جناح اور بھٹو کے بعد پاکستان کو کوئی قد آور لیڈر کیوں نہ مل سکا؟

بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد اگر اس قوم کو اعلی پائے کا کوئی نظریاتی اور قد آور لیڈر نصیب ہوا تھا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو تھا، تاہم افسوس کہ ایک فوجی آمر نے اسے رات کی تاریکی میں تختۂ دار پر لٹکا دیا۔ قائد عوام کہلانے والے بھٹو نے آئین شکن فوجی ڈکٹیٹر کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے رحم کی اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا اور موت کو گلے لگا لیا، یوں بھٹو عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستانی قوم کو حقیقی قیادت کے بجائے کھوٹے سکے ہی بطور لیڈر شپ نصیب ہوئے۔ لیکن یہ تلخ حقیقت قوم کو سمجھانا ناگزیر ہے کہ جناح اور بھٹو ہم میں سے نہیں تھے، وہ سوچ، کردار اور وژن کے اعتبار سے ہم سب سے کہیں بلند تھے۔ ایاز امیر کے مطابق بطور قوم ہماری مجموعی ناکامیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ہم ان عظیم رہنماؤں کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔

ایاز امیر سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہنے والے سینیئر بیوروکریٹ سید سعید مہدی کی حال ہی میں شائع شدہ یادداشتوں پر مبنی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کتاب میں پاکستانی سیاسی اور ریاستی اشرافیہ کے کردار کو بے نقاب کرنے والے متعدد واقعات قلم بند کیے گئے ہیں، جو ہماری تاریخ کے تلخ مگر اہم ابواب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے بقول سعید مہدی اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ جب وہ ملتان میں اسسٹنٹ کمشنر تھے تو تب کے کمشنر ملتان کے خلاف مارشل لا انکوائری شروع ہوئی۔ سابق ماتحت افسران نے کمشنر کے خلاف گواہیاں دیں، جبکہ ان پر موسیقی کی محفلوں کے انعقاد کا الزام بھی تھا۔ اس سلسلے میں معروف گلوکارائیں اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو طلب کیا گیا، مگر دونوں نے کمشنر کے خلاف ایک بھی لفظ کہنے سے انکار کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ محفلوں کے عوض انہیں کیا معاوضہ دیا جاتا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ کمشنر ان کے گرو اور مہاراج ہیں اور وہ ان سے پیسے لینا گناہ سمجھتی ہیں۔ ایاز امیر کے مطابق تاریخِ پاکستان میں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جن لوگوں کو معاشرے میں حقیر سمجھا جاتا ہے، ان کا کردار طاقتور طبقوں سے کہیں بلند نکلتا ہے۔

ایاز امیر کے بقول ایسی کتاب پڑھ کر شدید مایوسی اور ڈپریشن کا احساس ہوتا ہے کیونکہ کردار کی پستی اس قدر نمایاں ہو جاتی ہے کہ قوم کی حالت پر ہاتھ کھڑا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے بعد نواز شریف کے ساتھ سعید مہدی بھی گرفتار ہوئے اور دو سال بعد ضمانت پر رہائی ملی۔ اسی دوران ایک ایئرپورٹ لاؤنج میں سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان سے ملاقات ہوئی، جہاں جنرل محمود احمد بھی موجود تھے، جن کا 12 اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت میں اہم کردار تھا۔ سعید مہدی کے مطابق سابق چیف جسٹس دوڑتے ہوئے جنرل محمود کے پیچھے گئے اور ان سے رابطہ نمبر مانگا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ آج بھی خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ ایاز امیر یاد دلاتے ہیں کہ یہی چیف جسٹس تھے جنہوں نے جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضے کو آئینی جواز دیا، جس طرح اس سے قبل چیف جسٹس انوار الحق نے جنرل ضیاء الحق کو یہی اختیار دیا تھا۔

