پی آئی اے کی نجکاری پرانصافیوں کوتکلیف کیوں؟

وفاقی حکومت کی جانب سے خسارے کی شکار قومی ائیر لائن پی آئی اے کی فروخت کے بعد طوفان برپا ہے کہ حکومت نے اپنوں کو نوازنے کیلئے کھربوں روپے کے مالیت کی پی آئی اے کے ہوٹلز اور جہاز کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دئیے ہیں۔عارف حبیب کنسورشیئم کی پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی خریداری کیلئے طے پانے والی 135 ارب روپے میں سے حکومت کو صرف 10ارب روپے ملیں گے جبکہ باقی 125ارب روپے پی آئی اے کی بحالی کے نام پر دوبارہ کنسورشیم کے پاس واپس چلے جائیں گے۔

پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار بلال غوری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پی آئی اے کی نجکاری پر سوگ منایا جارہا ہے ،سینہ کوبی کرتے غم خوار کہتے ہیں،ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔پی آئی اے کی ڈیل 135ارب روپے میں نہیں ہوئی ،سرکاری خزانے میں صرف دس ارب روپے آئیں گے باقی رقم تو پی آئی اے کو چلانے پر لگائی جائیگی۔ٹسوے بہاتے سوگوار وں کا استدلال ہے کہ پی آئی اے کے پاس 38جہاز ہیں ان میں سے ایک جہاز کی مالیت 10ارب روپے بنتی ہے اور حکومت نے پوری پی آئی اے اتنے کم پیسوں میں بیچ دی؟بعض ہمدرد تو نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کو بھی اس ڈیل میں شامل کرکے حکومت پر تنقید کررہے ہیں کہ 4000ارب روپے کا تو صرف روزویلٹ ہوٹل ہے تو پھر 10ارب روپے میں پی آئی اے کا سودا کیوں کیا گیا ؟ بلال غوری کے بقول پی آئی اے کی نجکاری پر تنقید کرنے والوں کو کائیں کائیں کرنے سے فرصت ملے تو سمجھیں کہ جو کمپنیاں اور ادارے اثاثہ نہیں رہتے بلکہ بوجھ بن جاتے ہیں ،ان سے چھٹکاراہی حاصل کیا جاتا ہے۔

بلال غوری کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ پی آئی اے کے پاس 38مسافر طیارے موجود ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف 18آپریشنل ہیں اور انکی حالت بھی ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار جیسی ہے۔بلال غوری کے بقول حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے مابین طے پانے والی ڈیل کے تحت نہ صرف یہ کہ 135ارب روپوں میں سے لگ بھگ 125ارب روپے پی آئی اے میں ہی لگائے جائیں گے بلکہ حکومت نے خریدار کنسورشیم کو جہازوں کی خریداری یا لیز پر عائد 18فیصد جی ایس ٹی میں بھی چھوٹ دیدی ہے۔یہی نہیں بلکہ پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا 650ارب روپے کے واجبات اب پی آئی اے ہولڈنگ کے کھاتے میں چلے گئے ہیں جبکہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن ،میڈیکل بل اور مفت ایئر ٹکٹ کے اخراجات خریداروں کا درد سر نہیں ہونگےبلکہ یہ بوجھ بھی حکومت اُٹھائے گی۔ تاہم ناقدین کا یہ استدلال غلط ہے کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل ،پیرس کاسکرائب ہوٹل اور چند دیگر اثاثہ جات اس نجکاری کا حصہ ہیں اور وہ بھی پی آئی اے ہولڈنگ کے زیر انتظام چلے گئے ہیں۔ بلال غوری کے بقول حکومت نے صرف ائیر آپریشنز کے مالکانہ حقوق کنسورشیم کے حوالے کرنے کی ڈیل کی ہے تاہم مین ہٹن میں روزویلٹ ہوٹل کی عمارت کو گرا کر جوائنٹ وینچر کے تحت کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کی جائیگی ،اسی طرح پی آئی اے کا کارگو آپریشن ،ٹریننگ کا شعبہ اور چند دیگر امور بھی خریداروں کے حوالے نہیں کئے جائیں گے۔ بلال غوری کا مزید کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری بارے سامنے آنے والی سخت ترین شرائط کے باوجود یہ بہترین ڈیل ہے ۔اب واویلا مچانے والوں کو اگر لگتا تھا کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے تو وہ نیلامی میں شریک ہوکر اس سے زیادہ بولی دیتے اور پی آئی اے خرید لیتے ۔

بلال غوری کے مطابق تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرت سال کے ساتھ بڑھتے ہوئے خسارے کی وجہ سے پی آئی اے ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ 2013ء میں پی آئی اے کا خسارہ 44ارب روپے تھا جو 2021ء میں بڑھ کر 50ارب جبکہ 2022ء میں88ارب روپے ہوگیا۔ عالمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حکومتوں کا کام کاروبار کرنا نہیں ۔گزشتہ دو دہائیوں میں ایئر انڈیا ، TAPایئر پرتگال ،یونان کی اولمپک ایئراور جاپان ایئر لائنز سمیت کئی ممالک کی فضائی کمپنیاں نجی شعبہ کے پاس چلی گئیں۔ پی آئی اے کی طرح ان ائیر لائنز کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے سے پہلے واجب الادا قرضہ جات سے الگ کر دیا گیا تھا تاکہ خریدار کمپنی ان ائیرلائنز کو نئے سرے سے چلا سکے۔ ان کے مطابق ماضی میں جس طرح حکومت پاکستان نے پی آئی اے کو’ جو ہے جہاں ہے‘ کی بنیاد پر نیلام کرنے کی کئی ناکام کوششیں کیں ،اسی طرح بھارتی حکومت نے بھی ایئر انڈیا کو 2001ء اور پھر 2018ء میں جزوی طور پر نجی شعبہ کو دینے کی پیشکش کر مگر بات نہ بن سکی۔ تاہم اکتوبر2021ء میں ٹاٹا گروپ نے 2.4بلین ڈالر کے عوض ایئر انڈیا کے 100فیصد شیئرز خرید لیے۔تب بھارت میں بھی یونہی صف ِماتم بچھائی گئی ۔کہا گیا کہ 130مسافر طیاروں کی مالک ایئر انڈیا کوڑیوں کے مول بیچ دی گئی۔لیکن حکومت نے ان ناقدین کی پروا نہ کی کیونکہ ایئر انڈیا کا مجموعی خسارہ 9.5بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا اور حکومت کے پیش نظر یہ بات تھی کہ یومیہ 2.6ملین ڈالر نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے تو کیوں نہ یہ سفید ہاتھی کسی ایسے سرمایہ کارکے حوالے کردیا جائے جو اسکے اخراجات پورے کرسکے۔ بالکل اسی طرح حکومتِ پاکستان نے جب پی آئی اے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تو ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق تنقید اور لعن طعن کرنے لگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کئی ماہ سے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری تھا اور سب کو بخوبی علم تھا کہ نیلامی کب اور کہاں ہونی ہے۔ اگر ناقدین کے نزدیک پی آئی اے کی مالیت اس سے کہیں زیادہ تھی تو انہیں چاہیے تھا کہ نیلامی کے عمل میں حصہ لیتے اور زیادہ بولی دے کر اسے خرید لیتے۔ تاہم حقیقت میں ان کا مقصد صرف ماتم کرنا ہے اور وہ اپنے اس مشن پر دل و جان سے کاربند ہیں۔

 

 

Back to top button