آفریدی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا چیلنج کیوں بن گئی؟

پاکستانی سیاسی منظر نامے پر اس وقت سب سے گھمبیر اور بڑا چیلنج خیبر پختونخوا میں وزیراعلی سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ بلکہ تحریکِ انصاف کے لیے بھی مسلسل بڑھتی ہوئی پریشانی کا باعث ہے۔ عمران خان کی حالیہ عاصم منیر مخالف ٹوئیٹ اور راولپنڈی میں ہونے والی فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس نے واضح کر دیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان محاذ آرائی کی نئی لہر جنم لے چکی ہے جس کا مرکز کے پی بنتا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ چند دنوں میں ہونے والے واقعات میں نے پی ٹی آئی کے لیے حالات کو اور مشکل تر بنا دیا ہے۔ عمران خان تک ان کے خاندان کے افراد اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی رسائی محدود کیے جانے اور عمران خان کے خلاف غداری کے ممکنہ کیسز نے پارٹی قیادت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں عمران خان کی جیل سے رہائی کا بچا کھچا امکان بھی ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ خیبر پختون خوا میں علی امین گنڈاپور کی فراغت کے بعد سہیل آفریدی کی حکومت بنی ہوئی ہے۔ علی امین گنڈاپور کی اقتدار سے بے دخلی نے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی آخری درجے تک پہنچا دی ہے چنانچہ اب صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی افواہیں گرم ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ایک بڑا آپریشن ضروری ہے لیکن سہیل آفریدی کی حکومت اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ صوبے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب خیبر پختون خواہ کو نہ رکنے والی دہشت گردی کا سامنا ہے، جس نے نہ صرف سیاسی فضا کو کشیدہ کر رکھا ہے بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بھی کہیں زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی مخالفت کے علاوہ ماضی کی فوجی کارروائیوں کے منفی اثرات کے باعث عوامی سطح پر فوجی آپریشن کے لیے عوامی حمایت موجود نہیں۔ اور یہی مؤقف سہیل آفریدی کی حکومت بھی اپنائے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں اگر گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے تو یہ قدم فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج لگا کر پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے سے اس کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے عوام میں ریاست مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے شدت پسندی پر قابو پانے کی کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ صوبے میں کسی مضبوط سیاسی متبادل کی عدم موجودگی صورتحال کو اور بھی مشکل کر دے گی۔ صوبے میں اے این پی اور جے یو آئی ایف پہلے ہی کمزور ہیں لہذا ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے عوامی حمایت نہ مل سکے۔

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے 13 برس سے کے پی میں اقتدار کے مزے لوٹنے والی تحریک انصاف کی حکومت بھی اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ کرپشن کے الزامات اور غیر مؤثر حکمرانی نے صوبے میں عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے چنانچہ گورنر راج نافذ کر کے کسی انتظامی سیٹ اپ کے قیام کی کوششیں نئے مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی بھی اپنے اندرونی چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خیبر پختون خواہ میں حکومت چلانے کے لیے اسے بالآخر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت کرنا ہو گی۔ لیکن بظاہر عمران خان کی جماعت انکی رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ پر عوامی دباؤ ڈال لیں میں ناکام رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے لیے مستقبل کا راستہ بہرحال مذاکرات اور مکالمہ ہی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ مرحلہ آسان نہیں لگتا۔ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے مسلسل فوج مخالف بیانیے کی وجہ سے ان کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ چنانچہ اس صورتحال میں کسی قسم کا درمیانی راستہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا، لہٰذا کوئی غیر متوقع پیش رفت ہی اس جمود کو توڑ سکتی ہے۔

عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا : بیرسٹر گوہر

فی الحال سب سے بڑا چیلنج مرکز اور پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت کے پی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی ہے۔ نہ گورنر راج اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسان حل ہے، نہ پی ٹی آئی کے لیے قابلِ قبول ہے۔ یوں بظاہر یہی لگتا ہے کہ لفظی جنگ اور سیاسی کھینچا تانی ابھی جاری رہنے والی ہے، اور کسی فوری سیاسی حل کا امکان فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔

Back to top button