسکری صلاحیت اور حملوں کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں نہ صرف حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی نوعیت، منصوبہ بندی اور حربی مہارت میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ لیکن پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ان حملوں میں پڑھی لکھی خواتین کا بطور فدائی بمبار شامل ہونا ہے۔
نئی سال کے آغاز پر بی ایل اے نے 31 جنوری کو ایک ہی روز بلوچستان کے 12 شہروں میں حملے کیے جن میں 100 سے زائد افراد مارے گے، ان حملوں میں 6 فدائی خواتین بمباروں نے بھی حصہ لیا۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں پہلی مرتبہ بی ایل اے کی ایک خاتون خودکش بمبار منظرِ عام پر آئی، جسکے بعد یونیورسٹی میں زیر تعلیم کئی پڑھی لکھی خواتین خودکش فدائی بمبار بن کر اپنی جانیں گنوا چکی ہیں۔ یہ پیش رفت سیکیورٹی حلقوں میں اس لیے بھی باعثِ تشویش ہے کیونکہ خواتین کی شمولیت نہ صرف گروہ کی آپریشنل حکمتِ عملی میں وسعت کی علامت ہے بلکہ سماجی سطح پر ہمدردی اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق دہشت گرد حملوں میں بطور فدائین بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے بقول، اس سے دہشت گرد گروپ کے بیانیے کو مقبولیت ملتی ہے اور وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ جنگ اب گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں اس وقت بی ایل اے سب سے زیادہ منظم اور مہلک باغی گروہ بن چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خواتین کو ہائی پروفائل حملوں میں استعمال کرنا محض علامتی قدم نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا حربہ ہے، جس کا مقصد ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنا اور عالمی توجہ حاصل کرنا ہے۔ انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان خواتین کا تعلق مختلف سماجی و معاشی طبقات سے ہے اور بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ یہ پہلو اس تاثر کو چیلنج کرتا ہے کہ عسکریت پسندی صرف محرومی یا ناخواندگی کا نتیجہ ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے اسلحے کا کچھ حصہ شدت پسند بلوچ گروہوں تک بھی پہنچا ہے، جس سے ان کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق گزشتہ سال جون تک بلوچ دہشت گردوں سے 272 امریکی ساختہ رائفلیں اور 33 نائٹ وژن آلات ضبط کیے گئے۔ اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے 216 جنگجوؤں سے درجنوں ایم 16 اور ایم 4 رائفلیں اور گرینیڈ لانچرز برآمد کیے گئے۔ آڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے روئٹرز کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز مسلسل ایسے ہتھیاروں کی موجودگی دیکھ رہی ہیں جو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جدید اسلحے تک رسائی نے تحریک طالبان کے علاوہ بلوچ عسکریت پسندوں کی آپریشنل صلاحیت کو بھی مذید مؤثر بنا دیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالرز مالیت کے فوجی سازوسامان میں لاکھوں ہتھیار شامل تھے، جن کی بڑی تعداد افغان فورسز کو دی گئی تھی، مگر افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ اسلحہ ہمسایہ ممالک خصوصا پاکستان میں بیچا جا رہا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں سوشل میڈیا کو بھرتی اور بیانیہ سازی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اٹھایا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین کی شمولیت کی تشہیر ایک منظم میڈیا حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے گروپ اپنے نظریے کو قومی مزاحمت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
بلوچستان طویل عرصے سے ترقیاتی محرومی، سیاسی عدم اعتماد، وسائل کی تقسیم کے تنازعات اور جبری گمشدگیوں کے الزامات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سیاسی عمل کمزور ہو اور مقامی شکایات کا مؤثر ازالہ نہ ہو سکے تو عسکری گروہ ان خلا کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ کچھ مبصرین کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری، تعلیم کے محدود مواقع اور سیاسی نمائندگی پر سوالات عسکریت پسند بیانیے کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ریاستی مؤقف ہے کہ بیرونی مداخلت اور فنڈنگ بھی ان گروہوں کی مضبوطی کا ایک عنصر ہے۔
عسکریت پسند تنظیموں میں خواتین خودکش بمباروں کی شمولیت نے سیکیورٹی اداروں کے لیے سکریننگ کے روایتی طریقوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماضی میں چیک پوسٹس اور حساس مقامات پر سیکیورٹی حکمت عملی زیادہ تر مرد حملہ آوروں کے تناظر میں ترتیب دی جاتی تھی۔ اب سیکیورٹی اداروں کو نہ صرف انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی انسدادِ انتہا پسندی کے پروگراموں کو وسعت دینا ہو گی۔ اس کے علاوہ جدید اسلحے، نائٹ وژن آلات اور بہتر تربیت کے باعث عسکریت پسندوں کی ہِٹ اینڈ رن کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سیکیورٹی فورسز کو دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ سیاسی مفاہمت، سماجی ترقی، مؤثر بیانیہ سازی اور سرحدی نگرانی کو یکجا کرنا ہو گا۔ بصورتِ دیگر بلوچستان میں طاقت کا یہ توازن سیکیورٹی اداروں کے لیے مزید پیچیدہ ہوتا جا سکتا ہے۔