ایاز امیر کتاب میں بیان کیے گئے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ملتان کے دورے کے دوران کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الحق غیر معمولی طور پر متحرک ہو کر وزیراعظم کی ذاتی سکیورٹی کی نگرانی کرتے رہے اور بار بار اس ریسٹ ہاؤس کے چکر لگاتے رہے جہاں بھٹو مقیم تھے۔ اس غیر معمولی فرمانبرداری سے بھٹو اس قدر متاثر ہوئے کہ بعدازاں انہیں آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ایاز امیر کے مطابق یہی وہ فیصلہ تھا جس کے اثرات نے بعد میں تاریخ کا رخ بدل دیا۔

ایاز امیر مزید کہتے ہیں کہ بھٹو کی پھانسی کے روز جنرل ضیاء الحق نے فارن آفس میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طے کر رکھی تھی، جو اس بات کی علامت تھی کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا تھا۔ جب جنرل ضیاء پنڈی جیل کے قریب سے گزرے تو انہوں نے اپنی گاڑی میں ملٹری سیکرٹری سے پوچھا کہ آیا بھٹو کو پھانسی دی جا چکی ہے یا نہیں۔ ملٹری سیکرٹری نے بتایا کہ رات دو بجے پھانسی ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء نے کہا کہ بھٹو سے انکے قریبی تعلقات تھے اور وہ ان پر بہت مہربان رہے، مگر وہ عدالتی فیصلے کے سامنے بے بس تھے۔ ایاز امیر کے مطابق اس کے فوراً بعد جنرل ضیاء نے چلتی گاڑی میں بھٹو کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ کلمات ادا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ ڈرائیور نے بھی ہاتھ اٹھائے تو اے ڈی سی نے اسے اشارہ کیا کہ وہ سٹیئرنگ پر توجہ رکھے۔ ایاز امیر اس واقعے کو ضیاء الحق کی منافقت، دوغلے پن اور سیاسی مکاری کی بدترین مثال قرار دیتے ہیں۔

ایاز امیر لکھتے ہیں کہ پھانسی سے قبل میجر جنرل راحت لطیف نے ڈی سی راولپنڈی سعید مہدی کو بتایا کہ بھٹو کے پاس رحم کی اپیل دائر کرنے کا آخری موقع ہے۔ سعید مہدی جب کوٹھڑی میں گئے اور رحم کی اپیل کا ذکر کیا تو بھٹو نے کہا کہ کیا تم تصور کر سکتے ہو کہ سر شاہنواز بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو ضیاء الحق جیسے آئین شکن فوجی ڈکٹیٹر سے رحم کی اپیل کرے گا۔ چنانچہ بھٹو تختۂ دار پر چڑھ گئے مگر رحم کی اپیل نہیں کی۔

سعید مہدی کی کتاب میں بیان کردہ کارگل جنگ کے واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے ایاز امیر کہتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل مشرف کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو کارگل آپریشن بارے لاعلم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ بحریہ و فضائیہ کے سربراہان بھی اس آپریشن سے بے خبر تھے۔ لیکن پاک فوج کا بھاری جانی نقصان ہونے کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ نواز شریف کو امریکی صدر بل کلنٹن سے مداخلت کی درخواست کرنا پڑی، جس کے بعد جنگ بندی اور پرانی پوزیشنوں کی بحالی ممکن ہوئی۔ ایاز امیر کے مطابق افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ناکام مہم جوئی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے سارا ملبہ سیاسی قیادت پر ڈال دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وہ موقع تھا جب بروقت فیصلہ تاریخ کا رخ بدل سکتا تھا، مگر وہ لمحہ ہاتھ سے نکل گیا۔

اچکزئی کی تقرری کے باوجود عمران کی رہائی کا امکان کیوں نہیں؟

شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے ایاز امیر لکھتے ہیں کہ زندگی اور سیاست میں کچھ لمحات فیصلہ کن ہوتے ہیں، جو اگر ضائع ہو جائیں تو پھر صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ اس دھرتی اور عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں بار بار کھوٹے سکے بطور قیادت نصیب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ ہم میں سے نہیں تھے، وہ ہر لحاظ سے مختلف تھے، اور ہماری قومی ناکامیاں اس بات کی واضح گواہی ہیں کہ ہم ان کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔

Back to top button