عمران کی رہائی کیلئے KPK میں بھی احتجاج کیوں نہ ہوسکا؟

ملک بھر کی طرح پی ٹی آئی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی 5اگست کے احتجاج کی کال ٹھس ہو گئی۔ صوبے میں ہونے والے تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں میں مایوسی، بدنظمی، عوامی لاتعلقی اور کارکنان کی عدم شرکت نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ یوتھیے اب پارٹی قیادت پر اعتماد کرنے کو ہرگز تیار نہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی احتجاجی ریلی میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈپور کے خلاف نعرے بازی سے پتا چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان پارٹی قیادت سے بددل اور مایوس ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اس نہج تک پہنچانے کی اصل ذمہ دار تحریک انصاف کی مرکزی لیڈر شپ ہے جس نے پی ٹی آئی کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے ۔

فوٹو شاپڈ تصاویر کے ذریعے سوشل میڈیا پر لاکھوں کا ہجوم دکھا کر بھی عوام کو متحرک کرنے کی کوشش بھی بے سود رہی۔ ورچوئل دکھاوا، زمینی حقیقت کو بدل نہ سکا۔ عوام جان چکے ہیں کہ عمران خان کے بغیر نہ صرف پارٹی کی سمت کھو گئی ہے بلکہ قیادت میں سنجیدگی، یکجہتی اور قربانی کا فقدان ہر گزرت دن کے ساتھ پڑھتا نظر آتا ہے۔قیادت میں تقسیم، تنظیمی خلا، کارکنوں کی بے چینی اور عوامی عدم دلچسپی نے پارٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے والے کارکنوں کی تعداد نہایت کم تھی۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں کا ہجوم دکھا کر حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی، لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ حجروں سے بار بار کیے جانے والے اعلانات کے باوجود کارکنان گھروں سے نہیں نکلے۔ دکانداروں نے کاروبار بند کیے، مگر احتجاج میں شریک ہونے کے بجائے سیدھا گھروں کو چلے گئے۔

ناقدین کے مطابق ماضی میں جلسہ گاہیں بھرنے والی پی ٹی آئی 5 اگست کو گلی محلوں میں کارکنان کی تلاش میں بھٹکتی نظر آئی۔ خیبرپختوانخوا جہاں کبھی ایک اشارے پر لاکھوں کارکنان نکلتے تھے، اب وہاں حجروں سے اعلانات کے باوجود دو درجن کارکنان کو جمع کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اسی وجہ سے 5 اگست کو پشاور سمیت نوشہرہ، مردان، چارسدہ، سوات، دیر، کوہستان اور اورکزئی میں احتجاجی ریلیاں بری طرح ناکام ہوئیں۔ موثر حکمت عملی اور حقیقی یقین دہانیوں کے فقدان کی وجہ سے عوام تو ایک طرف احتجاجی ریلیوں میں خود پارٹی کے کارکنان بھی شریک نہیں ہوئے۔

پشاور میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں مرکزی احتجاجی ریلی نکالی گئی مگر نہ اس میں کارکنان کی شرکت خاطر خواہ تھی، نہ قیادت کا رویہ حوصلہ افزا نظر آیا۔ اسی وجہ سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور  نے ریلی کے اختتام پر نہ صرف خطاب سے گریز کیا بلکہ بغیر کچھ کہے سکیورٹی پروٹوکول میں نکل گئے۔ وزیر اعلیٰ گنڈاپور کے اس طرز عمل نے پارٹی کارکنان کو مزید آگ لگا دی اور وہ بپھر کر سڑکوں پر آ گئے، انھوں نے نہ صرف سڑکیں بند کیں، بلکہ علی امین گنڈپور کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ "یہی لوگ خان کو جیل میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔” علی امین کا اس طرح ریلی چھوڑنا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت محض دکھاوا کر رہی ہے، اس کے پاس نہ کوئی لائحہ عمل موجود ہے اور نہ ہی حقیقی سیاسی وژن۔ ریلی کے اختتام پر کارکنان کا کھل کر قیادت پر تنقید کرنا، حتیٰ کہ "نوسرباز” جیسے الفاظ کا استعمال، ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کی اندرونی صفوں میں زبردست خلفشار ہے۔ کارکنوں کا یہ مطالبہ کہ پارٹی کی صفوں میں چھانٹی کی جائے اور صرف ایماندار لوگ رکھے جائیں، اس بات کا اعتراف ہے کہ پارٹی کے اندر وفاداری اور دیانت ناپید ہو چکی ہے۔پی ٹی آئی کارکنان کے بقول ہر بار ہم نکلتے ہیں اور ہر بار مایوس ہو کر واپس آتے ہیں۔ قیادت خود الجھی ہوئی ہے، کرسی کی لڑائی میں عمران خان کو بھول چکی ہے۔”

ریلیوں میں شریک کارکنان کا اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں میں پارٹی قیادت چھپتی پھرتی ہے جبکہ دھلائی کے لئے کارکنان کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ جب سے عمران خان جیل میں گئے ہیں، موجودہ قیادت صرف اپنی بچت کے چکر میں ہے، نہ کوئی سنجیدہ حکمت عملی دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی نتیجہ خیز منصوبہ نظر آتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ”ہم علی امین کا خطاب سننے آئے تھے، لیکن وہ چپ چاپ غائب ہو گئے۔ اگر وہ صوبہ نہیں سنبھال سکتے اور کارکنان کا بھی سامنا نہیں کر سکتے تو مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ”اب خان صاحب کو پارٹی کی تطہیر کرنی ہو گی، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔”

دوسری طرف صوبے کی عوام کی ترجیحات بھی تبدیل ہو چکی ہیں۔ امن و امان کی خراب صورتحال، معاشی بدحالی اور آئے روز کے احتجاجوں سے اکتائے ہوئے شہریوں نے اب تحریک انصاف کے احتجاجی بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔اب پشاور کے اکثریتی عوام بجا طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ احتجاج میں شرکت سے بہتر ہے کہ بچوں کے لیے روٹی کمائی جائے۔” ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف محض ایک خالی خول بن چکی ہے، جس کے اندر نہ جان باقی ہے اور نہ یقین۔ حقیقت میں اس وقت پی ٹی آئی مایوسی، بدنظمی، عوامی بےرخی اور سیاسی سوانگ کی عملی تصویر بن چکی ہے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا5 اگست کا احتجاج ایک علامتی سیاسی جنازہ تھا۔ جس نے پارٹی قیادت کی ناپختگی، تنظیمی انتشار، اور عوام کی بےزاری پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

Back to top button