علیمہ خان 8 فروری کی احتجاج کی کال سے پیچھے کیوں ہٹ گئی؟

پی ٹی آئی کارکنان کی احتجاجی سیاست سے مسلسل لاتعلقی کے بعد اب عمران خان کی فیملی بھی کھل کر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے 8 فروری کو دی جانے والی احتجاجی کال سے نہ صرف خود کو الگ کر لیا ہے بلکہ واضح کر دیا کہ اس احتجاج کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں۔ علیمہ خان کے مطابق پہیہ جام ہڑتال کی کال عمران خان نے نہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے دی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کے اعلان نے یومِ احتجاج کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، جس کے بعد 8 فروری کا احتجاج عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے اور احتجاجی مہم کی اندرونی کمزوری پوری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں کی احتجاجی سیاست میں عدم دلچسپی نے خان فیملی کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کی واضح مثال ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر کارکنوں کو جمع کرنے میں پیش آنے والی مسلسل ناکامیاں ہیں۔ گزشتہ منگل کو ’’اڈیالہ کے باہر دس ہزار‘‘ کا نعرہ خود تحریک انصاف اور علیمہ خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر دیا گیا، تاہم موقع پر پانچ سو افراد بھی اکٹھے نہ ہو سکے۔ اعلان کے مطابق قرآن خوانی کے بجائے آنے والے چند کارکنوں نے محض علیمہ خان کی خوشنودی کے لیے نعرے بازی پر اکتفا کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی قسم کی پولیس کارروائی کے بغیر، شدید سردی شروع ہونے سے پہلے ہی کارکن خود ہی منتشر ہو گئے۔ کئی ہفتوں بعد یہ بھی پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ پولیس نے نہ پانی کی توپ چلائی، نہ آنسو گیس استعمال کی اور نہ ہی لاٹھی چارج کی، بلکہ محض پوزیشن سنبھالنے سے ہی احتجاج دم توڑ گیا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ منگل کو علیمہ خان کی ہدایات پر اڈیالہ جیل کے باہر سورۃ یٰسین کا ختم کرایا گیا تھا جس کے بعد قرآن خوانی کا سلسلہ شروع کیا گیا، تاہم اب جبکہ 8 فروری سے پہلے صرف تین منگل باقی رہ گئے ہیں، تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کو مکمل طور پر مذہبی رنگ دینے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ تاہم تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود عمرانڈو اڈیالہ جیل کے باہر آ کر دھلائی کروانے سے انکاری ہیں۔ ناقدین کے مطابق مذہبی ٹچ اور سیاسی شعبدہ بازی کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کی نام نہاد عوامی مقبولیت کا غبارہ بھی پنکچر ہو گیا ہے۔ علیمہ خان کی جذباتی اپیلوں اور عمرانڈو رہنماؤں کے بلندوبانگ دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار بندے جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد تحریک انصاف کا مستقبل میں بھرپور عوامی احتجاجی تحریک چلانے کا خواب وقت سے پہلے ہی چکنا چور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق عمران خان کی بہنیں دھرنوں میں کارکنان کی شرمناک حد تک کم تعداد پر سخت دل برداشتہ اور مایوس نظر آتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کارکنان کی تعداد کسی طرح بڑھا دی جائے تو حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ڈراما کامیابی سے کھیلا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گزشتہ منگل عمران خان کی بہنوں نے بھی بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دھرنے کو مذہبی رنگ دینے کا فیصلہ کیا۔ حکمتِ عملی یہ طے پائی کہ اس بار دھرنے کے مقام پر سورۂ یٰسین کا ختم کرایا جائے گا، تاکہ ایک تیر سے دو شکار کیے جا سکیں۔ ایک طرف دھرنے کو مذہبی رنگ ملے گا اور دوسری طرف سورۂ یٰسین کی تلاوت کے دوران انتظامیہ واٹر کینن استعمال نہیں کر سکے گی۔ اگر اس کے باوجود کارروائی کی گئی تو مذہبی بیانیے کے ساتھ سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے دس ہزار کارکنان کا ہدف مقرر کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی گئی۔ اعلان کیا گیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام چھوٹے بڑے عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور ارکانِ اسمبلی کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ اس مہم میں درجنوں پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس متحرک رہے جبکہ خود علیمہ خان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ سے اس حوالے سے بھرپور پیغام جاری کیا۔ لیکن جب معرکے کا دن آیا تو اڈیالہ جیل پہنچنے والوں کی تعداد محض ساڑھے چار سو سے پانچ سو کے درمیان رہی۔ جس نے نہ صرف تمام منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا بلکہ علیمہ خان کی تمام امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔
ونڈر بوائے نظام چلانے کے لیے آئے گا یا قربانی دینے کے لیے؟
علیمہ خان کے ساتھ دھرنے میں شریک ایک کلٹ فالوور کے مطابق کارکنان کی اس قدر کم تعداد دیکھ کر عمران خان کی بہنیں شدید مایوس اور دل برداشتہ نظر آئیں۔ انہوں نے اردگرد موجود کارکنان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کارکنان کیوں سو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف راولپنڈی ڈویژن میں ہی چھوٹے بڑے ملا کر پانچ ہزار پارٹی عہدیداران ہیں، اگر صرف یہی لوگ نکل آئیں تو دس ہزار کا ہدف پورا ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے پینتالیس فیصد اور پنجاب سے پینتیس فیصد ووٹ لینے اور ملک کی سب سے مقبول جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی آئی، تمام تر کوششوں کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر محض دس ہزار کارکنان کیوں جمع نہیں کر پا رہی؟ ناقدین کے مطابق عوام اب پارٹی کے دوہرے معیار، قیادت کی اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کو سمجھ چکے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو خود غرض قیادت کا ایندھن بنانے پر آمادہ نہیں۔ عوام نے دیکھ لیا ہے کہ نو مئی اور چھبیس نومبر کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کو کس طرح بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا، ان کی زندگیاں اور خاندان برباد ہو گئے۔ لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا مہم چلانے والے اپنے بچوں کو تو محفوظ رکھتے ہیں، مگر دوسروں کے بچوں کو قربانی کے لیے اکساتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عوام کا اصل شعور بیدار ہو چکا ہے، اور اسی بیداری کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی نام نہاد مقبولیت کا جنازہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔
