ایک جج نے جرنیلوں کی پتلونیں اتارنے کی خواہش کیوں ظاہر کی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے آج کل میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو عہدوں کے حصول اور نوکریاں بچانے کیلئے طاقتور لوگوں کے سامنے جھکتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایک جج صاحب بہت یاد آتے ہیں جو واقعی معزز تھے۔ اس معزز جج کی یاد اسلئے آئی ہے کہ اگر وہ بھی کسی بند کمرے میں تھوڑا سا جھک جاتے تو بڑی آسانی سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن جاتے۔ وہ مزید جھکتے جھکاتے سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتے اور پھر ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان بھی بن جاتے لیکن وہ ایک اصول پسند جج تھے لہٰذا نہ تو بند کمرے میں جھکے نہ ہی کسی عدالتی فیصلے میں اپنے آپ کو گرایا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ اس بہادر جج نے کسی کرنل یا بریگیڈیئر کے سامنے نہیں بلکہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کے سامنے جھکنے سے انکار کیا جس نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ کردیا۔ اس بہادر اور دیانتدار جج کا نام جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی تھا جو جسٹس کے ایم صمدانی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ اگر ہم جسٹس صمدانی کی زندگی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو یقین نہیں آتا کہ کوئی جج اتنا درویش بھی ہو سکتا ہے کہ سچائی اور انصاف کی خاطر عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں کے پاس پہنچ کر بھی سب کچھ ٹھکرا دیا۔ جب جسٹس کے ایم صمدانی نے ایک نوجوان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے کام شروع کیا تو جنرل ایوب خان پاکستان کے حکمران تھے۔ ایک دن عدالت میں بیٹھے تھے کہ ایک خاتون حکمرانِ وقت کی والدہ کا سفارشی خط لیکر آئیں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ خاتون نے بڑی تمکنت سے کہا جنرل ایوب خان کی والدہ کا خط ہے۔ جج صاحب نے یہ خط پھاڑ کر آتش دان میں پھینک دیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ جب جسٹس صمدانی کی پوسٹنگ سیالکوٹ میں تھی تو ایک دن چیف جسٹس آف پاکستان اے آر کارنیلئس ایک ڈسپنسری کے افتتاح کیلئے وہاں آئے۔ ڈسپنسری کا افتتاح وہ ذاتی حیثیت میں کرنے آئے۔ شہر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے ایم صمدانی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا استقبال کرنا چاہئے تھا لیکن یہ انکے فرائض میں شامل نہ تھا لہٰذا انہوں نے چیف جسٹس کو نظر انداز کردیا۔ رقیبوں نے چیف جسٹس کے سامنے کافی لگائی بجھائی کی لیکن اے آر کارنیلئس بھی ایک اصول پرست جج تھے انہوں نے کے ایم صمدانی کی گستاخی نظرانداز کردی۔ 1972ء میں جسٹس کے ایم صمدانی کو لاہور ہائیکورٹ میں جج مقرر کردیا گیا۔ 1977ء میں مارشل لانافد ہوگیا تو کچھ عرصے کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس بن گئے۔
اس دوران ذوالفقار علی بھٹو پر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کا پرانا مقدمہ کیس کر دوبارہ تحقیقات شروع کردی گئیں۔ مقدمہ بھٹو صاحب کی وزارت عظمیٰ میں لاہور پولیس نے درج کیا تھا لیکن دوبارہ تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی گئی۔ بھٹو صاحب کوٹ لکھپت جیل میں تھے اور انکے وکلا ہائیکورٹ کے ذریعہ بھٹو صاحب کیلئے چھوٹی چھوٹی سہولتیں حاصل کرنے لگے جنکی قانون میں گنجائش موجودتھی۔ ایک مرتبہ جسٹس کے ایم صمدانی نے بھٹو صاحب کو جیل میں کاغذ اور قلم فراہم کرنیکا حکم دیا تو انکے ساتھی جج جسٹس مولوی مشتاق حسین انکے پاس آئے اور کہا کہ صمدانی صاحب آپ تو بھٹو کو کچھ زیادہ ہی فیور دے رہے ہیں۔ صمدانی صاحب نے جواب میں کہا کہ بطور جج میں آپ کا ماتحت نہیں مجھے بہتر علم ہے کہ میں نے عدالت میں کیا کرنا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی۔ جسٹس کے ایم صمدانی قائم مقام چیف جسٹس تھے وہ یہ درخواست ضمانت کسی دوسرے جج کو ریفر کرکے اپنی جان چھڑا سکتے تھے لیکن انہوں نے بطور سینئر جج اپنی عدالت میں اس درخواست کی سماعت کی اور بھٹو صاحب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
