عمران اپنا ٹرمپ کارڈ اور سرپرائز سامنے کیوں نہ لا پائے؟

اتوار کی شام اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے دوران عوام پونے دو گھنٹے تک پہاڑ کھودتے رہے لیکن چوہا پھر بھی نہ نکل پایا۔ یاد رہے کہ عوام کو بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے عمران نے دعویٰ کیا تھا کہ

وہ 27 مارچ کو ’اپوزیشن کو بہت بڑا سرپرائز‘ دے کر ’عدم اعتماد والا میچ‘ جیت جائیں گے۔

لہذا توقع کی جا رہی تھی کہ عمران اتوار کے جلسے میں کوئی بڑا انکشاف کر کے وہ سرپرائز دیں گے جس کا اُنھوں نے وعدہ کر رکھا تھا۔تاہم اس توقع کے برعکس وزیراعظم نے ایک گمنام خط کا ذکر کرتے ہوئے، ایک گمنام طاقت کی جانب سے، ایک گمنام دھمکی کا ذکر کیا جس میں گمنام پاکستانی عناصر بھی شامل ہیں۔ یعنی عمران نے ایک گمنام سازش بیان کی جس میں سرپرائز کا رتی بھر عنصر شامل نہیں تھا۔

اتوار کو لوگ پونے دو گھنٹے ان کی تقریر سنتے رہے لیکن سرپرائز نہ آنا تھا اور نہ ہی آیا اور موصوف کی تقریر ختم ہو گئی۔ اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں عمران کا خطاب 6.57 منٹ پر شروع ہوا۔ اس دوران وہ 95 منٹ تک فی البدیہہ جذباتی انداز میں بولتے رہے حالانکہ ان کا چہرہ مکمل طور پر اترا ہوا تھا اور پریشانی صاف ظاہر تھی۔

اس دوران انہوں نے حسب سابق گالہ گلوچ بھی کو اور قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا۔ اپوزیشن رہنمائوں کو ہدف تنقید بناتے کے بعد انہوں نے آخری 11 منٹ کی تقریر ایک کاغذ سے پڑھ کر سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کاغذ سے اس لیے پڑھ رہا ہوں کہ یہ ایک بہت ذیادہ حساس موضوع ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بین الاقوامی فنڈنگ سے انکی حکومت کے خلاف ایک سازش تیار کی گئی ہے، تاہم نہ انہوں نے اس سازش کے سر بارے کچھ بتایا اور نہ ہی اسکے دھڑ بارے، انہوں نے اپنی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سازش کا ذکر کرتے ہوئے ذوالفقارعلی بھٹو شہید کا حوالہ بھی دیا اور خود کو بھٹو ثانی ثابت کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پیسہ باہر کا ہے اور لوگ ہمارے اندر کے استعمال ہو رہے ہیں، ان کا کہنا تھا باہر سے دھمکی ملکی مفاد کے نام پر دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پھر کہا کہ میں الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس ایک خط بطور ثبوت موجود ہے۔

تاہم عمران کے اس دعوے میں سرپرائز کا کوئی عنصر اس لیے شامل نہیں تھا کہ انھوں نے نہ تو سازش کرنے والے ملک کا نام بتایا اور نہ ہی اسکے پاکستانی ساتھیوں بارے کوئی اشارہ دیا۔ سادہ الفاظ میں وزیراعظم نے ایک گمنام خط کا ذکر کرتے ہوئے، ایک گمنام طاقت کی جانب سے، ایک گمنام دھمکی کا ذکر کیا جس میں گمنام پاکستانی عناصر بھی شامل ہیں۔ یعنی عمران نے ایک گمنام سازش کی بیان کی جس میں سرپرائز کا رتی بھر عنصر شامل نہیں تھا۔

یاد رہے کہ اتوار کے جلسے سے کچھ روز پہلے تک وزیراعظم یہ تاثر دے رہے تھے کہ شاید وہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وہ سرپرائز دوں گا جس سے کھیل کا پانسہ پلٹ جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے بیانات سے تشویش پیدا ہو گئی تھی جس کے بعد طاقتور اداروں کی جانب سے ان پر واضح کر دیا گیا تھا کہ کوئی مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس وارننگ کے بعد وزیر اعظم کا ٹرمپ کارڈ اور سرپرائز دونوں ہوا ہو گئے تھے۔ وسرننگ ملنے کے بعد کپتان نے صحافیوں کے ایک مخصوص گروپ سے ملاقات کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ وہ آرمی چیف کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی اعلان کرنے نہیں جا رہے ہیں اور یہ کہ وہ فوج کی بہت عزت کرتے ہیں۔

قوم چوروں لٹیروں کو این آراونہ دینے کا فیصلہ کرچکی

باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے 27 مارچ کو ایک سرپرائز کے اعلان کرنے کے بعد ان کے حامیوں کی امیدیں بہت ذیادہ برح گئی تھیں، لیکن سرپرائز کا بندوبست نہ ہو پایا، چنانچہ ایک گمنام خط میں دی گئی گمنام دھمکی کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا جو کہ گمنام لوگوں نے تیار کی تھی۔ اتوار کو ملک بھر سے آئے پی ٹی آئی کارکنان بھی گرم موسم میں ’سرپرائز‘ ہی کی امید لیےاسلام آباد کے پہنچے تھے۔ تاہم جب پونے دو گھنٹوں پر محیط تقریر ختم ہوئی تو ہر کوئی پوچھ رہا تھا کپتان کا سرپرائز کہاں ہے۔ مختصر یہ کہ کپتان کے کارکنان اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں پونے دو گھنٹے تک پہاڑ کھودتے رہے لیکن ایک چوہا تک نہ نکل پایا۔

Why couldn’t Imran bring out his Trump card and surprise? ] video in Urdu

Back to top button