مسلسل کوشش کے باوجوداچکزئی اپوزیشن لیڈربننے میں ناکام کیوں؟

عمران خان کی جانب سے دو ماہ پہلے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے باوجود ابھی تک ان کی تقرری نہیں ہو پائی جبکہ عسکری قیادت اور شہباز حکومت کو ہدف تنقید بنانے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی کے جارحانہ بیانات، اڈیالہ جیل اور پارلیمنٹ پر حملے کی دھمکیوں اور حکومت و اسٹیبلشمنٹ پر الزام تراشیوں کی وجہ سے نہ صرف سرکار ان کے اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے بلکہ تحریک انصاف کی قیادت بھی عمران خان کے پرائی جماعت کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر معترض ہے۔ مبصرین کے مطابق اپنوں و بیگانوں کی جانب سے مخالفت کے بعد محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننا ناممکن دکھائی دیتا ہے
یاد رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل 6اکتوبر 2025 کو عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی نامزدگیاں کی گئی تھیں حالانکہ دونوں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ محمود اچکزئی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں جبکہ علامہ عباس ناصر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ ہیں۔ تاہم عمران خان نے پھر بھی انہیں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلیوں کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا جسے پی ٹی آئی میں اظہار عدم اعتماد کے طور پر دیکھا گیا۔ عمران خان کے اس فیصلے نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ناراضی اور مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کے بعد محمود خان اچکزئی نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے چکر میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر لے لیا اور اپنے خطابات اور پریس کانفرنسز میں فوجی قیادت پر تنقید، الزامات اور دھمکیوں کی بوچھاڑ کر دی۔
تاہم اب تازہ اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کی اڈیالہ جیل کے باہر کی گئی اس گفتگو کا نوٹس لے لیا ہے جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر دھاوا بولنے اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے سے روک دینے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ تحریک انصاف کے بانی سے ان کی جماعت کے رہنمائوں کی ملاقات ممکن ہو اور انہیں رہائی دلائی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے دھمکی دی تھی کہ عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو وہ کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل پر حملہ کر کے عمران خان کو رہا کروا لیں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومت و اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کی وجہ سے محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے امکانات پہلے ہی معدوم تھے تاہم اب محمود خان اچکزئی کے جارحانہ بیانات نے ان کے قائد حزب اختلاف بننے کے رہی سہی امید بھی ختم کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے سرکردہ ارکان کے ایک وفد نے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق سے ان کے چیمبر میں ملاقات کرکے ان سے عمران خان سے ملاقات کے لیے مدد مانگی تھی، حکومتی ناراضی کی وجہ سے محمود خان اچکزئی کو اس وفد سے باہر رکھا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے جارحانہ بیانات کے باوجود پی ٹی آئی انھیں قطعا اپوزیشن لیڈ بنوانے کے حق میں نہیں ہے
عمران خان کی بہنیں بھارتی چینلز کو انٹرویو دینے پر تنقید کی زد میں کیوں؟
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں سپیکر ایاز صادق جبکہ سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ جب تک ان دونوں ایوانوں کے پریذائیڈنگ افسران یعنی سردار ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کی نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپنے دستخطوں کے ساتھ جمع کروائی گئی درخواست کی تصدیق نہیں ہوتی، کسی بھی شخص کا اپوزیشن لیڈر بننا نا ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کے بیانات کی وجہ سے ہی قومی اسمبلی میں آزاد قرار دیے گئے تحریک انصاف کے ارکان کی طرف سے جمع کروائی گئی اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی درخواست وصولی کا اعلامیہ بھی ابھی تک سپیکر چیمبر سے جاری نہیں ہو پایا۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کی نشست پر تقرری سے پہلے سپیکر ایوان میں اس منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرینگے جس کے بعد ارکان سے نامزدگی کے لئے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کے تقرر سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی موصول ہونے والی درخواست پر ارکان کی جانب سے کیے گے دستخطوں کی انفرادی طور پر تصدیق کرینگے۔ اگر کسی ایک بھی رکن کے دستخط دو نمبر نکلے اور ان کی تصدیق نہ ہوسکی تو پوری درخواست کو مسترد کردیا جائے گا۔