حامد میر کے بقول ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت پر رہائی نے جنرل ضیاءالحق کو آگ بگولا کر دیا۔انہوں نے پنجاب کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے پوچھا کہ تم نے بھٹو کو رہائی کے بعد گرفتار کیوں نہ کیا؟ جنرل اقبال نے جواب میں کہا کہ بھٹو کیخلاف کوئی دوسرا کیس نہیں تھا۔ چنانچہ بھٹو کو مارشل لا ریگولیشن کےتحت دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ جسٹس مولوی مشتاق حسین کے جنرل ضیاء الحق سے قریبی روابط تھے۔ وہ پہلے ہی جنرل ضیاء کو جسٹس کے ایم صمدانی سے بدظن کر چکے تھے لہٰذا صمدانی صاحب کو انکے عہدے سے ہٹا کر وفاقی سیکرٹری قانون لگا دیاگیا اور مولوی مشتاق حسین لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے۔
1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جنرل ضیاء الحق ایک ایسے خونخوار فوجی ڈکٹیٹربن چکے تھے جن کو امریکا کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ ایک دن فوجی ڈکٹیٹر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہا تھا۔ اجلاس میں تمام وفاقی سیکرٹری بھی موجود تھے۔ فوجی ڈکٹیٹر نے بڑی رعونت سے کہا کہ بعض وفاقی سیکرٹری بڑے کرپٹ ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ انکی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ اس فقرے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔ تمام سیکرٹری ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ سب خاموش تھے کیونکہ انہیں اپنی نوکریوں کی فکر تھی۔ لیکن جسٹس کے ایم صمدانی بدستور جج تھے کیونکہ وہ ڈیپوٹیشن پر لا سیکرٹری بنائے گئے تھے۔ وہ اجلاس میں کھڑے ہو گئے اور کہا کہ جنرل صاحب! میرا بھی جی چاہتا ہے کہ کرپٹ جرنیلوں کی پتلون اتار کر انہیں الٹا لٹکا دوں۔ یہ سن کر جنرل ضیاء سٹپٹا گئے۔ اجلاس میں بریک لیا گیا تو ضیاء نے جسٹس صمدانی کو علیحدگی میں بلایا اور کہا کہ آپ مجھ سے معذرت کریں۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے جواب دیا کہ اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی آپ اپنے الفاظ واپس لیں تو میں بھی اپنے الفاظ واپس لے لوں گا۔ ضیاء نے معذرت سے انکار کیا تو جسٹس صمدانی نے بھی معذرت سے انکار کر دیا۔
الیکشن کے 1 برس بعد بھی اسمبلیوں میں 77 مخصوص نشستیں خالی
حامد میر کا کینا یے کہ مارچ 1980ء میں پیش آنیوالا یہ واقعہ جسٹس کے ایم صمدانی نے سیبئیر صحافی عامر خاکوانی کو خود سنایا تھا۔ چنانچہ جنرل ضیاء نے انہیں واپس لاہور ہائیکورٹ بھیج دیا۔ 1981ء میں ضیا جنتا کی اقنب سے تمام ججوں سے کہا گیا کہ پی سی او پر حلف لو۔ جسٹس کے ایم صمدانی نے یہ حلف لینے سے انکار کردیا۔ ساتھی ججوں اور وکلا نے کہا کہ جج صاحب حلف لے لیں اور چیف جسٹس بن جائیں۔ انکی عمر صرف 46 برس تھی۔ انہیں کہا گیا کہ آپ تو لاہور ہائیکورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بن جائیںگے۔ لیکن جج صاحب تو اصولی تھے۔ لہٰذا اپنے انکار پر قائم رہے اور استعفیٰ دیدیا۔ اس وقت ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ پھر انکے دربدر ہونے کی ایک لمبی کہانی ہے لیکن اس درویش جج کا جرنیل کے سامنے انکار اسے تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر کر گیا۔ تاہم آج کے ججز کو تاریخ میں اپنا نام زندہ رکھنے کا کوئی شوق نہیں لہٰذا وہ بند کمروں میں اقرار کر کے بہت کچھ پا لیتے ہیں۔
