حکومت عمران کا فوج مخالف بیانیہ کاؤنٹر کیوں نہیں کر پائی؟

 

 

 

گزشتہ دو برسوں میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے ریاستی نظم و نسق پر اپنی گرفت کافی حد تک مضبوط تو کر لی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت عوام کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہو سکی ہے یا نہیں؟ مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر اب بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تحریک انصاف کے فوج مخالف بیانیے کو کاؤنٹر کرنا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت یے کہ اپنے دور حکومت میں عمران خان نے بھی سوائے بڑھک بازی اور اپوزیشن قیادت کے احتساب کے عوامی فلاح کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق آج کے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ سیاسی عدم استحکام کا شکار نظر آتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت اپنے اقتدار کے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران کہیں انتظامی گرفت مضبوط ہوئی ہے تو کہیں عوامی سطح پر بے اطمینانی میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں حکومتی کارکردگی ایک واضح سمت کے بجائے تضادات کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ کے مطابق فروری 2024 کے انتخابات کے بعد حکومت کو جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا رہا، وہ اپنی سیاسی ساکھ کا سوال تھا۔ انتخابی عمل پر اٹھنے والے اعتراضات نے ابتدا ہی سے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں رکھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے پارلیمان میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمانی اکثریت جمہوری مضبوطی کی ضامن ہے یا یہ محض طاقت کے توازن کا نتیجہ ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی تشنہ ہے۔

 

تحریک انصاف کے بیانیے کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’ون پیج‘ کے تعلقات بدستور قائم ہیں۔ حالیہ آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کا رویہ بھی واضح طور پر محتاط ہو چکا ہے۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 2024 کے بعد پاکستان میں ہائبرڈ سیاسی نظام مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن، خصوصاً تحریک انصاف، نے اس نظام کو توڑنے کی کوشش ضرور کی، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

 

الیکشن 2024 کے بعد کے مہینوں میں شہباز حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا تھا۔اس دوران انتخابی شفافیت پر سوالات، مخصوص نشستوں کے فیصلے اور عدالتی کارروائیوں نے حکمران اتحاد کو بے چین رکھا۔ اسی دوران تحریک انصاف نے جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کی کوشش کی، مگر یہ دباؤ فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکا۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق کئی حوالوں سے موجودہ صورتحال 2018 کے بعد کی سیاسی فضا سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ تب تحریک انصاف بھی ایک متنازع انتخابی عمل کے بعد اقتدار میں آئی تھی اور ابتدا میں طاقت کے مراکز کی ناراضی کا سامنا رہا تھا۔ تب کی اپوزیشن نے جنرل قمر جاوید باجوا اور جنرل فیض حمید پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وسیع پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لائے ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق عمران اور شہباز کے اقتدار میں بڑا فرق یہ رہا ہے کہ خان کا ’ون پیج‘ جلد پھٹ گیا اور انکا اقتدار زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ پایا جبکہ شہباز شریف اور فوجی قیادت ابھی تک ایک ہی صفحے پر دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف نے 2018 کے بعد کی سیاست میں خود کو ایک مؤثر مخالف قوت کے طور پر منوایا۔ عمران کی مقبولیت اور پارٹی کی عوامی زبان نے اسے سڑکوں پر آواز دینے کی صلاحیت بخشی۔ مزاحمتی بیانیہ گھڑنا اور اسے بار بار زندہ رکھنا تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ رہا۔ تاہم عمران خان اور پارٹی قیادت کی گرفتاریوں نے اس مزاحمتی سیاست کو شدید دھچکا پہنچایا۔

 

خیبر پختون خوا میں علی امین گنڈاپور کی چھٹی اور سہیل آفریدی کی صورت میں وزیر اعلی کی تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی خود بھی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہی ہے اور دوبارہ سیاسی میدان میں جگہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس دوران یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا پاکستان کا نوجوان طبقہ کسی بڑی عوامی تحریک کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؟ یاد رہے کہ اد خطے کے دیگر ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں نے نظام ہلا کر رکھ دیا، مگر پاکستان میں صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے باعث نوجوان شدید مایوسی کا شکار ضرور ہیں، لیکن یہ بے چینی تاحال منظم سیاسی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ تحریک انصاف میں قیادت کے فقدان نے بھی پارٹی کی سٹریٹ پاور کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ آنے والے دنوں میں حکومت کو چیلنجز کا سامنا رہے گا، مگر اس وقت احتجاجی سیاست کا ڈھانچہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ ہائبرڈ نظام میں اختلاف کی گنجائش پہلے ہی محدود تھی، جو اب مزید سکڑ چکی ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ نئے دور کے تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری اور عالمی فورمز پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے حکومت کو سفارتی محاذ پر کچھ سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ اس عالمی سرگرمی نے جمہوری کمزوریوں پر ہونے والی بیرونی تنقید کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت جیسے جیسے اپنی مدت کے وسط کی جانب بڑھ رہی ہے، اصل امتحان معیشت اور سلامتی کے محاذ پر درپیش ہے۔ آئی ایم ایف کی معاونت کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ عالمی اداروں کی رپورٹس غربت میں اضافے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

 

دوسری جانب سلامتی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش اور خیبر پختونخوا میں شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں نے ریاست کو ایک بار پھر سخت فیصلوں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی کارروائی پر مرکز اور صوبے کے درمیان اختلافِ رائے اس پیچیدہ مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) کی حکومت بیانیے کی جنگ جیت پائے گی؟ سوشل میڈیا کے محاذ پر تحریک انصاف اب بھی زیادہ متحرک اور مؤثر دکھائی دیتی ہے، جبکہ حکومت دفاعی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے اقدامات وقتی سکون تو دے سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ حکومتی ساکھ کو مزید کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا عمران خان کی وکلا سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار

دوسری طرف تحریک انصاف بھی اپنی سیاست کو محض ایک مطالبے تک محدود رکھے ہوئے ہے۔ اگر اپوزیشن عوامی فلاح، معاشی انصاف اور سیاسی شمولیت جیسے وسیع تر مسائل کو اپنا بیانیہ نہ بنا سکی تو یہ خلا بدستور قائم رہے گا۔ یوں پاکستانی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عسکری اور سویلین فیصلہ سازوں کا اقتدار تو مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے فوج مخالف بیانی کو کاؤنٹر کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

Back to top button