کچے کے ڈاکوؤں کے 4 خطرناک گینگز نے ہتھیار کیوں ڈال دیئے؟

پنجاب کے کچے کے علاقوں میں دہشت، خوف اور جرائم کی علامت سمجھے جانے والے بدنامِ زمانہ ڈاکوؤں کے چار بڑے گینگز نے پنجاب پولیس کی جانب سے اپنے خلاف شروع کیے گئے منظم اور ٹارگٹڈ گرینڈ آپریشن کے بعد خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ڈاکوؤں نے یہ فیصلہ پولیس کی سرجیکل سٹرائیکس اور ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خوف کے باعث کیا، جس نے کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
پولیس کے مطابق جن تین بڑے ڈاکو گینگز نے باضابطہ طور پر سرنڈر کیا ہے، ان میں عطااللہ پٹ عمرانی، ڈاڈو بنگیانی عرف مچھ کٹا، گورا عمرانی اور وقار عرف وقاری شامل ہیں۔ ان ڈاکوؤں نے حال ہی میں اپنے 44 ساتھیوں سمیت ڈی پی او راجن پور محمد عمران کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ یہ تمام افراد کچے کے وہ بدنام ڈاکو تھے جن کے سروں کی قیمت پنجاب حکومت کی جانب سے ایک، ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ گینگز پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے اور ان پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، راہزنی اور دہشت گردی سمیت سینکڑوں سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
ایک وقت تھا جب ان ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں اینٹی ایئر کرافٹ گنز، ہیوی مشین گنز، سمال مشین گنز، جی تھری رائفلز اور کلاشنکوف جیسے جدید اور خطرناک ہتھیار ہوا کرتے تھے، لیکن آج یہی لوگ امن، مفاہمت اور ترقی کی باتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اغوا برائے تاوان میں ملوث رہنے والے یہی ڈاکو اب حکومت سے اپنے علاقوں میں سکولوں اور ہسپتالوں کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن کے لیے فورس کو جدید تھرمل ڈرونز، آرمرڈ پرسنل کیریئرز، بلٹ پروف گاڑیاں اور ہر قسم کی لاجسٹک مدد فراہم کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ڈاکوؤں کو بالآخر سرینڈر کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی مدد سے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور بنکرز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا اور انہیں واضح وارننگ دی گئی کہ اگر انہوں نے خود کو قانون کے حوالے نہ کیا تو انہیں مزید سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پولیس حکام نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگست 2024 میں ماچھکہ پولیس پر ہونے والے حملے، جس میں 12 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، کے بعد اس واقعے کا مقدمہ 150 سے زائد افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا، حالانکہ حملہ آور چند ہی تھے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، اگر وہ بے گناہ لوگ ڈاکو نہ بنتے تو پھر کیا کرتے؟ ہم نے کمیونٹی کو بھی کہا کہ وہ ڈاکوؤں سے بات چیت کرے، جس کا مثبت نتیجہ نکلا۔‘
افسر کا کہنا تھا کہ’ہم نے عام لوگوں کے دل جیت کر ڈاکوؤں کو سرینڈر کرنے پر مجبور کیا ہے۔ جھوٹی ایف آئی آرز ختم کی جا چکی ہیں اور مزید بھی ختم کی جائیں گی۔‘ آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا کہ، جب ہمیں ڈاکووں کے خلاف گرینڈ آپریشن کی اجازت ملی تو ہم نے ڈرونز کے ذریعے انکی نگرانی کی اور پھر ان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔‘
رحیم یار خان کے ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق ان ڈاکوؤں کی سہولت کاری کرنے والے زیادہ تر ’عام اور شریف لوگ‘ تھے جو ڈاکوؤں کے خوف میں مبتلا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں کامیابی کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ ماضی میں ان ڈاکوؤں کے باعث پورے قبائل مشکلات کا شکار رہے۔ پولیس حکام اس سرینڈر کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ڈی پی او راجن پور محمد عمران کا کہنا ہے کہ ابھی مزید ڈاکوؤں کے بھی سرینڈر کرنے کی توقع ہے۔ دیگر افسران اس کامیابی کو مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون کی مثال قرار دیتے ہیں۔ عرفان سموں نے بتایا کہ اس بار سندھ رینجرز، سندھ پولیس، راجن پور پولیس اور رحیم یار خان پولیس نے مشترکہ طور پر آپریشن کیا۔ انکے مطابق ماضی میں ڈاکو ایک صوبے میں آپریشن ہوتے ہی دوسرے صوبے کی حدود میں چلے جاتے تھے، جس سے کارروائیاں ناکام ہو جاتی تھیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس بار ڈاکوؤں کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کی گئیں اور ڈرونز کے ذریعے نہ صرف حملے کیے گئے بلکہ فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب بھی کیا گیا۔
ماضی میں بھی کچے کے علاقوں میں آپریشن اور سرینڈر ہوتے رہے، تاہم ڈاکو دوبارہ سرگرم ہو جاتے تھے۔ اس بار پولیس نے حکومت پنجاب کو باقاعدہ ’پوسٹ آپریشن پالیسی‘ پیش کی ہے، جس کے تحت مقامی مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی، جن میں پولیس، قبائلی سردار، امن کمیٹیاں اور سول انتظامیہ شامل ہو گی۔
پالیسی کے مطابق کچے کے علاقوں میں سکول، سڑکیں اور ہسپتال بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ ڈی پی او راجن پور کے مطابق سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم انہیں عوامی مدعیت میں درج مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر سرینڈر کی فوٹیجز وائرل ہونے کے بعد جدید اسلحے سے متعلق بھی سوالات اٹھے، جس پر ڈی پی او نے وضاحت کی کہ کچے میں تین اینٹی ایئر کرافٹ گنز تھیں، جن میں سے دو آپریشن کے دوران تباہ ہو گئیں جبکہ ایک سندھ کی حدود میں تھی۔ دیگر جدید ہتھیار بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحویل میں لے لیے ہیں۔ پولیس نے ان علاقوں کے لیے 500 اہلکاروں پر مشتمل ایک نئی کچہ کمیونٹی فورس بنانے کی سفارش بھی کی ہے، جس میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ اگرچہ ماضی میں مقامی سرداروں پر ڈاکوؤں کی پشت پناہی کے الزامات رہے ہیں، تاہم اس بار پولیس کے مطابق سردار شمشیر مزاری، سردار خضر مزاری، سردار نثار خان کھڑد اور سردار حمیداللہ کھڑد نے ڈاکوؤں کا سرینڈر کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سانحہ گل پلازہ: آج ٹیکنیکل ٹیم آخری بار معائنہ کرے گی اسکے بعد عمارت سیل کردینگے، ڈی سی
پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس عمل میں سول اور فوجی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے کردار کا بھی اعتراف کیا ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا کچے کے علاقوں میں واقعی امن بحال ہو چکا ہے؟
کچے کے ایک رہائشی عبدالغفور کے مطابق اغوا، قتل اور بھتے کے واقعات اب ختم ہو چکے ہیں۔ انکے مطابق اب رات ایک بجے بھی سڑک پر جا سکتے ہیں، کہیں کوئی ڈاکو نظر نہیں آتا۔ ہم امن کے لیے ترس گئے تھے اور آج اپنی آنکھوں سے امن واپس آتا دیکھ رہے ہیں۔
